بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چین نے 300 بھارتی یاتریوں کو روک لیا

چین نے 300 بھارتی یاتریوں کو روک لیا


بیجنگ/نئی دہلی ۔چین کی وزارت خارجہ نے کہاہے کہ بھارت کے سرحدی محافظوں کی جانب سے تبت اور سِکم کے درمیانی علاقے میں دراندازی کے بعد سکیورٹی خدشات کے باعث انڈیا سے آنے والے 300 ہندو اور بدھ مت یاتریوں کو روک دیا گیا ہے۔چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں ہندو اور بدھ مت یاتری کی آمد پر پابندی کے حوالے سے سفارتی چینل کے ذریعے انڈیا کو مطلع کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب انڈیا کی جانب سے چین کی جانب سے لگائے جانے والے الزام کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا گیا ہے تاہم پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دہلی میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کانگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین نے انڈیا کو مطلع کر دیا کہ بیجنگ دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے حق میں ہے تاہم اپنی خودمختاری اور فوائد کی حفاظت کیلئے پرعزم ہے۔

ایک سوال کے جواب میں لو کانگ نے کہا کہ سِکم کے علاقے میں چین اور انڈیا کی سرحد کی حدبندی کا تعین ہو چکا ہے۔برطانیہ اور چین کے درمیان سکم اور تبت سے متعلق 1890 کے معاہدے کی پہلی شق میں کہا گیا کہ سکم اور تبت کی سرحد اس سلسلہ ہائے کوہ کا بلند ترین مقام ہوگا جو کہ سکم تیستا میں داخل ہونے والے دریاؤں اور اس کے ذیلی ندی نالوں کو تبتی موچو اور شمال کی جانب دیگر تبتی دریاؤں میں شامل ہونے والے پانی سے الگ کریگی ۔

یہ سرحدی لکیر بھوٹان کی سرحد پر گپموچی نامی پہاڑ سے شروع ہوگی اور دریاؤں کیساتھ ساتھ اس مقام پر ختم ہوگی جہاں سے نیپال کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ چین اور انڈیا کی حکومتیں سِکم کی سرحدی حدبندی کو تسلیم کر چکی ہیں ٗ اس بات کی تصدیق انڈین رہنما، انڈیا کے سرکاری دستاویزات اور انڈیا کا خصوصی وفد جو سِکم اور تبت کی سرحدی حدبندی کے لیے چین کے وفد سے ملا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کا اس کنونشن اور دستاویز کا احترام کرنا بین الاقوامی ذمہ داری ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا۔انڈیا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق چین کی جانب سے دراندازی کا الزام لگانے کے بعد اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سِکم کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اس اجلاس میں فوج، انڈو تبتن سرحدی پولیس اور وزارت داخلہ کے نمائندگان نے شرکت کی۔