بریکنگ نیوز
Home / کالم / چیمپینز ٹرافی

چیمپینز ٹرافی


ٹیم پاکستان کا ٹرافی میں آغاز اچھا نہیں ہوا ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ بڑے بوڑھوں کو اور آزمائے ہوؤں کو آزماناپاکستان ٹیم کو لے ڈوبا جسطرح کچھ عرصے سے بڑے بوڑھے کھیل رہے تھے اس سے معلوم تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔رنز کی بات کریں تو پروفیسر وغیرہ نے جو اس پہلے میچ میں رنز کے ڈھیر لگائے اس نے نوجوانوں کے حوصلے بھی پست کر دیئے۔گو اس میں بھی نئے لڑکوں نے اپنی سی کوشش کی مگر جب آپ کے باؤلرز میں پرانے دوستوں نے ایسی کارکردگی دکھائی کہ ہندوستان نے صرف دو بلے بازوں نے رنز کے ڈھیر لگا دےئے تو ہر جانب سے ٹیم پر اور کوچ پر تنقید ہوئی تو کم از کم ایک باؤلر کو تو ایک طرف کر دیا گیا۔ معلوم تھا کہ ایسے لوگ چیمپینز ٹرافی میں اب کھیلنے کے قابل نہیں ہیں تو پھر سفارشوں سے پاکستان کا نام بدنام کرنیکی کیا ضرورت تھی۔ پھر جو ٹیم سے ایسے لوگوں کو ہٹا لیا گیا کہ جن کی وجہ سے پاکستان پہلا میچ ہارا تھا تو نوجوانوں کو موقع ملا اور انہوں نے اپنی کار کردگی سے ثابت کیا کہ پاکستان کے سامنے کوئی بھی ٹیم ٹھہر نہیں سکتی۔ جنوبی افریقہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کچھ بارش کی وجہ سے اور کچھ نئے لڑکوں کی اچھی کار کر دگی کی وجہ سے ٹیم پاکستان کو انیس رنز سے کامیابی ملی۔اس کے بعد سامنا سری لنکا سے ہوا اور جس طرح سری لنکن ٹیم نے ہندوستان کو آؤٹ کلاس کیا اس سے لگتا تھا کہ ٹیم پاکستان ان کے سامنے ٹھہر نہیں سکے گی مگر نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ انکے مقابل کوئی بھی آجائے وہ اسے ٹھہرنے نہیں دیں گے اس کے بعد سیمی فائنل کیلئے ٹیم انگلینڈ کا سامنا ہوا۔ ایک ایسی ٹیم کہ جس کے ہوم گراؤنڈ میں کھیل ہو رہا تھا اور ٹیم کو ہوم گراؤنڈ کے علاوہ ہوم کراؤڈ کی بھی سپورٹ تھی اس کے علاوہ وہ اپنے پول میں ناقابل شکست بھی تھی کو ٹیم پاکستان کے نوجوانوں اور ناتجربہ کا روں نے دھول چٹادی ادھر ہندوستان بھی فائنل کے لئے کوالیفائی کر کے آ گیا۔ اب تو خیال تھا کہ چونکہ ٹیم ایک دفعہ جس ٹیم سے ہار چکی ہے۔

اس سے جیتنا ناممکن ہے مگر تمام شماریاتی اصول فیل ہو گئے فخر نے ایک چانس ملنے پر وہ کارنامہ دکھایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ ٹورنامنٹ کی پہلی سنچری بھی اسی کے حصے میں آئی ادھر سارے تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ اگر ٹیم پاکستان پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے دو و پچاس سے زیادہ کا ٹوٹل ٹیم ہندوستان کو دے دیتی ہے تو پاکستانی باؤلروں سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ٹیم ہندوستان کو دباؤ میں لے آئیں گے او رپھر ہندوستان کا جیتنا نا ممکن ہو جائے گا۔ ٹیم پاکستان نے تین سو رنز سے بھی زیادہ کا پہاڑ ہندوستان کے سامنے کھڑا کر دیااور جب ہندوستان کی بیٹنگ کی باری آئی تو عامر نے پہلے ہی اوور میں ان کے ٹاپ کے بیٹسمین کو پویلین بھیج کر ٹیم ہندوستان کے حوصلے پست کر دیئے اور پھر اوپر تلے تین ماہر ترین بلے بازوں کو واپسی کی راہ دکھا کر ہندوستانی ٹیم کے غبارے سے ہو انکال دی ادھر حسن نے بھی اپنی فارم برقرار رکھی اور تین ہندوستانی بلے بازوں کو چلتا کر کے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ یعنی تیرہ وکٹیں حاصل کر کے خود کو گولڈن بال کے حصول کا حقدار بنا لیا۔ مزے کی بات یہ کہ اس میچ میں پروفیسر نے بھی ففٹی مار لی جو کافی عرصے سے ڈبل فگر بھی حاصل نہیں کر پا رہا تھااگر آخری اووروں میں سرفراز عماد کی بجائے خو د بیٹنگ کے لئے آ جاتا تو ٹوٹل ساڑھے تین سو سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا گو یہ ٹوٹل بھی ٹورنامنٹ میں سب ٹیموں سے زیادہ تھا مگراس صورت میں یہ ساڑھے تین سوسے بھی زیادہ ہو سکتا تھااور پھر جس طرح سے ہندوستانی بلے بازوں کی واپسی ہوئی وہ بھی قابل دید تھی۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان ٹیم کی ہار میں ان کے سیاست دانوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔اگر ان کے سیاستدان متعصب نہ ہوتے اور پاکستان ہندوستان کے میچز ہوتے رہتے تو ٹیمیں ایک دوسرے سے بہتر واقف ہوتیں اور شاید میچ کا فیصلہ اگر ایسا ہی ہوتا تو بھی اتنا شرمناک نہ ہوتا کہ ایک سو اسی رنز سے ٹیم کو شکست کھاتی بہر حال ہم بال ٹھاکرے کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے انکی ٹیم کو اتنی شرمناک شکست ہوئی۔ بہر حال ہم اپنی ٹیم اور اپنے ملک کے باسیوں کو اس جیت پر دلی مبارک باد دیتے ہیں۔