بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سابق رکن صوبائی اسمبلی کے اثاثوں کی تحقیقات شروع

سابق رکن صوبائی اسمبلی کے اثاثوں کی تحقیقات شروع

پشاور۔قومی احتساب بیورو خیبرپختونخوا نے سابق رکن صوبائی اسمبلی طہماش خان کے غیرقانونی اثاثوں سے متعلق تحقیقات کی منظوری دے دی ہے جبکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرڈاکٹراحسان علی کے خلاف جاری انویسٹی گیشن کوانکوائری میں تبدیل کردیاہے اگلے مرحلے میں ریفرنس دائرکئے جانے کاامکان ہے اس بات کافیصلہ نیب خیبرپختونخواکی ریجنل بورڈ کے اجلاس میں کیاگیا جس کی صدارت ڈائریکٹرجنرل نیب فاروق نصیراعوان نے کی اجلاس میں سابق رکن صوبائی اسمبلی حلقہ پی کے 8طہماش خان کے غیرقانونی اثاثوں سے متعلق انکوائری کی منظوری دی گئی اوراس حوالے سے سفارشات چیئرمین نیب کو ارسال کردی گئیں۔

ڈائریکٹرایف اینڈپی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈٹیکنالوجی نیک محمد کے خلاف بھی انکوائری کی منظوری دی گئی جس پرلیبارٹری کے آلات کی خریداری میں207.5ملین روپے خوردبرد اور پی ایچ ڈی سکالرشپ فنڈ کی ادائیگی میں128ملین روپے بطوررشوت وصول کئے جانے کے الزامات ہیں اجلاس میں دوانکوائریز کو انویسٹی گیشن میں تبدیل کرنے کافیصلہ کیاگیا جن میں سابق وی سی عبدالولی خان یونیورسٹی ڈاکٹراحسان علی جن پر خریداری اورسکالرشپ کی مد میں کروڑوں روپے خوردبرد کرنے کاالزام ہے اسی طرح ایم ڈی میاں عارف اللہ جان اینڈکمپنی پرباجوڑ ایجنسی فاٹامیں برنگ روڈ کی تعمیرات میں میٹریل میں خوردبرد کرنے کاالزام ہے۔

اجلاس میں تین ریفرنس دائرکرنے کی بھی منظوری دی گئی پہلاریفرنس طارق اعوان سابق سیکرٹری ورکرزویلفیئربورڈ کے خلاف ہے جن پر ایک ارب سے زائد روپے خوردبرد کرنے کاالزام ہے اسی طرح دوسرا ریفرنس عبدالرحمان سپرنٹنڈنٹ اورپی اے ٹوڈائریکٹرلینڈریکارڈ بورڈ آف ریونیوکے خلاف ہے جن پر93 ملین روپے مالیت کے غیرقانونی اثاثے بنانے کاالزام ہے جبکہ محمدایازقریشی سابق ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر بٹگرام پر1کروڑ40لاکھ روپے خوردبرد کرنے کاالزام ہے