بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / تاریک پہلو

تاریک پہلو


خواہش جرم نہیں ہوتی۔ تحریک اِنصاف کو ان ناکردہ گناہوں کی سزا بھی مل رہی ہے‘ جو ماضی و حال کے حکمرانوں نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے دانستہ طور پر کی ہیں! پاکستان کی سیاست کا تاریک پہلو یہی ہے کہ اس میں اقتدار و اختیار کو ہر قسم کی بدعنوانی کا لائسنس سمجھا جاتا ہے۔ یادش بخیر پانامہ پیپرز کی صورت چشم کشا انکشافات منظرعام پر آئے جن سے معلوم ہوا کہ بیرون ملک اَثاثہ جات‘ سرمایہ کاری اور پاکستان سے سرمائے کی غیرقانونی طریقوں سے منتقلی ہوئی ہے۔ اِس متعلق دستاویزی ثبوت تحقیقاتی صحافت کرنیوالی ایک عالمی تنظیم اور ایک جرمن اخبار نے بعداَز تصدیق و اطمینان جاری کئے تھے تو صرف پاکستان ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں پانامہ پیپرز کی اصلیت کے بارے سوال اٹھائے گئے۔ دیگر تمام ممالک کے ’ملوث بااثر خاندانوں اور حاضر حکمرانوں کی نیندیں اُڑ گئیں اُور پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ’آن دی ریکارڈ‘ ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ ’’قوم پانامہ پیپرز جلد بھول جائے گی!‘‘ اور ایسا ہی ہوتا کہ قوم سوئس بینک اکاؤنٹس اور متحدہ عرب امارات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی طرح پانامہ پیپرزمیں نامزد قومی مجرموں اور ان کی وارداتوں کو فراموش کر دیتی اگر تحریک انصاف نہ ہوتی! کسی کو یاد بھی نہ ہوتا کہ موزیک فونیسکا نامی دنیا کی چوتھی بڑی آف شور سرمایہ کار کمپنی کیا ہے اور اس کی ملکیت 1 کروڑ 15 لاکھ سے زائد الیکٹرانک طور پر محفوظ دستاویزات چوری ہونے سے پاکستان کو کیا فرق پڑتا ہے‘ چونکہ مذکورہ الیکٹرانک دستاویزات کا تعلق مختلف ممالک کے حکمرانوں سے تھا۔

اِس لئے تصدیق و تحقیق کیلئے مقامی صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں یا ملتے جلتے بااثر خاندانوں کی واضح اور ناقابل تردید ثبوتوں کیساتھ مالی بدعنوانیوں کے انکشافات بارے تحقیق کرنے میں ایک سال سے زائد وقت لگا اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد برطانوی خبررساں ادارے ’بی بی سی‘ اور گارڈین نامی اخبار نے 12ممالک سے تعلق رکھنے والے 143 سیاستدانوں‘ اُن کے اہل و عیال‘ اور قریبی ساتھیوں کے نام جاری کر دیئے جنہوں نے مشکوک ذرائع آمدنی سے بیرون ملک سرمایہ کاری کی اور اپنے اپنے ملک میں قوانین و قواعد کو پامال کیا۔ قوم یقیناًبھول جاتی اگر تحریک انصاف سپریم کورٹ کے سامنے ’حقائق پیش نہ کرتی۔ یاد رہے کہ مذکورہ مقدمہ یکم نومبر دوہزار سولہ سے تیئس فروری دوہزار سترہ تک جاری رہا جسکا فیصلہ ’بیس اپریل دوہزار سترہ‘ سنانے اور بعدازاں چھ مئی دوہزار سترہ کو چھ رکنی جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی جس نے ساٹھ روز میں مزید تحقیقات مکمل کرنی ہے تاکہ وزیراعظم پاکستان اور اُن کے اہل خانہ اپنی بے گناہی ثابت کرسکیں۔ تحقیقات کا یہ عمل جاری ہے جس کے روبرو اب تک وزیراعظم‘ اُن کے صاحبزادے اُور بھائی سمیت متعلقہ اَفراد پیش ہو چکے ہیں اور پانامہ کیس کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے ’حدیبیہ پیپرز ملز‘ جیسا ایک ’دفن کیس‘ بھی نکل آیا ہے۔

‘ جس کے ذریعے حکمرانوں کی بدعنوانی ثابت کرنے میں رہی سہی کسر بھی نکل جائے گی!’معصومانہ خواہش‘ ہے کہ ایک اسلامی اور جمہوری ملک میں بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کی عملداری ہو۔ اِختیارات اُور اَثرورسوخ رکھنے والے ریاست کا یکساں و لازم احترام کریں۔ کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہ ہو اور اگر ایسا عملاً ممکن ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لئے ’حقیقی عید کا دن بھی وہی ہوگا جب حقوق غصب کرنے والوں کا بلاامتیاز احتساب ہوتا نظر آئے گا کیونکہ اللہ کی عطا کردہ نعمتیں اور وسائل کی کبھی بھی کمی نہیں رہی لیکن حکمرانوں کی حرص و طمع اور لالچ اُس بلندی کو چھو رہی ہے‘ جہاں انہوں نے پاکستان کے مالی وسائل مختلف ناموں سے بیرون ملک منتقل کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک کے حکمرانوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین ذاتی و سیاسی ترجیحات پر اس طرح قربان کئے ہوں! بڑے پیمانے اور بلاامتیاز احتساب تو بہت دور کی بات پانامہ کیس کی صورت ابھی صرف ایک ہی خاندان سے پوچھ گچھ کا عمل شروع ہوا ہے‘ تو تحریک انصاف ہی کو نااہل قرار دینے کیلئے ایک سے زیادہ عذرداریاں دائر کر دی گئی ہیں! یقیناًدوسروں کے احتساب کی خواہش رکھنے والوں نے ’اپنے کردار‘ عمل اور مستقبل کے نفع و نقصان (سودوزیاں)‘ کا حساب کر رکھا ہوگا ۔