بریکنگ نیوز
Home / کالم / مارچ2009ء

مارچ2009ء


مرکزی کردار: آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف‘ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سفارتکار پیٹرسن۔ 10مارچ: سفارتکار پیٹرسن کی ایک ہفتے میں جنرل کیانی سے چوتھی مرتبہ ملاقات ہوتی ہے جس میں جنرل کیانی کہتے ہیں کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو صدر زرداری کو مستعفی ہونا پڑے گا۔ جنرل کیانی اسفندیار کا نام بھی لیتے ہیں کہ جو متبادل کے طور پر صدر بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی باقاعدہ فوجی بغاوت نہیں ہوتی جو پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف پیش آتی جس کی سربراہی وزیراعظم گیلانی کر رہے تھے اور وہ قبل ازوقت انتخابات سے گریز کرتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ اگر عام انتخابات کا انعقاد اس موقع پر کیا جاتا ہے تو اس سے نوازشریف کی جماعت برسراقتدار آ جائے گی۔ جنرل کیانی یہ بات واضح طور پر کہتے ہیں کہ وہ اگرچہ زرداری کو پسند نہیں کرتے لیکن میاں نواز شریف پرآصف زرداری سے زیادہ اعتماد نہیں رکھتے۔ جنرل کیانی اس بات کا بھی اشارہ دیتے ہیں کہ کور کمانڈروں کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ زرداری بدعنوان ہیں اور انہیں پاکستان کے معاملات سے زیادہ دلچسپی نہیں بالخصوص ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اُن کی ترجیحات کا حصہ نہیں۔ جنرل کیانی سفارتکار کو کہتے ہیں کہ اُنہوں نے اس بارے میں زرداری سے براہ راست بات بھی کی ہے لیکن انہیں اس سے بظاہر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ فوج کے داخلی حلقے اُن کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں یا مارچ (احتجاج) کی صورت میں کیا سکیورٹی خطرات سر اٹھا سکتے ہیں۔

لائق توجہ ہے کہ کیانی شاید یہ چاہتے ہوں کہ وہ براہ راست اختلافات و تصادم سے گریز کریں جس سے زرداری کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ وہ جنرل کیانی ہی کو اُن کے عہدے سے الگ کر دیں۔ اِس کہانی کے تین سیاسی منظرنامے ہیں۔ پہلا صدر زرداری اور شریف برادران کے درمیان تناؤ ہے کیونکہ شریف برادران بارہ مارچ کے وکلاء احتجاج کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس تنازعہ سے وہ یہ حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ انہیں کسی پبلک آفس کے لئے منتخب ہونے کی نااہلی ختم ہو جائے پنجاب میں گورنر راج ختم ہو جائے اور جوڈیشل مسائل کے بارے میں بات ہو۔ فوجی مداخلت ہو اور ایک ایسا احتجاج ہو جس کی پہلے ہی سے تیاریاں مکمل کی ہوتی ہیں تاکہ تناؤ بھری صورتحال برقرار رہے سفارتکار پیٹرسن صدارتی محل کو یہ تجویز ارسال کرتے ہیں کہ ہمیں زرداری کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کہ وہ تناؤ میں کمی لائیں اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کو کہنا چاہئے کہ وہ اِس صورتحال کو معمول میں لانے کیلئے اپنا اپنا اثرورسوخ بروئے کار لائیں۔‘‘اس موقع پر اسفندیارولی نواز شریف کو مشور دیتے ہیں کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور آئندہ عام انتخابات کا انتظار کریں جس میں اُن کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

بصورت دیگر پیدا ہونیوالے سیاسی خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فوج کو مداخلت کرنیکا موقع یا جواز ہاتھ آجائیگا۔ گیارہ مارچ کے روز نواز شریف تصدیق کرتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنا لائحہ عمل وضع کر لیا ہے اور انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کو سینٹ میں لیڈر آف دی سینٹ کی نشست دینے کی پیشکش کی ہے۔ سفارتکار پیٹرسن زرداری کو تنبیہہ کرتے ہیں کہ نواز شریف یا اعتزاز احسن کی گرفتاری واشنگٹن یا دیگر حلقوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگی۔ سفارتکار پیٹرسن یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت میں جو کچھ بھی ہوگا وہ وکلاء کی تحریک کا نتیجہ ہوگا لہٰذا حکومت کسی سنجیدہ تصادم سے گریز کرے لیکن اگر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی یا کوئی دہشت گرد حملہ ہوا تو سب کچھ کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ زرداری کو فوجی اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ دانشور ابا ایبان کا قول ہے کہ ’’تاریخ نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ افراد اور اقوام عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہیں جب وہ دیگر تمام امکانات کے ذریعے مسائل اور تناؤ کے حل کی کوشش کرکے دیکھ لیتے ہیں۔‘‘