بریکنگ نیوز
Home / کالم / سمجھنے کی باتیں

سمجھنے کی باتیں

ہم نے تو عمر سادگی میں ہی گزار دی ۔ طالب علمی کی زندگی میں ایسے مضامین کا انتخاب کیا کہ جس کے سبب کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھ سکے اور نہ کسی ہلے گلے والی زندگی میں خود کو پھنسایاپائے ایک ہی روٹین رہی کہ کالج سے یا ڈیپارٹمنٹ سے واپس آؤ تو خود کو کتابوں میں گھسیڑ دو اور اگر کبھی وقت مل پائے تو دوستوں سے مل کر ایک آدھ فلم دیکھ ڈالو اور وہ بھی اسطرح کہ سینما ہاؤس سے باہر آؤ تو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ فلم کیا تھی اس کے کیریکٹر کیا تھے اور اس کی کہانی کیا تھی ۔بس یہی غم سر پر سوار کہ وقت ضائع ہو گیا۔ طالب علمی کی زندگی گزری تو کالج میں نوکری مل گئی ۔سب لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ کالج کے اساتذہ تو مزے کرتے ہیں کہ جب جی چاہا کالج چلے گئے اور جس وقت دل کیا واپس گھر آ گئے مگر ہم سے بات الٹی ہی ہوتی رہی۔ کالج میں اگر دو یا تین پیریڈ پڑھانا ہے تو باقی وقت ان دو یا تین پیریڈوں کی تیاری میں گزر گئے۔طالب علمی میں بھی اور نوکری میں بھی کبھی کتابوں سے باہر کی دنیا دیکھنے کاموقع ہی نہ مل پایا۔کیا کہیں کہ سیاست میں کیا ہوتا رہا اور دیگر معاملا ت کیسے چلتے رہے۔ دراصل کسی سیانے نے بالکل صحیح کہا ہے کہ جس کا کام وہی جانے اور جب آپ ایک ایسی دنیا میں خود کو زبردستی گھسیڑ دیتے ہیں تو وہاں کے زیر و بم آپکو چکرا کر رکھ دیتے ہیں۔ ہم کو کہ جو ہمیشہ کتابوں میں گم رہے اگر کرکٹ کا بلا پکڑا کر کہا جائے کہ ایک بڑے میچ میں جا کر کھیلو تو ہمارا کیا حال ہو گااس لئے کہ یہ ہماری فیلڈ ہی نہیں ہے۔ایک بیرسٹر جو ساری عمر قانون کی کتابوں میں سر کھپانے میں گزارتا ہے اسے کیا خبر کہ تجارت کیا ہوتی ہے تاجر کہاں کہاں سے دولت اکٹھی کرتے ہیں اور ارب کھرب پتی بن جاتے ہیں اور یہ بھی کہ دنوں میں کروڑوں کی مالیت صفر پر چلی جاتی ہے اور کل کا کروڑ پتی آج کا پائی پائی کا محتاج ہو جاتا ہے۔

یہ ہنر وہی لوگ جان پاتے ہیں جو اس فیلڈ سے متعلق ہوتے ہیں پھر انٹر نیشنل تاجروں کے تعلقات دنیا بھر کے تاجروں سے ہوتے ہیں اور اس دوڑ میں ان کو ہر ملک کے کسٹم کے لوگوں سے بھی پالا پڑتا ہے اور ملکوں کی پو لیس کے ہتھکنڈے بھی سیکھنے پڑتے ہیں جبکہ یہ کام ایک ایڈوکیٹ یا بیرسٹر نہیں جان سکتا۔ تاجروں کے بہت سے کام قانونی اور بہت سے غیر قانونی ہوتے ہیں مگر انکے غیر قانونی کاموں کا بھی کوئی حساب نہیں رکھ سکتا اسلئے کہ غیر قانونی کاموں کو بھی وہ قانونی بنا لیتے ہیں اسی طرح کچھ کام ایسے ہیں کہ ان میں سرمایہ کاری کرنے والا شخص مہینوں میں بلکہ بعض دفعہ دنوں میں بھی ارب پتی بن سکتا ہے۔ ایک پراپرٹی ٹائیکون ہی کی مثال لے لیں وہ آج ملک کا امیر ترین شخص ہے اور نہ صرف یہ کہ وہ ایک ارب پتی شخص ہے بلکہ اس کی سخاوت کے بھی ہر سمت چرچے ہیں۔تقریباً ہر شہر میں اس کے دستر خوان لگتے ہیں جہاں سے لاکھوں غریب لوگ صبح شام کھانا کھاتے ہیں اور کھانا بھی ایسا کہ جو بہت سوں کو گھر میں بھی نصیب نہیں ہوتا۔ ایک اسی ہزار ڈالر سالانہ کمانے والا یہ سوچ بھی نہیں سکتاکہ ایک تاجر اسی ہزار ڈالر ایک دن میں کما سکتا ہے جب ایک بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تو وہ آپ کیلئے ذہنی پراگندگی کا سبب بن جاتی ہے اور اس میں لوگ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔

جیسے ہمارے بیرسٹر صاحب اور خان صاحب آج کل کر رہے ہیں تجارت اور منطق ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ منطق میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو ایسا ہو جائیگا مگر تجارت میں اور عام زندگی میں ایسا نہیں ہوتایہ بالکل ایک اس ریاضی دان کی طرح ہے کہ جس نے دریا پار کرنے میں منطق کا سہارا لیا کہ مختلف جگہوں سے دریا کی گہرائی ناپی جو کہیں سے ایک فٹ اور کہیں سے دس فٹ تھی مگر اس سب کی اوسط چار فٹ نکلی ۔ جناب نے حساب لگایا کہ اُس کا سب سے چھوٹے بیٹے کا قد پانچ فٹ ہے ۔ اس لئے آرام سے دریا پار کر لیں گے مگر جب دس فٹ گہرائی میں پہنچے تو سارے ہی دریا برد ہو گئے۔ اور یہ بھی کہ جب کوئی کاروبار ملک سے باہر کرتا ہے تو اسے باہر کے لوگوں سے پارٹنر شپ بھی کرنی پڑتی ہے اور پارٹنر شپ میں بہت کچھ کھونا اور بہت کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے اسلئے اس میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ لوگوں کے باہر کے ملکوں کے لوگوں کیساتھ تجارتی تعلقات اور پارٹنر شپ ہو سکتی ہے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ جیسا کہ حسین نواز نے بہت پہلے کہا تھا کہ انہوں نے دبئی کی مل بیچ کر اس میں سے کچھ رقم قطر کے شہزادوں کے ساتھ پارٹنر شپ میں لگائی تھی اور اگر اس پارٹنر شپ سے ان لوگوں کو کچھ فائدے ملے تو اس میں حیرت کسی کو نہیں ہونی چاہئے اور جبکہ اب قطر کا شہزادہ بھی اپنے خط پر قائم رہنے کا اشارہ دے رہا ہے تو اس میں کیا ہرج ہے۔