بریکنگ نیوز
Home / کالم / جنون اور استعارہ!

جنون اور استعارہ!

پاکستان کے لئے کرکٹ صرف کھیل یا کھیل جیسا نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ پوری قوم جس مہارت سے اِس کھیل کے بارے میں تبصرے بلکہ فیصلے صادر فرماتی ہے‘ اور جسطرح پاکستان میں کرکٹ کی اپنی ریٹنگ جاری کرنے کے علاوہ اس ملک میں کرکٹ کنٹرول کرنیوالا حکومتی ادارہ خرابیوں کا مجموعہ ہے‘ اس کی عملی مثال شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ملے جو ٹیم کچھ دن پہلے تک آئی سی سی‘ چیمپیئنز ٹرافی میں کوالیفائی کرنے کے لئے جدوجہد کر رہی تھی آج کامیابی سمیٹے اپنے وطن واپس لوٹ آئی ہے اور اس شاندار جیت کا شاندار جشن منایا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایک بار پھر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وہ ناقابل شکست نہیں بلکہ ناقابل یقین ٹیم ہے جو کہیں بھی اور کسی بھی وقت سب کو حیران کر سکتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ جیت بہت سی خامیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے‘ بعض لوگوں کی رائے میں اس جیت کو محض پاکستان کی اچھی قسمت کہا جا سکتا ہے کیونکہ پہلے میچ میں بھارت سے شکست کے بعد جنوبی افریقہ سے جیت میں بارش کا بہت بڑا ہاتھ تھا اور سری لنکا کے خلاف ہماری باؤلنگ میں بہتری تو نظر آئی مگر ہماری بیٹنگ لائن ’اپ ان‘ مدمقابل باؤلنگ اٹیک کے سامنے بھی کافی مشکلات کا شکار نظر آئی۔ یہ قبل ازوقت ہوگا کہ ابھی سے پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کو انگلینڈ یا بھارت کے کھلاڑیوں کے ہم پلہ سمجھا جائے۔

نوجوان اوپنر فخر زمان ایک اچھے اور پر اعتماد بیٹسمین کی حیثیت سے ٹیم میں تو شامل ہوئے ہیں مگر بھارت کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین تجربے اور تکنیک میں ابھی بھی ان سے کہیں اوپر ہیں۔ بھارت کو بڑے میچ میں ہرانے کے بعد بھی بھارتی ٹیم کو کسی طور پر بھی ہلکا نہیں لیا جا سکتا‘ ان کے بلے باز کسی بھی میچ کو اپنے حق میں کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ہارنے کے بعد تو گویا اُن کا تجربہ اُور بھی بڑھ گیا ہے۔ اس جیت کے بعد بھی اگر دیکھا جائے تو ہمارا مڈل آرڈر اس طرح سے مؤثر نہیں‘ جس طرح ہونا چاہئے‘ اِس سلسلے میں آئے روز ’مڈل آرڈر‘ میں تبدیلیاں اس بات کی واضح مثالیں ہے۔ خدانخواستہ اس فائنل میں اگر بھارت کی بیٹنگ چل جاتی تو پہلی اننگ کے آخری اوورز میں ’سست رن ریٹ‘ ہی ہماری شکست کی وجہ بنتا۔ اگر ہماری اوپننگ اچھا آغاز نہ دے پاتی تو شعیب ملک‘ حفیظ‘ عماد اور سرفراز پر پوری طرح بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میرے خیال میں سرفراز کا عماد وسیم کو خود سے پہلے بھیجنے کا فیصلہ ٹھیک نہیں تھا کیونکہ ٹیم کے کپتان خود ایک بیٹسمین بھی ہیں پھر بھی ’آل راؤنڈر‘ کو اتنے بڑے میچ میں فوقیت دینا بہت بڑی غلطی ثابت ہو سکتی تھی۔ عماد وسیم کی آخری اوورز میں غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ اور غلط شاٹس نے اس چیز کو ثابت بھی کیا۔ دوسری جانب بھارت کے آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا کو دیکھا جائے تو انہوں نے اتنے دباؤ میں بھی بہت ہی گیندوں پر ففٹی اسکور کی اور محض دو اوورز میں رن ریٹ کافی بہتر بنا دیا۔ اسی طرح نوجوان کھلاڑی حسن اس ٹورنامنٹ میں گولڈن بال کے حقدار تو بنے مگر ابھی بھی ان کو اپنے آپ کو ٹاپ ٹین باؤلرز کی صف میں لانے کے لئے خاصی محنت اور یک سوئی درکار ہوگی۔ بلاشبہ عامر اچھا باؤلر ہے مگر پچاس اوورز کے میچ میں اس کے حصے میں محض 10اوورز آتے ہیں۔ جنید خان کی اس ٹورنامنٹ میں کارکردگی تو اچھی رہی ہے مگر ماضی میں فٹنس مسائل اور خراب کارکردگی کی وجہ سے وہ ایک طویل عرصہ ٹیم سے باہر بھی رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کی فتح بہت بڑی فتح ہے مگر اس فتح کے سائے میں ہمیں ان تمام خامیوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ اس جیت کے بعد سب سے بڑا چیلنج اس تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ اگر پاکستان کے موجودہ پلیئنگ الیون کو دیکھا جائے ۔

جس نے یکے بعد دیگرے اپنی ٹیم کو فتوحات دلوائی ہیں‘ تو یہ ایک ایسی ٹیم نظر آئے گی جس میں ہر شعبے میں بھرپور طریقے سے لوہا منوانے کی صلاحیت موجود ہے مگر اسے بھرپور توجہ کی اشد ضرورت ہے اور ابھی بھی ایک لمبا سفر طے کرنا باقی ہے۔ اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ کرکٹ بورڈ کی قومی ٹیم کے لئے گیارہ کھلاڑیوں کی تلاش ختم ہو گئی ہے۔ یہ سب کریڈٹ پی ایس ایل اور ملک میں ہونیوالے ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹس کو بھی جاتا ہے جہاں سے یہ نوجوان کھلاڑی ابھر کر آئے۔ ایسے تمام نوجوان کھلاڑیوں نے کارکردگی دکھانی ہے جنکی کرکٹ کا آغاز ہی ابھی ہوا ہے‘ جو کم از کم دو یا تین ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اب ذمہ داری بنتی ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں پر پوری طرح سے بھروسہ کرے اور ان کی کھیل میں مہارت کو مزید نکھارنے کیساتھ ساتھ ان کے کردار اور فٹنس پر خصوصی توجہ دی جائے ایبٹ آباد کی کاکول اکیڈمی میں آرمی سپروائزرز کی نگرانی میں فٹنس کے مسائل کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ماضی میں ہوا بھی لیکن اگر پاکستان کا باؤلنگ اٹیک مضبوط سمجھا جا رہا ہے تو اس کو مزید مؤثر اور زیادہ عرصہ لے کر چلنے کے لئے ’جسمانی فٹنس‘ انتہائی اہم ہے اور اِس کے لئے ’پی سی بی‘ کو اپنے وسائل سے بندوبستی انتظامات کرنا ہوں گے۔ کرکٹ ٹیم کے کسی اہم کھلاڑی کو معمولی کمر درد کی بنیاد پر محض ایک میچ کے لئے آرام دینا بظاہر بہت معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے جیسے ہم نے برطانیہ اور پاکستان کے سیمی فائنل میں عامر کو دیکھا مگر بعض اوقات ایسے اقدام پورے میچ اور پورے ٹورنامنٹ میں کارکردگی کا رخ موڑ سکتے ہیں۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: وقاص خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)