بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مہنگائی‘ ملاوٹ‘ سہولیات کا فقدان

مہنگائی‘ ملاوٹ‘ سہولیات کا فقدان


کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں تلے دبی وطن عزیز کی معیشت سے متعلق بدلتے اعشاریئے جتنے بھی خوش کن ہوں عام شہری مہنگائی کی چکی میں پسنے کے ساتھ بنیادی سہولیات کے فقدان سے متعلق بدستور گلہ مند ہے، قرض دینے والے اداروں کی ڈکٹیشن پر بننے والے بھاری یوٹیلٹی بل ادا کرنے والے شہریوں کیلئے اپنے کچن کے اخراجات پورے کرنا چیلنج بن چکا ہے، اصلاح احوال کیلئے اب تک کے اقدامات ناکافی ثابت ہوچکے ہیں، خیبرپختونخوا میں رمضان المبارک کی آمد سے قبل اضلاع کی سطح پر مختلف نوعیت کی حکمت عملیاں طے ہوتی رہیں، بازاروں میں کاروائیاں بھی دیکھی گئیں، اس سب کیساتھ اس حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ گرانی کنٹرول ہوسکی نہ ہی ملاوٹ کا مکروہ دھندہ روکنے میں خاطر خواہ کامیابیاں سمیٹی جاسکیں، اوپن مارکیٹ میں اشیاء ضروریہ کے نرخ غریب اور متوسط شہری کی دسترس سے باہر ہی ہوتے جارہے ہیں، آلودہ پانی پینے والے شہری بھاری قیمت کے عوض ملاوٹ شدہ مضر صحت اشیائے خوردونوش خریدنے پر بھی مجبور ہیں، بوسیدہ زنگ آلود پائپوں کے ذریعے آنیوالا بیماریوں کے جراثیم والا پانی پینے اور ملاوٹ شدہ اشیاء استعمال کرنے کے بعد بیمار ہونے والے لوگوں کو دوا بھی غیر معیاریملتی ہے، بھاری مقدار میں مضر صحت اور کیمیکل ملادودھ ضائع کیاجانا پشاور کے ایک گودام سے بھاری مقدار میں مضر صحت کھویا برآمد کرکے تلف کیاجانا ضرور قابل اطمینان ہے تاہم یہ اس بات کی گارنٹی نہیں کہ مارکیٹ میں نہ ہی کیمیکل ملادودھ ملے گا اور نہ ہی مضر صحت کھویا بازار میں لایا جائیگا۔

اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ صرف اتنا ہی دودھ یا کھویا مضر صحت تھے باقی سب اچھا ہے، ہمارے رپورٹر کی فائل کردہ سٹوری کے مطابق عید کی آمد سے پہلے پشاور میں بڑے پیمانے پر غیر معیاری اور صحت کیلئے نقصان دہ مٹھائی کی تیاری شروع ہے جس میں کیمیکل بھی ملایاجارہا ہے، اس سارے قابل تشویش منظر نامے میں اصلاح احوال کیلئے صوبے اور اضلاع کی سطح پر اٹھائے جانیوالے اقدامات عملی نتائج دینے کیلئے ایک موثر سیٹ اپ کے متقاضی ہیں ہم عارضی طورپر جتنے بھی چاہیں اقدامات کریں ان کے نتائج بھی عارضی ہی رہیں گے، ہمارے ہاں حکومتی سطح پر اس احساس کی کمی موجود ہے کہ کسی بھی ریاست میں عام شہری تبدیلی کااحساس میونسپل سروسز، بنیادی سہولیات اور کنٹرولڈمارکیٹ سے ہی پاتا ہے اسے اداروں کی عمارتوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ تبدیلی سروسز کے معیار سے پاتا ہے، اس شہری کو اقتصادی اعشاریوں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی، اسے سٹاک مارکیٹ کا استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی خبروں سے کوئی ریلیف نہیں ملتا۔

فیصلہ سازوں کو یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ ہمارے ہاں اداروں اور سسٹم میں بگاڑ برسوں پرانا ہوچکا ہے، اس میں سدھار لانے کیلئے عارضی اقدامات اور چندروزہ کریک ڈاؤن مذاق ہی کے مصداق ہوگا ، اصلاح احوال کی ایک صورت قدیم مجسٹریسی نظام کو بحال کرنے اور سرکاری اداروں کی مانیٹرنگ کا فول پروف نظام ہے، دوسری صورت مجسٹریسی نظام کی بحالی تک فوری ریلیف کیلئے موجودہ انتظامی سیٹ اپ کے اختیارات اور انتظامی ڈھانچے کی اصلاح ہے، یہ کام ترجیحات میں سرفہرست ڈالنے کا ہے تاکہ عوام کو ریلیف ملے، بصورت دیگر لوگ اعداد وشمار اور چند روزہ کاروائیوں سے کسی بھی طرح مطمئن نہیں ہوں گے۔