بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / خیبر ایجنسی کے تاریخی مقامات

خیبر ایجنسی کے تاریخی مقامات


خیبر ایجنسی کی بر صغیر پاک وہند کی تاریخ میں اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی بھی دوسرے خطے کی ہے۔اس تاریخی درے جسے خیبر کہا جاتا ہے کی مناسبت ہی سے نہ صرف اس خطے بلکہ اس انتظامی یونٹ کا نام بھی خیبر ایجنسی رکھا گیاہے۔یہ تاریخی علاقہ جہاں یہاں کے مقامی قبائل کی وجہ سے مشہور ہے وہاں اس کی ایک اور اہم وجہ شہرت یہاں کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع کیساتھ ساتھ یہاں کے بعض تاریخی اور سیاحتی مقامات بھی خاص اہمیت کے حامل ہیں۔یہاں بسنے والے قبائل اور ان کی تاریخ اور کارناموں پر تو وقتاً فوقتاً روشنی پڑتی رہتی ہے لیکن یہاں کی جغرافیائی ساخت اور محل وقوع کے علاوہ یہاں کے بعض تاریخی مقامات کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہیں جس کی ایک وجہ اگر قبائلی علاقوں کے مخصوص حالات اور وہاں رائج ایف سی آر کا اندھا ،گونگا اور بہرا قانون ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں کی ترقی اور یہاں عام لوگوں کی رسائی میں کئی پیچیدگیاں پائی جاتی ہیں تو اس کی دوسری وجہ بڑی ہمارے لکھاریوں کی سہل پسندی اور ہمارے ہاں تحقیقی کلچر کا فقدان ہے جس کے باعث ہماری زندگیوں کے کئی چھپے ہوئے حالات اور گوشے عموماً سامنے نہیں آپاتے ہیں۔خاکسار کو یہ تمہید پچھلے دنوں فیس بک پر پاکستان سٹڈی سنٹر یونیورسٹی آف پشاور کے ڈائریکٹر اور معروف محقق پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام کے خیبر ایجنسی کی تاریخی گزرگاہ پشاور طور خم شاہراہ اور خیبر ایجنسی کے بعض تاریخی مقامات کے حوالے سے پوسٹ کی جانے والی بعض تصاویر اور تبصرے کو دیکھ کر باندھنی پڑی ہے۔مذکورہ پوسٹ میں ڈاکٹر فخر الاسلام لکھتے ہیں کہ “وہ اپنی والدہ اور بھائی سے ملنے لنڈیکوتل جا رہے تھے تو خیبر کے درے اور پہاڑوں نے ان پر عجیب طرح کا اثر کیایہ درہ نہ جانے کتنے فاتحین‘ تجار اور اپنے فن میں یکتا لوگوں کی راہگزر رہا ہے ۔ جن لوگوں نے اس علاقے کی تاریخ پڑھی ہے انہوں نے وار برٹن،اوولف کیرو اور جیمز سپین کی کتابوں کو ضرور پڑھا ہوگا۔حیرت ہے کہ ہمارے طلباء وطالبات سٹڈی ٹورز کے لئے اسلام آباد اور دیگر شہروں کا رخ تو کرتے ہیں مگر یہ لوگ درہ خیبر کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

حالانکہ آج کل یہ علاقہ بہت ہی پر امن ہے “۔ ویسے تو پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام کے اس پوسٹ میں ہم سب کے لئے کئی توجہ طلب نکات ہیں اور ان پر سیر حاصل گفتگو کے ساتھ ساتھ متعلقہ اداروں اور حکام کے گوش گزار کرنے کے لئے بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن اگر فی الوقت کالم کی تنگ دامنی کاپاس رکھتے ہوئے ہم ان کے پوسٹ کے صرف دو نکات پر غور کریں تو اس سے کافی حد تک ہم اس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے جسکی طرف ڈاکٹر صاحب نے اشارہ کیا ہے۔اس ضمن میں پہلی بات خیبر ایجنسی کے تاریخی اور اہم سیاحتی مقامات کا ہر سطح پر نظر انداز کیا جاناہے جس کی مثال ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر دی ہے کہ ہمارے طلباء وطالبات ملک کے دیگر حصوں کی سیر وسیاحت کیلئے تو جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے قرب میں واقع خیبر ایجنسی کے صدیوں پرانے ‘تاریخی اور اہم سیاحتی مقامات دیکھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی ۔اسی طرح انہوں نے خیبر ایجنسی کی تاریخی اہمیت جاننے کیلئے جن مورخین اور محققین کا حوالہ دیاہے وہ تینوں انگریز ہیں ۔ اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہمیں خیبر ایجنسی کی تاریخ کے بارے میں جاننے کے لئے انگریز مورخین اور مصنفین کی تحقیق اور تصانیف کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

اس سلسلے میں یہ کام جہاں فاٹا سیکرٹریٹ کے ذریعے کیا جاسکتا ہے وہاں اس ضمن میں خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ‘ سیاحت و ثقافت اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیسٹوریکل اینڈ کلچرل سٹڈیزاور لوک ورثہ جیسے اداروں کے اشتراک کے علاوہ قبائلی علاقوں کی ترقی کے لئے قائم ادارے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وسائل اور اختیارات کو بھی بروئے کار لا یا جا سکتا ہے۔واضح رہے کہ خیبر ایجنسی کے جن مقامات میں سیاحتی مراکز بننے کا زبردست پوٹینشل موجود ہے ان میں درہ خیبر کی تاریخی پشاور طور خم شاہراہ ‘جمرود ‘علی مسجد اور شاگئی کے تاریخی قلعے ‘کئی بے شمار چشمے اور آبشار،شلمان کا خوبصورت علاقہ‘ دریائے کابل، دریائے باڑہ ‘میچنی پوسٹ ‘ پاک افغان طور خم بارڈر‘بدھاسٹوپا‘باب خیبر ‘ بیسئے بابا پہاڑی ‘جمرود اور لنڈیکوتل کی پہاڑیاں اور سب سے بڑھ کر وادی تیراہ اور پشاور لنڈیکوتل ریلوے ٹریک وہ تاریخی مقامات ہیں جن کو سیاحتی مراکز میں تبدیل کر کے اور یہاں درکار تمام ضروری سہولیات مثلاً پانی ‘بجلی‘ سڑکیں ‘ ریسٹورنٹس‘ ریسٹ ہاؤسز‘انفارمیشن سنٹرز اور سب سے بڑھ کر سکیورٹی فراہم کر کے ان مقامات کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔