بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / تیل و گیس کے پیداواری علاقے بھی رائلٹی میں شریک

تیل و گیس کے پیداواری علاقے بھی رائلٹی میں شریک


پشاور۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اورجسٹس اعجاز انورپر مشتمل ڈویژن بنچ نے تیل و گیس کے پیدواری علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے رائلٹی استعمال کرنے اوررائلٹی کے استعمال کے لئے پیٹرولیم سوشل ڈویلپمنٹ کمیٹی کی تشکیل کرنے اور اس میں ضلع و تحصیل ناظمین کو بھی شامل کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔فاضل عدالت نے درخواست گزار تحصیل ناظم کرک عبدالوہاب خٹک کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جن اضلاع میں گیس و تیل کی پیدوار ہے ،ان کی رائلٹی کے حوالے ستے مرتب پالیسیوں میں بلدیاتی نمائندگان شامل نہیں ہے ۔

لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ ترقیاتی کاموں کے لئے رائلٹی کے استعمال کے لئے قائم کمیٹیوں میں بلدیاتی نمائندگان کو بھی شامل کیا جائے ،جس پر فاضل عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا تاہم عدالت نے اپنے محفوظ فیصلہ میں صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کی ہے کہ صوبائی حکومت جن اضلاع میں تیل و گیس کی پیدوار ہے وہاں ڈسٹرکٹ کی سطح پر پیٹرولیم سوشل ڈویلمنپٹ کمیٹی تشکیل دے ،علاوہ ازیں ؂ ان اضلاع کے ضلعی ناظم کو بھی پی ایس ڈی سی کا رکن بنایا جائے۔

اس تحصیل کا ناظم جس میں پیدوار ہو اس کو بھی کمیٹی میں ممبر بنایا جائے پالیسی کے تحت دس فیصد رائلٹی کا پچاس فیصدحصہ اس تحصیل کے زیر استعمال ہو گا ،فیصلہ میں یہ بھی قرار دیا گیاکہ پیٹرولیم سوشل ڈویلپمنٹ کمیٹی کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم سوشل ویلفئیر کمیٹی بھی تشکیل کی جائے جس کے حوالے سے سپریم کورٹ نے اپنے 2014 کے عبدالحکیم کھوسہ کیس میں احکامات دئیے تھے ،پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میںیہ بھی قرار دیا کہ صوبائی حکومت کے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اختیارات پر اثر انداز نہیں ہو گا کیونکہ ڈویلپمنٹ سکیمز پر عملدرآمد کروانا ان کا اختیار ہے ،علاوہ ازیں صوبائی حکومت رائلٹی اور پرو ڈکشن بونس کے قوانین پر نظر ثانی کریں اور زیر غور لایا جائے کہ ویلج اور نیبر ہد کونسل جس میں پڑولیم پیدوار ہو اس کو بھی کمیٹی کا ممبر بنایا جائے ۔

جبکہ سکیم کی حدجو کہ دس لاکھ مقرر کی گئی ہے اس پر بھی نظر ثانی کریں ، اور مخصوس حصہ رائلٹی اور بونس کا جہاں پر پیداوار ہووہاں استعمال کیا جائے ،فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے 26 مئی کو اعلامیہ جاری کیا جس کے تحت صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ اور تحصیل ناظمین کو پروڈکشن بونس کے لئے مقرر کمیٹی کا کمیٹی ممبر بنایا ؂ ہے ، جبکہ تحصیل ناظم کو رائلٹی کمیٹی کا ممبر نہیں بنایا لہذا عدالت احکامات دیتی ہے کہ ڈسٹرکٹ ناظم کو رائلٹی کمیٹی کا بھی ممبر بنائے۔