بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / امریکہ کا زیر زمین بنکرز کا خفیہ نیٹ ورک

امریکہ کا زیر زمین بنکرز کا خفیہ نیٹ ورک

واشنگٹن۔ امریکا نے ایٹمی حملوں سے بچاؤ کیلئے زیر زمین بنکرز کا ایک خفیہ نیٹ ورک بنا رکھا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں یہ بنکرز 1950ء میں بنائے گئے تھے جنہیں پہلی دفعہ نائن الیون حملوں کے دوران استعمال کیا گیا۔ ان بنکرز میں امریکی انتظامیہ کے ہائی پروفائل عہدیداروں کو تو چھپنے کی اجازت ہو گی، مگر ان کی بیویوں کو نہیں تاہم ان کی سیکرٹریوں کو پناہ ملے گی۔قومی سلامتی کے ماہر گیرٹ ایم گراف کی نئی کتاب ریون راک کے مطابق سابق امریکی صدور جان ایف کینیڈی، آئزن ہاور، روز ویلٹ اور ٹرومین جانتے تھے کہ ایٹمی حملے سے محفوظ رہنے کیلئے صرف اشرافیہ کیلئے جگہ موجود ہے تاہم اس کے باوجود وہ امریکی شہریوں کو ایٹمی جنگ کی صورت میں محفوظ رکھنے کی تسلیاں دیتے رہے۔

یہ بنکرز کیمپ ڈیوڈ کے نزدیک وائٹ ہاؤس کے نیچے بنائے گئے ہیں۔ بنکرز کا یہ نظام وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ اور ویسٹ ونگ سے ملا ہوا ہے جس میں صدر کا نجی کمرہ 8 فٹ چوڑا اور 10 فٹ لمبا ہے۔وائٹ ہاؤس کا ڈیزائن بنانیوالے لورینزو ونسلو نے پہلا بنکر تعمیر کیا تھا۔ مشرقی ونگ میں 40 مربع فٹ کے دو کمرے بنانے کیلئے کنکریٹ کی دیواریں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک کمرے میں ایک سو افراد پناہ لے سکتے ہیں۔ ان کمروں میں خوراک، پانی اور ادویات موجود ہیں اور یہ 5 سو پاؤنڈ وزنی بم سے پناہ لینے والوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں کئی ایسے بنکرز تعمیر کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خوراک ختم ہونے کی صورت میں زندگی بچانے کیلئے چوہوں، جنگلی پرندوں اور پالتو جانوروں کو استعمال میں لانے کا بھی منصوبہ ہے۔یہ بنکرز کولڈ وار کے دوران روس کی جانب سے ایٹمی حملے سے بچاؤ کیلئے تعمیر کئے گئے تھے، جن میں پناہ لے کر حکومتی عہدیدار خود کو تو بچا لیں گے لیکن باقی امریکیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیں گے۔ سابق امریکی صدر بش، نائب صدر ڈک چینی اور اعلیٰ حکام نے نائن الیون حملوں کے دوران ان بنکرز میں پناہ لی تھی۔ واضح رہے کہ آج امریکا کے پاس 6800 ایٹمی ہتھیار ہیں جبکہ روس کے پاس 7 ہزار ہیں۔