بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / یورپ میں جہادی سرگرمیوں میں خواتین سرگرم

یورپ میں جہادی سرگرمیوں میں خواتین سرگرم

نیویارک۔یورپ میں مسلسل تین برسوں میں گذشتہ برس کے دوران اسلامی شدت پسندی کے شبے میں یورپ میں گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔یورپی پولیس کے مطابق گذشتہ برس 718جہادی دہشت گردی کے شبے میں گرفتار ہوئے جبکہ 2015تک یہ تعداد 687اور 2014میں یہ تعداد 395تھی۔تاہم 2015میں حملوں کی تعداد 17تھی جو 2016میں کم ہو کر 13ہوگئی۔ان حملوں میں سے چھ کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے تھا۔اس رپورٹ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دائیں بازو کے گروپوں کی جانب سے پرتشدد حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یورپی یونین میں دہشت گردی کی صورتحال کے حوالے سے بننے والی رپورٹ ای یو ٹیررازم سیچوئیشن اینڈ ٹرینڈ کے مطابق یوروپول کا کہنا ہے آٹھ ممبر ممالک نے بتایا ہے کہ جہادیوں، قوم پرستوں اور دیگر گروہوں کی جانب سے 2016میں یورپ میں دہشت گردی کے ناکام ہونے والے، ناکام بنا دیے جانے والے یا کامیاب ہونے والے حملوں کی تعداد 142تھی۔رپورٹ کے مطابق 142افراد ان حملوں میں ہلاک ہوئے جبکہ 379زخمی ہوئے۔یورپی یونین کے سکیورٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ ان حملوں کی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ خفیہ معلومات کے لیے قریبی مشاورت کی کس قدر ضوروت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی سرحد کا احترام یا اسے تسلیم نہیں کرتی۔

62صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہادی سرگرمیوں میں خواتین کے کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ‘مغرب میں خواتین جنگجو جہادیوں کو دہشت گردی کی کارروائی میں آپریشنل کردار ادا کرنے میں مردوں کے مقابلے میں کم رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغربی ممالک میں خواتین کی جانب سے کامیاب یا ناکام کارروائیوں سے دیگر خواتین کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔’رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس سب سے زیادہ حملے کرنے والے نسلی قوم پرست اور علیحدگی پرست انتہا پسند تھے۔بائیں بازو والے گروہوں کی جانب سے ہونے والی حملوں میں بھی 2014کے بعد سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2016میں یہ تعداد 27تک پہنچ گئی جن میں سے 16حملے اٹلی میں ہوئے تھے۔