بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پشاور میں پولیس موبائل کو نشانے بنانے کی کوشش ناکام

پشاور میں پولیس موبائل کو نشانے بنانے کی کوشش ناکام

پشاورتھانہ فقیر آباد کے علاقے قاضی کلے میں سٹرک کنارے نصب 5کلو وزنی بم ناکارہ بناکر دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیاگیا بم پولیس موبائل کو نشانہ بنانے کیلئے نصب کیاگیا تھا ناکارہ بنائے گئے بم میں بال بیرنگ اور چھروں کا استعمال بھی کیاگیا تھا پولیس اورسکیورٹی اداروں نے علاقے کا گھیراؤ کرتے ہوئے سرچ آپریشن کیا اور کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے شامل تفتیش کرلیا فقیرآباد پولیس کے مطابق گزشتہ روز اطلاع ملی کہ قاضی کلے میں سٹرک کنارے ایک مشکوک چیز پڑی ہے جس کانوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر بی ڈی یو کوا اطلاع دی گئی۔

بی ڈی یو نے موقع پر پہنچ کر سرچنگ شروع کی تو سٹرک کنارے پانچ کلو گرام وزنی بم برآمد کرلیا جسے ناکارہ بنادیاگیا پولیس کے مطابق بم موبائل کونشانہ بنانے کیلئے نصب کیاگیا دوسری جانب پولیس نے مقدمہ درج کرکے مختلف زاویوں پر تفتیش شروع کردی ہے ۔

تھانہ چمکنی کے علاقے غز چوک میں وحید آباد پولیس موبائل پر حملے کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ہلاک حملہ آور کا تعلق بین الاقوامی شدت پسند تنظیم ’’داعش ‘‘ سے تھا حملے میں مارے جانیوالے دہشتگرد کی شناخت مصطفی کے نام ہوئی ہے جو پولیس ٗ سی ٹی ڈی سمیت ملک کے دیگر حساس اداروں کو دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے درجنوں میں مقدمات میں مطلوب تھا لیکن کبھی بھی سکیورٹی اداروں کے ہاتھ نہیں لگا۔

تحقیقات میں ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ افغان طالبان کے سینئر رہنما کے قتل میں بھی وہ ملوث تھا اس کے قبضے سے برآمد ہونیوالا موبائل فون سے بھی اہم شواہد اور انکشافات متوقع ہے ہلاک حملہ آور ماضی میں تحریک طالبان پاکستان ٗ تحریک طالبان مہمند ایجنسی اور لشکر الاسلام سمیت دیگر کئی دہشتگرد تنظیموں کیلئے کام کرچکا ہے اور وادی پشاو ر میں وہ ان تنظیموں کا بڑا سہولت کار تھا لیکن بعد میں داعش کے ساتھ منسلک ہوگیا۔

خفیہ اداروں اور پولیس کے اعلیٰ افسران کے سرکل میں مصطفی کا نام بہت مشہور تھا اور اس کے پکڑے جانے کیلئے بہت کوششیں کی گئی تھی حکام کے مطابق عام پر طور کلاشنکوف سے کی جانیوالی ٹارگٹ کلنگ کا وہ ماسٹر تھا پشاور میں پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں ٗ افغان علماء کرام سمیت 20 سے زائد ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں مطلوب تھا ۔