بریکنگ نیوز
Home / بزنس / ایف بی آر کیلیے نظر ثانی شدہ ریونیو ہدف کا حصول مشکل ہو گیا

ایف بی آر کیلیے نظر ثانی شدہ ریونیو ہدف کا حصول مشکل ہو گیا

 اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کو رواں مالی سال2016-17 کے لیے مقرر کردہ 3500 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا نظر ثانی شُدہ ہدف حاصل کرنے کے لیے اگلے 2دن میں مجموعی طور 300 ارب روپے سے زائدکی ٹیکس وصولیاں کرنا ہوں گی جس کے باعث ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال کا ٹیکس وصولیوں کا نظرثانی شدہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عید کی تعطیلات سے قبل ہفتہ کی شام تک ایف بی آر کو حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیاں مجموعی طور پر 3 ہزار 200 ارب روپے کے لگ بھگ تھیں اور اب عید کی تعطیلات کے بعد ایف بی آر کے پاس ٹیکس وصولیوں کے لیے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر حکام نے وزارت پٹرولیم حکام اور طوزارت پانی وبجلی کے علاوہ ٹیلی کام سیکٹر کے بڑے ٹیکس دہندگان کے ساتھ اہم اجلاس کیے ہے اور توقع ہے کہ ان اداروں سے ایف بی آر کو آخری دو دنوں میں بھاری ریونیو حاصل ہوگا لیکن اس کے باوجود شارٹ فال بہت زیادہ ہے جس کا پورا ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے ٹیکس وصولیوں کے بڑے شارٹ فال کے باعث ٹیکس دہندگان کے اربوں روپے مالیت کے ریفنڈ بھی روک رکھے ہیں کیونکہ اگر یہ ریفنڈز بھی جاری کردیے جاتے تو ریونیو شارٹ فال بہت زیادہ بڑھ جاتا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر نے اگلے دودنوں کے لیے ایف بی آر کے تمام ماتحت اداروں کے دفتری اوقات میں بھی اضافہ کردیا ہے اور تمام دفاتر و متعلقہ بینک برانچز دیر تک کھُلی رہیں گی جبکہ 30جون کو یہ دفتری اوقات رات 12 بجے تک کے لیے بڑھادیے گئے ییں تاکہ ٹیکس دہندگان کو ٹیکس واجبات جمع کروانے میں سہولت میسر آسکے اور وہ اپنے ٹیکس واجبات جمع کرواسکیں۔

علاوہ ازیں ٹیکس حکام سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک حکام اور بینکوں کی متعلقہ برانچز کے سربراہان کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں تاکہ ٹیکس دہندگان کی جانب سے جمع کروائے جانے والے ٹیکس واجبات کی بروقت قومی خزانے میں منتقلی اور ان کی 30جون کی ہی تاریخ میں رپورٹنگ کو یقینی بنایاجاسکے۔