بریکنگ نیوز
Home / کالم / تاریک پہلو

تاریک پہلو


کسی بھی واقعہ کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک روشن پہلو اور ایک تاریک پہلو۔یہ کسی صاحب کے ادراک کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ کس پہلو کو دیکھنا پسند کرتا ہے۔ جو لوگ ہر واقعہ کے روشن پہلو کو دیکھتے یا دیکھنا چاہتے ہیں وہ اس دنیا کے کامیاب ترین لوگ ہوتے ہیں۔پاکستان کی جدوجہد میں جو لوگ شامل تھے ان کے پاکستان بننے کے روشن پہلو پیش نظر تھے جبکہ مخالفین کے پیش نظر اس کے تاریک پہلو تھے۔ جو تاریک پہلو دیکھ رہے تھے ان میں ایسے بھی لوگ تھے کہ جنکو دکھا دیا گیا تھا کہ پاکستان بننے والاہے مگر پھر بھی وہ اس کیخلاف تھے اسلئے کہ انکے پیش نظر تقسیم ہند کے تاریک پہلو تھے وہ یہ کہ اگر ہم نے ملک کو تقسیم کر دیا تو مسلمان دو حصوں میں بٹ جائیں گے اور یہ انکو کمزور کرنے کے مترادف ہو گا اور روشن پہلو دیکھنے والوں کے پیش نظر مسلمانوں کی حیات تھی اُن کے خیال میں اگر ملک تقسیم نہیں ہوتا اور ملک ایک جمہوریت کے تحت چلتا ہے تو ظاہر ہے یہ ہندو اکثریت کا ملک ہو گا اور جب سارے فیصلے اکثریت ہی کے ہوں گے تو مسلمانوں کے حق میں فیصلے آنا خواب و خیال ہی ہو گااور جس طرح کی تحریکیں آزادی ہند سے قبل ہی چل پڑی تھیں وہ ایک اکھنڈ بھارت کی طرف جائیں گی اور مسلم اقلیت کو اپنے مذہب پر جینے کا حق نہیں دیا جائیگا جیسے شدھی کی تحریک سے ظاہر ہو رہا تھا اس لئے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ملک کا ہونا ضروری ہے تو دونوں پہلوؤں کو دیکھنے والے دیکھ رہے تھے۔

آخر کار روشن پہلو والے کامیاب ہو گئے اور ایک مسلم مملکت وجود میں آ گئی اس کے بعد جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا مگر تقسیم کے بعد ان لوگوں کے ہاتھ میں ملک آ گیا جو اسکی پیدائش ہی کیخلاف تھے اور انہوں نے اپنے اپنے ایجنڈے کو اس ملک میں لاگو کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہو گیا اور جو رہ گیا اس میں بھی آئے دن طالع آزما لوٹ کھسوٹ کیلئے آتے رہے اب جو احتساب کا عمل شروع ہو ا ہے تو اس میں بھی دیکھنے والے تاریک پہلو پر ہی نظر کئے ہوئے ہیں جب سے پاناماکا ہنگامہ شروع ہو ا ہے ایک طرف سے دن رات یہی کچھ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کے ہوتے ہوئے کوئی جے آئی ٹی صحیح کام کر ہی نہیں کرسکتی اس لئے وزیر اعظم استعفیٰ دیں ۔ یہ استعفے والی بات تو نواز شریف کے بطور وزیر اعظم حلف اٹھانے کے بعد ہی شروع ہو گئی تھی جب خان صاحب ہسپتال سے باہر آئے تو ان اچانک ہی یاد آیا کہ انہوں نے جو نواز شریف کو الیکشن جیتنے کی مبارک باد دی تھی وہ تو غلط تھی اس لئے کہ عوام تو خان صاحب کے ساتھ تھے اور مسلم لیگ ن نے دھاندلی کر کے الیکشن جیت لیا ہے ۔ چنانچہ خان صاحب نے فوری طور پر مطالبہ کر دیا کہ یہ اسمبلی چونکہ دھاندلی کی پیداوار ہے اس لئے اسکو ختم کر کے نئے الیکشن کروائے جائیں جس میں خان صاحب کی پارٹی کو جتوایا جائے ادھر زرداری صاحب نے بھی اپنی کار کردگی کو نظر انداز کرتے ہوئے اعلان کر دیا کہ یہ الیکشن عوام کے نہیں بلکہ دھاندلی کے الیکشن ہیں مگر چونکہ ایک پارٹی جیت چکی ہے اسلئے وہ جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کے حق میں نہیں ہیں اسلئے وہ اس کیخلاف کوئی تحریک نہیں چلائیں گے مگر خان صاحب کی سونامی کی تباہی نہ مچانے کا دکھ خان صاحب کو ایسا لگا کہ آج تک ان کی زبان سے نواز شریف کے استعفے کے سوا کوئی دوسرا لفظ نکل ہی نہیں پا رہا۔

پہلے دھاند لی کی وجہ سے استعفے کا مطالبہ تھا اب یہ پاناما لیکس کے سبب ہے ابھی جو سپریم کورٹ نے بے بس ہو کر جے آئی ٹی بنا دی ہے اس کیلئے بھی خان صاحب اور اب خورشید شاہ صاحب کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ نواز شریف استعفیٰ دیں۔شاہ صاحب کااسلئے کہ اُن کے چیئر مین کا حکم ہے یہ شاہ صاحب کی ذاتی رائے نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ اپنی رائے کا سو دفعہ اظہار کر چکے ہیں کہ الیکشن 2018 میں ہی ہوں گے اور تب تک اس حکومت کو چلنا چاہئے مگر اب چونکہ الیکشن کے لئے پارٹی کی پالیسی تبدیل ہو گئی ہے اس لئے شاہ صاحب بھی جواز ڈھونڈ رہے ہیں وہ جب بھی حکومت کے جانے کی بات کرتے ہیں تو زبان ان کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتی۔ شاہ صاحب چونکہ ایک بہت ہی پرانے سیاسی لیڈر ہیں اس لئے وہ اس وقت حکومت کو ڈی ریل کرنے کا مطلب اچھی طرح سے سمجھتے ہیں ادھر وزیر اعظم اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے بھی تاریک پہلو کو دیکھا جا رہا ہے۔یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ جے آئی ٹی چونکہ سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ ہے تو یہ اسی کا ایک حصہ ہے اور سپریم کورٹ کسی بھی شخصیت کو بلا سکتی ہے اور وزیر اعظم یا پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونا ہے اور اس کو سراہاجانا چاہئے۔