بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / پاکستان کو تنہا نہیں کیا جارہا ٗ امریکہ

پاکستان کو تنہا نہیں کیا جارہا ٗ امریکہ

واشنگٹن۔ امریکی کانگریس میں پاکستانی دھڑے کی سربراہی کرنے والی رکن کانگریس شیلا جیکسن لی نے کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا نہیں کیا جارہا، ٹرمپ انتظامیہ اپنی پالیسوں کا جائزہ لے رہی ہے،تمام بین الاقوامی تعلقات اونچ نیچ کا شکار ہوتے ہیں بالخصوص وہ تعلقات جنہیں ہم زیادہ اہمیت دیتے ہیں ،اس کا ہر گز مطلب نہیں پاکستا ن کو تنہا کیا جا ئے، پاکستان میں ڈرون حملے بڑھانے سمیت امداد میں کمی جیسے اقدا ما ت محض بیان اس پر امریکی کانگریس میں بحث ہونا ابھی باقی ہے۔

، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دونوں ممالک کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے منعقدہ بین المذاہب افطار ڈنر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاہم اس معاملے کا بحث کے لیے کانگریس میں آنا باقی ہے۔شیلا جیکسن کا کہنا تھا کہ ‘مجھے ایسا کوئی واضح اشارہ نظر نہیں آرہا کہ امریکا میں پاکستان کو تنہا کیا جارہا ہو، تمام بین الاقوامی تعلقات اونچ نیچ کا شکار ہوتے ہیں ۔

بالخصوص وہ تعلقات جنہیں ہم زیادہ اہمیت دیتے ہیں تاہم اصل بات یہ ہے کہ انہیں کس طرح حل کیا جاتا ہے اور میرا ماننا ہے کہ امریکا میں یہ روایت جاری ہے’۔ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاکستانی پالیسی کو سخت کرنے اور پاکستان میں ڈرون حملے بڑھانے سمیت امداد میں کمی جیسی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر رکن کانگریس کا کہنا تھا کہ پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں پر امریکی کانگریس میں بحث ہونا ابھی باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں ہونے والی تبدیلی پر اراکین کانگریس سے بات کریں گے اور وہ خود ان تبدیلیوں کا جائزہ لیں گی۔شیلا جیکسن کے مطابق میرے پاس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا ڈائریکٹ بیان موجود نہیں اور پالیسی میں ہونے والی تبدیلی کے لیے مجھے اس بیان کا انتظار کرنا ہوگا۔پاک امریکہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہوسٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹک قانون ساز کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دونوں ممالک کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور مسائل کو حل کرنے کا راستہ ڈھونڈنا ہوگا۔شیلا جیکسن لی نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان ’’تعاون کا راستہ‘‘ہے اور تعلقات میں سامنے آنے والے اختلافات کا حل دونوں ممالک کو مل کر تلاش کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستانی لوگوں اور اس کے اطراف میں موجود اقوام کے خلاف دہشت گردی کے مسئلے پر کام کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں’۔شیلا جیکسن نے کہا کہ ‘میرا ماننا ہے کہ ہمارے پاس تعاون کا راستہ موجود ہے، ہم لوگ جمہوریت کو پسند کرتے ہیں اور ہمیں اسی راستے پر چلتے رہنا ہوگا، امریکی کانگریس میں پاکستانی دھڑے کی چیئروومن ہونے کی حیثیت سے ہم اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ جب کبھی کوئی مسئلہ سامنے آئے اس کا حل تلاش کیا جائے’۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر اسلام آباد کے تحفظات سے آگاہ ہیں۔