بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / لطیف لطائف!

لطیف لطائف!

تصویر کا پہلا رخ یہ ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور عملاً دکھا دیا کہ وہ اِداروں کا کس حد تک احترام کرتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کے پاس جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہو کر ان الزامات کا دفاع کرنے کے سوا کیا کوئی دوسری ایسی صورت تھی‘ جو انہیں مالی بدعنوانی کے الزامات سے نجات دلا سکے؟
اقتدار کی طاقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی جماعتوں کی ہمیشہ سے کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے اپنے دور حکومت کے دوران ہی ہر قسم کی آئینی و ادارہ جاتی مقدمات و تحقیقات سے گلوخلاصی کروا لیں۔ اصولی اور اخلاقی طور پر ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے قبل مستعفی ہو جاتے تاکہ اُن کے سیاسی مخالفین کو یہ کہنے کا موقع ہی نہ ملتا کہ وہ تحقیقات پر اَثرانداز ہو رہے ہیں کیا وزیراعظم کسی دوسرے ملک کی عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں جس سے پاکستان کے وقار پر حرف آیا ہے یا وہ اپنے ہی ماتحت ادارے کی طلبی پرحاضر جناب ہو کر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ دیکھو آئین و قانون سے کوئی بالاتر نہیں؟ جے آئی ٹی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرنیوالوں کو سمجھنا چاہئے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ناموں کو سپریم کورٹ نے منظور کرکے پاناما لیکس کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو حتمی شکل دی تھی اور اس میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن واجد ضیاء سربراہی کر رہے ہیں جنکا تعلق پولیس سروس سے ہے۔ آپ دو مرتبہ خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو اور موٹروے پولیس میں خدمات سرانجام دے چکے ہیں اگرچہ ان کا پولیس جیسے ادارے میں تجربہ محدود ہے لیکن وہ حج سکینڈل کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے کہنے کا مطلب ہے کہ وہ سیاستدانوں سے نمٹنے کا ہنر جانتے ہیں۔

اِن کے علاوہ کمیٹی کے دیگر اراکین میں ایم آئی کے بریگیڈئر کامران خورشید‘آئی ایس آئی کے بریگیڈئر نعمان سعید‘ نیب کے گریڈ بیس کے افسر عرفان نعیم منگی‘ سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے بلال رسول اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے عامر عزیز شامل ہیں۔ عامر عزیز بھی اکیس گریڈ کے سرکاری افسر ہیں۔ وہ مشرف کے دور اقتدار میں نیب کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ بلال رسول ایس ای سی پی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات ہیں اور انہوں نے انیس سو ترانوے میں کارپوریٹ لاء اتھارٹی میں شمولیت اختیار کی‘ جہاں انہوں نے اپیلٹ بنچ کے رجسٹرار اور سیکرٹری کمیشن کے طور پر خدمات سرانجام دیں آپ اردو کے علاوہ انگریزی‘ پنجابی اور عربی زبانیں روانی سے بول سکتے ہیں۔ جے آئی ٹی کے رکن عرفان نعیم منگی کا تعلق اُس قومی احتساب بیورو (نیب) سے ہے‘ جس کے بارے میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ ادارہ عملاً دفن ہو چکا ہے! نعیم منگی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنہیں ’’وائٹ کالر جرائم‘‘ کی تہہ تک پہنچنے کی مہارت حاصل ہے لیکن اب تک انہوں نے اپنی اِس مہارت سے کتنے ’وائٹ کالر مجرموں‘ کو کیفرکردار تک پہنچایا‘ یہ بیان تفصیل کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں! جے آئی ٹی کا رکن بننے کا قرعہ فال ریٹائرڈ بریگیڈئر محمد نعمان سعید کے نام بھی نکلا‘ جو آئی ایس آئی کے کسی ایک اندرونی سکیورٹی ونگ کے ڈائریکٹر ہیں‘۔

آپ دوہزار سولہ میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ’جے آئی ٹی‘ کے اِن سبھی اراکین نے تحریری طور پر ’سپریم کورٹ‘ کو آگاہ کیا ہے کہ اُنہیں‘ اُن کے اہل خانہ (بال بچوں) اور اُن کی ملازمتوں کو خطرہ درپیش ہے! پاکستان کی تاریخ میں اگر ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ وزیراعظم اور اُن کے اہل خانہ کسی تحقیقاتی کمیٹی کے مشکوک ذرائع آمدنی کی وضاحت اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کے طریقۂ کار کے دستاویزی ثبوت دینے کے لئے پیش ہو رہے ہیں تو یہ بات بھی پہلی مرتبہ ہو رہی ہے کہ ملک کے سب سے مضبوط سمجھے جانے والے خفیہ ادارے جسکی دھاک پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اُس کے اہلکاروں کو کسی گاڈ فادر سے خطرات لاحق ہیں! اگر حکمراں خاندان نے دستاویزی ثبوت دینے ہوتے تو وہ پہلے ہی سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر پیش کر دیتے‘ جو زیادہ بااختیار‘ باوقار اور حسب حیثیت سپریم فورم ہے۔ یوں کسی ملک کے حکمران کی بیس‘ اکیس گریڈ کے (ماتحتوں کے سامنے پیش ہوکر شہ سرخیوں کا حصہ بننے سے ایک اسلامی جمہوریہ کے حکمرانوں اور مالی بدعنوانیوں کو کیا نیک شگون قرار دیا جاسکتا ہے! نجانے یہ امر ’قومی مشغلہ‘ کیسے بن گیا ہے کہ ہم اپنا اور دوسروں کا ’قیمتی وقت‘ ضائع کرنے سے لطف پاتے ہیں!؟