بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا کا حلقہ منفرد ریکارڈ کا حامل

فاٹا کا حلقہ منفرد ریکارڈ کا حامل

پشاور۔فاٹا کا حلقہ این اے 38اس لحاظ سے منفردریکارڈ کاحامل حلقہ بن گیاہے کہ چارسال بعدبھی وہاں الیکشن کاانعقادنہیں ہوسکاہے اور اب اس پر موجودہ مدت کے لیے الیکشن کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں یوںیہ ملک کا دوسر ا حلقہ بن گیاہے جس کے ووٹر ز پوری آئینی مدت کے دوران انتخابا ت کے انعقاد اور اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے سے محروم رہ گئے ہیں اس سے قبل 2008کے انتخابات میں اس قسم کا پہلاریکارڈ فاٹاہی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے بیالیس نے بنایاتھا جہاں پر پانچ سال کے دوران الیکشن نہ کرائے جاسکے جسکی وجہ سے یہ علاقہ قومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم رہ گیاتھا۔

اسی حلقہ سے 2002ء اور بعد ازاں 2013ء کے انتخابا ت میں جے یو آئی کے مولانامعراج الدین نے کامیابی حاصل کی جہاں تک این 38کاتعلق ہے تو یہ حلقہ سنٹرل کرم پرمشتمل ہے جس کی آبادی1998ء میں دو لاکھ بارہ ہزارنفوس پر مشتمل تھی جبکہ اب اس کی آبادی کاتخمینہ ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ 2008کے انتخابا ت میں یہاں کے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد88ہزار تھی اس حلقہ کاایک منفرد اعزازیہ بھی ہے جب 2008میں یہاں پر الیکشن ہوئے تو کسی سیاسی جماعت نے اپناامیدوارنامزد نہیں کیاتھا۔

منیر احمداورکزئی یہاں سے 16525ووٹ لے کرکامیاب ٹھہرے تھے جبکہ 2002کے الیکشن میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے 2013ء میںیہاں الیکشن نہ ہوسکے اور اس کے بعدسے اس علاقہ کے لاکھوں افرادقومی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم چلے آرہے ہیں ذرائع کے مطابق اب جبکہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں ایک سال سے کم کی مدت رہ گئی ہے چنانچہ اس حلقہ پر الیکشن کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں یوں فاٹاکا ایک اور حلقہ پانچ سال تک الیکشن سے محروم رہنے کاریکارڈ بناگیاہے