بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمی سیاست:پاکستان کا تشخص اوروقار!

عالمی سیاست:پاکستان کا تشخص اوروقار!


عالمی سیاست اور بالخصوص عرب ممالک کے باہمی تنازعات سے پاکستان کو کتنا الگ اور کتنا منسلک رہنا چاہئے‘ یہ امر قومی پالیسی سازوں کے سامنے زیرغور ہے بالخصوص اب جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں پانچ عرب ممالک نے قطر کا کھانا اور پانی بند کر دیا ہے‘ تو پاکستان کو خود سے یہ بات ضرور پوچھنی چاہئے کہ وہ سعودی عرب کی زیر قیادت اکتالیس سنی اکثریتی ممالک کے ’’اسلامی فوجی اتحاد‘‘ کا حصہ کیوں ہے؟ عمومی سطح پر اسلامی نیٹو قرار دیا جانے والا مذکورہ فوجی اتحاد سابق ہیرو ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کی زیر کمان ہے۔ بظاہر عسکریت پسند دولت اسلامیہ کے خلاف ایک انسداد دہشت گردی اتحاد کا روپ رکھنے والی یہ فورس درحقیقت ایک سعودی‘ امریکی‘ اسرائیلی آلہ ہے جس کا رخ جمہوری اسلامی ایران کی جانب ہے۔ اس اتحاد کے حقیقی مقاصد کے بارے میں جو بھی رہے سہے شکوک و شبہات تھے‘ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریاض میں گذشتہ ماہ تقریر کے بعد ختم ہوگئے۔ سعودی عرب کو ایک سو دس ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کو عالمی دہشت گردی کا واحد مددگار قرار دیااُن کا کہنا تھا کہ ’’لبنان سے عراق اور یمن تک‘ ایران دہشت گردوں‘ ملیشیاؤں اور دیگر انتہاء پسند گروہوں کی حمایت کرتا ہے جو خطے میں تباہی اور افراتفری پھیلاتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے ایران نے فرقہ وارانہ تنازعات اور دہشت گردی کو بڑھاوا دیا ہے۔‘‘ پہلی بات تو یہ ہے کہ اِس لڑائی میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں۔ ٹرمپ کے ٹویٹ پیغام‘ جس میں کہا گیا کہ قطر کو علیحدہ کر دینا ’’دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کا نکتہ آغاز ہوگا‘‘ شاید سعودی عرب کے لئے تو خوش کن ہو مگر ہم پاکستان جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔

سعودی عرب کی فرماں بردار پتلیوں کی طرح مالدیپ اور موریطانیہ نے قطر سے اپنے روابط توڑ لیے مگر ہمارا ایسا کوئی بھی اقدام مثلاً قطر ائرویز کا پاکستانی حدود میں داخلہ بند کر دینا‘ بہت بڑی بے وقوفی ہوگی۔ بدو قبیلوں اور عربوں کے آپسی جھگڑے ہمارا مسئلہ نہیں ہیں۔ اپریل دوہزار پندرہ میں پارلیمنٹ کا متفقہ طور پر یمن جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کیخلاف فیصلہ کرنا ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اگلے اٹھارہ ماہ میں سعودی اتحاد‘ جس کی پشت پناہی امریکہ اور برطانیہ نے کی‘ نے کم از کم دس ہزار مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق ’’اتحاد نے غیر قانونی طور پر گھروں‘ بازاروں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں‘ سویلین کاروباروں اور مساجد کو نشانہ بنایا۔‘‘سب سے زیادہ ہلاکتیں اتحادی افواج کے فضائی حملوں سے ہوئیں۔ بدقسمتی سے تھوڑی دیر کھڑے رہنے کے بعد ہماری حکومت کے اعصاب کمزور پڑ گئے۔ نوے سالہ ناراض سعودی بادشاہ اور ان کے تلملائے ہوئے شہزادوں کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ہمارے وزیر اعظم‘ آرمی چیف‘ وزیر دفاع‘ سیکرٹری خارجہ اور کئی اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو فوراً ریاض بھاگنا پڑا۔ اگر ان کے اندر اخلاقی جرأت ہوتی تو وہ کبھی ایسے نہ گھبراتے۔ سمندر پار ایک غیر ملکی خانہ جنگی میں پاکستانی فوجیوں کو مرنے اور مارنے کے لئے بھیجنا بالکل غلط ہے اور کتنا ہی مفت تیل اور نوٹوں کی کتنی ہی گڈیاں اس غلط کو صحیح میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔

دوسری بات‘ پاکستان کو مسلم دنیا کی اس وحشیانہ شیعہ سنی فرقہ وارانہ تقسیم میں کسی ایک فریق کا ساتھ دے کر اپنے مزید دشمن نہیں بنانے چاہئیں۔ عرب ایران تنازع آج کی بات نہیں بلکہ یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ علاقائی اثر و رسوخ کی بھی جنگ ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب ہے‘ جو امریکی اسلحے اور امپورٹیڈ فوجیوں کی مدد سے اپنا تسلط برقرار رکھنا اور بڑھانا چاہتا ہے۔ سعودی قطر تنازع فرقہ وارانہ تقسیم کا نہیں بلکہ طاقت کی جنگ کا اشارہ ہے۔ سرکاری طور پر قطر حنبلی قانون کے تحت چلنی والی ایک شریعہ ریاست ہے مگر شیعہ ایران اور سنی ترکی‘ دونوں ہی روزے دار قطریوں کو کھانا اور پانی پہنچا رہے ہیں۔ ترکی کی پارلیمنٹ نے تو قطر کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے تین ہزار فوجیوں کا دستہ بھیجنے کی بھی منظوری دے دی ہے۔ تیسری بات‘ پاکستان کو ایسے کسی بھی ملک کا ساتھ نہیں دینا چاہئے جو عرب دنیا کی ماڈرنائزیشن کے خلاف ہو۔ مسلم دنیا کا کوئی بھی ملک سماجی اور ثقافتی طور پر سعودی عرب سے زیادہ قدامت پسند نہیں ہے۔ سعودی عرب کا یہ ہتک آمیز رویہ صرف غریب پاکستانیوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے وزیرِ اعظم کو اسلامو فوبیا کے شکار ڈونلڈ ٹرمپ کا سعودی عرب کی کانفرنس میں اسلام پر لیکچر خاموشی سے سننا پڑا۔ تیس دیگر مسلم سربراہان مملکت کیساتھ نواز شریف صاحب کو بھی دعوت دی گئی مگر صرف سننے کے لئے‘ کچھ بولنے کے لئے نہیں۔

بعد میں مانگی گئی علامتی معافی سے پاکستان کی بے عزتی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ پاکستان کو اسلامی فوجی اتحاد سے دستبردار ہو کر سعودی ایران تنازع میں فوری طور پر خود کو غیر جانبدار قرار دے دینا چاہئے۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: پرویز ہود بھائی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)