بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد کی چھان بین

پاکستان کو ملنے والی امریکی امداد کی چھان بین

واشنگٹن۔ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے اعلان کیا ہے کہ امریکا پاکستان کو دی جانے والی امداد کا بین الایجنسی جائزہ لے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ ریمارکس امریکی ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کی بجٹ سنوائی کے دوران سامنے آئے جس سے ٹرمپ انتظامیہ کے پاکستان کے حوالے سے خیالات منظر عام پر آگئے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے حوالے سے پالیسی کا بین الایجنسی جائزہ لے رہے ہیں اور یہ چند تحفظات میں سے ایک ہے جبکہ امریکی صدر نے پاکستان کے لیے امریکی فنڈنگ اور امداد کی سطح کے بارے میں سوال کیا ہے، لیکن اس معاملے پر نظر ثانی کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کو بہتر جانتے ہیں اور سراہتے ہیں، پاکستان کے ساتھ مل کر امریکا نے افغانستان میں بائیدار امن کی بحالی جیسے مسائل سمیت حل کرنے کے ساتھ انڈو پیسفک خطے میں استحکام بھی حاصل کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات بہت پیچیدہ ہیں لیکن آپ کے خدشات بھی با وجہ ہیں۔

سیکریٹری اسٹیٹ نے کانگریس کو بتایا کہ امریکا کی افغان پالیسی پر نظر ثانی کی جارہی ہے، ساتھ ہی انہوں نے باور کرایا کہ پاکستان کے تناظر میں ایک دوسرے کے بغیر کام نہیں کیا جا سکتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اب جن احکامات کی پیروی کی جارہی ہے وہ ٹرمپ انتظامیہ کی اولین ترجیحات ہیں۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ 6 ماہ قبل اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک پاک۔امریکا تعلقات کے حوالے سے خاموش رہی ہے۔

امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کے اعلان اور امریکی قانون سازوں کے تبصروں کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی امداد پر نظر ثانی کرنے سے کم ہوتی امریکی امداد مزید کم ہوجائے گی۔کانگریس کے دو ریپبلکن نمائندگان ڈانا روہرابچر اور ٹیڈ پو نے ذیلی کمیٹی برائے دہشت گردی، عدم پھیلاؤ اور تجارت کی سماعت کے دوران بھی اسی طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ امریکا پاکستان کو ہتھیار فروخت کرنا بند کرے اور پاکستان کو ایک ’دہشت گردی کا کفیل‘ ملک قرار دے۔

ڈانا روہرابچر نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی قید اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کے افغان طالبان سے مبینہ تعلقات پر سیکریٹری اسٹیٹ کے سامنے اپنا من پسند سوال اٹھایا کہ ہم پاکستان کو اب تک امداد کیوں فراہم کر رہے ہیں؟دونوں ریپبلکن نمائندے اکثر وبیشتر ان سماعتوں کے دوران پاکستان کو بدنام کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے سامنے آنے والا رد عمل غیر متوقع تھا کیونکہ وہ اکثر اس طرح کے سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے تھے۔