بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / مالی افراتفری!

مالی افراتفری!

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام حکومت کیلئے گذشتہ دو برس کے دوران حسب وعدہ و اعلانات مالی وسائل فراہم نہیں کئے گئے جس سے ایک تو صوبائی حکمرانوں کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ لگانا مشکل نہیں تو دوسری جانب ترقی کا عمل تیزرفتار و ہموار نہیں ہوسکا اور اگر موجودہ رویئے آئندہ مالی سال کے دوران بھی یونہی برقرار رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف ترقی کا جاری و منصوبہ بندی کا عمل متاثر ہوگا بلکہ عام انتخابات میں تحریک انصاف مخالف سیاسی جماعتوں کے ہاتھ مخالفت کا ایک نادر موقع بھی آ جائے گا اور وہ نہایت ہی آسانی کیساتھ بلدیاتی نمائندوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی!اپنے ہی اعلانات سے مکرنے اور بلدیاتی اداروں کو حسب وعدہ ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرکے کیا تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں سیاسی خودکشی کرنے کا تجربہ کرنا چاہتی ہے؟رواں مالی سال قریب دو ہفتوں میں ختم ہو رہا ہے‘ جس سے قبل بلدیاتی اِداروں کے لئے ’پانچ ارب روپے‘ کی چوتھی قسط جاری کر دی گئی ہے اور یوں رواں مالی سال میں مجموعی طور پر 25 اضلاع کے لئے 27 ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جبکہ اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے آغاز پر وعدہ کیا گیا تھا کہ بلدیاتی اداروں کو 33 ارب روپے جاری کئے جائیں گے۔ یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے پچیس اضلاع میں ایک ایک ضلعی ‘ تحصیل ٹاؤن میونسپل انتظامیہ اور تین ہزار پانچ سو ایک دیہی یا ہمسائیگی کونسلز ہیں۔ محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اعدادوشمار میں تین الگ الگ اعلامیے بھی شامل ہیں‘ جن کے مطابق اپریل سے جون دوہزار سترہ کے لئے آخری اقساط جاری کردی گئیں ہیں اور اِس تناسب سے ضلعی حکومتوں کو 1.86 ارب‘ ٹی ایم ایز کو 1.77 ارب اُور دیہی و ہمسائیگی کونسلز کو مجموعی طور 2.241 ارب روپے ترقیاتی امور کے لئے دیئے گئے ہیں۔ تصور کیجئے کہ جو مالی وسائل اپریل کے آغاز پر جاری ہو جانے چاہئے تھے‘ آخری سہ ماہی کے اختتام کے قریب ایک ایسے وقت جاری کئے گئے ہیں جبکہ ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے اور اِس عرصے میں عموماً عیدالفطر کی تیاریوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔

دفاتر میں حاضری کم اور اکثر سرکاری ملازمین طویل تعطیلات کی منصوبہ بندی کئے بیٹھے ہوتے ہیں۔ عیدالفطر یا دیگر تہواروں کے قریب سرکاری دفاتر میں کام کاج مزید سست رفتار ہونا ایک معمول ہے جبکہ اندیشہ یہ بھی ہے کہ آخری قسط کے طور پر ملنے والے مالی وسائل جلدازجلد ’’ٹھکانہ لگانے‘‘ کی کوشش میں سرمائے کا ضیاع ہوگا اور ہر مالی سال کی طرح اس مرتبہ بھی تاخیر سے ملنے والے سرمائے کو ادھر ادھر کرنے کے ماہرین نے تیاری کر رکھی ہوگی کہ کس طرح ہاتھ کی صفائی دکھائی جائے۔ عمومی روش ہے کہ سرکاری عمارتوں کی تعمیرومرمت اور رنگ روغن یا فرنیچر کی خریداری و مرمت جیسے امور اِسی آخری سہ ماہی میں ’جادوئی انداز‘ سے مکمل کئے جاتے ہیں۔ اِس ہلاگلا کے ماحول میں نہ صرف حقیقی ترقی نظرانداز رہتی ہے بلکہ غیرترقیاتی اخراجات حاوی ہو جاتے ہیں! خیبرپختونخوا کی سیاسی حکومت یا بلدیاتی‘ سخت گیر مالی نظم وضبط کے اطلاق اور سرکاری وسائل کی پائی پائی سوچ سمجھ کر خرچ کرنے کی مثالیں قائم کرنے میں اگر دلچسپی لیتی تو نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی ادوار میں بھی اس کا فائدہ ہوتا اور بطور صدقہ جاریہ موجودہ حکمرانوں کے نامۂ اعمال میں ثواب کا تناسب بڑھتا چلا جاتا!۔

خیبرپختونخوا حکومت نے رواں مالی سال سے قبل بلدیاتی اداروں کو بیالیس ارب روپے دینے کا اعلان کیا تھا لیکن مالی سال کے اِختتام تک چھبیس ارب روپے ہی جاری کئے جا سکے! بلدیاتی نظام موجودہ حکومت کی تخلیق ہے جس کا ایک مقصد یہ بھی بیان گیا تھا کہ ’اَراکین صوبائی اسمبلیوں کے ذہنوں پر ترقیاتی عمل کا بوجھ نہ رہے اور وہ قانون سازی پر یک سوئی سے توجہ دے سکیں! لیکن ایسا عملاً ممکن نہیں ہوسکا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی فنڈز کا کم سے کم ’تیس فیصد‘ دینے کے وعدہ کی تعریف کرتے ہوئے بار بار توجہ دلائی گئی کہ قانون سازوں کی بجائے ترقیاتی حکمت عملی کا بڑاحصہ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے لیکن برسرزمین حقائق اور اجتماعی شعور کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی گئی! اگر بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی عمل کا بڑا حصہ سونپنا نہیں تھا اور انہیں اعلان کردہ ’تیس فیصد‘ ترقیاتی فنڈز کی حد سے بھی محدود رکھنا ہی تھا تو پھر تین سطحی‘ وسیع و عریض نظام تخلیق کرنیکی ضرورت ہی کیا تھی؟۔