بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / آرمی چیف کی پشاور میں گفتگو

آرمی چیف کی پشاور میں گفتگو

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کورہیڈ کوارٹر پشاور کے دورے میں دیگر اہم امور پر بات کرنے کیساتھ فاٹا اصلاحات کو امن کے قیام کیلئے ناگزیر قرار دیا جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کو برادر اسلامی ملک سمجھتے ہیں دہشت گرد ہمارے مشترکہ دشمن ہیں افغانستان الزام تراشیوں کی بجائے اعتماد پر مبنی مشترکہ کوششیں کرے ڈرو ن حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچاتے ہیں قبائلی علاقوں میں اصلاحات کی ضرورت واہمیت سے متعلق جنرل قمر جاوید باجوہ کہتے ہیں کہ فاٹا میں امن واستحکام کے لئے اصلاحات کا عمل ناگزیر ہے پاک فوج اصلاحات کے حوالے سے ہر طرح کا تعاون فراہم کریگی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا آپریشن سے حاصل کامیابیوں کو امن واستحکام کے لئے برقرار رکھیں گے قبائلی علاقوں کو اصلاحات کے ذریعے قومی دھارے میں لایا جاسکتا ہے افغانستان اور ڈرون حملوں سے متعلق پاکستان کا موقف واضع ہے جسکا احساس افغان حکمرانوں اور امریکہ سمیت عالمی برادری کو کرنا چاہیے افغان حکمرانوں کو آئے روز پاکستان کے خلاف الزام تراشی کی بجائے ارضی حقائق کی روشنی میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہنا چاہیے۔

جہاں تک فاٹا اصلاحات کا سوال ہے تو قبائلی علاقوں کی تعمیر وترقی‘ قبائلی عوام کو بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی اور وسیع علاقے کو قومی دھارے میں لانے کی ضرورت سے انکارنہیں کیا جاسکتا حکومت کی جانب سے خصوصی کمیٹی کے رابطوں کے بعد اصلاحات کے پروگرام کا اعلان کیا جاچکا ہے اس میں کسی کے بھی خدشات اور تحفظات مل بیٹھ کر طے کرنے کی گنجائش موجود ہے اصل ضرورت اصلاحات کے پروگرام پر عمل درآمد کے لئے موثر حکمت عملی ترتیب دینے کی ہے اس پلاننگ کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں خیبر پختونخواسمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر آگے کی جانب بڑھا جائے سیاسی قیادت اکثر معاملات ہمیشہ سے مذاکرات کی میز پر ہی سلجھاتی رہی ہے فاٹا سے متعلق امور بھی بات چیت کے ذریعے طے کئے جاسکتے ہیں اس سب کے ساتھ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نچلی سطح پر عوامی نمائندگی کیساتھ بنیادی مسائل کے حل میں معاون ثابت ہوگا اور لوگ تبدیلی کا احساس پائیں گے۔

صوبائی بجٹ اور مارکیٹ کنٹرول

خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالی سال2017-18کے لئے603ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے بجٹ میں درزیوں پر عائد ٹیکس میں ردوبدل کرتے ہوئے اس میں صرف شلوار قمیض کی سلائی کرنے والوں کو مستثنیٰ قرار دیدیاگیا ہے ٹیکسوں میں ہونیوالا باقی ردوبدل اپنی جگہ برقرار ہے ہمارے ہاں روایت رہی ہے کہ حکومت کی جانب سے عائد ہونیوالے کسی بھی معمولی ٹیکس کا بوجھ عام صارف تک پہنچتے پہنچتے کئی گنا زیادہ ہوچکا ہوتا ہے پٹرول ایک روپیہ لیٹر بھی مہنگا ہوتو کرائے فوراً کئی کئی گنا زیادہ بڑھ جاتے ہیں صوبائی حکومت کو نئے مالی سال میں اس بات کی کڑی مانیٹرنگ کا انتظام کرنا ہوگا کہ مارکیٹ میں لوگوں پر بوجھ کم سے کم پڑے مارکیٹ کنٹرول کی کڑی نگرانی کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت بھی ہنوز موجود ہے بھاری مقدار میں مضر صحت دودھ اور کھویا تلف ہونا اس بات کا عکاس ہے کہ ملاوٹ کے خاتمے کیلئے بہت کچھ کرنا باقی ہے اس میں خصوصاً فوڈ ٹیسٹنگ سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس مانگی جائیں ذمہ دار اداروں پر واضح کردیا جائے کہ برسوں کا بگاڑ انکے دوچار چھاپوں سے سنوار میں تبدیل نہیں ہوگا اسکے لئے مسلسل کام کرنا ہوگا۔