بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / چینی شہریوں کی بہتر سیکیورٹی کیلئے نئی پالیسی پر غور شروع

چینی شہریوں کی بہتر سیکیورٹی کیلئے نئی پالیسی پر غور شروع

وزارت داخلہ نے چینی شہریوں کی بہتر سیکیورٹی اور تحفظ کے لیے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے چینی شہریوں کی بہتر سیکیورٹی کے لیے نئی پالیسی پر غور شروع کردیا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی صدارت میں وزارت داخلہ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چینی شہریوں کو پاکستان کا ویزا دینے کے طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں حالیہ چند ہفتوں کے دوران جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستانی ویزا حاصل کرنے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں چینی شہریوں کو متعلقہ ایوان صنعت و تجارت، کمرشل اتاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بیرون ملک تعینات پاکستانی افسران کی جانب سے جاری کردہ دعوت نامہ یا اسائنمنٹ لیٹر پیش کرنے پر ہی بزنس ویزا اور انٹری ویزا جاری کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں امیگریشن حکام اور چیمبر کے درمیان معلومات کے تبادلے کے لیے نادرا تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔

اجلاس میں بزنس ویزا میں توسیع کو بھی ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، مستقبل میں ویزوں میں توسیع کا اختیار ریجنل پاسپورٹ آفسز کے بجائے صرف وزارت امیگریشن و پاسپورٹ کو ہی حاصل ہوگا اور ڈی جی پاسپورٹ ویزوں میں تین ماہ کی توسیع کے مجاز ہوں گے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چینی شہریوں کو ویزا جاری کرنے کی توسیع کی شرح میں حوصلہ شکنی کی جائے گی، پاکستانی سفارتخانے اور مشنز صرف ایک سال کا ملٹی پل انٹری ویزا جاری کرنے کے مجاز ہوں گے، جبکہ ویزوں کا اجرا چینی حکام کی سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط ہوگا۔

چوہدری نثار نے وزارت داخلے کے حکام کو ہدایت کی کہ ویزوں کے اجرا کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ پورے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔

اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل، چیئرمین نادرا، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ، ڈی جی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ، نادرا اور ایف آئی اے کے سینئر حکام شریک تھے۔

واضح رہے کہ 24 مئی کو چینی جوڑے 24 سالہ زنگ یانگ اور 26 سالہ خاتون مینگ لی سی کو کوئٹہ کے جناح ٹاؤن سےاغوا کیا گیا تھا جبکہ داعش نے دونوں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تاہم دفترخارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے اغوا ہونے والے چینی شہریوں کی ہلاکت کی خبروں کی تحقیقات کر رہے ہیں اور چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔