بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ بھارت اور کشمیر!

امریکہ بھارت اور کشمیر!

بھارت کیلئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں نرم گوشہ سب پر عیاں لیکن تعجب خیز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ وہ دنیا کو ایک ایسی انتہاء تک لے جانا چاہتے ہیں جہاں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہ ہو۔ بہت کم حکمت کاروں کو علم ہو گا کہ بھارت’ممبئی اور پونے میں دو ٹرمپ ٹاورز مقامی سرمایہ کاروں کی شراکت میں بروئے کار ہیں مزے کی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ فاؤنڈیشن نے ایک ڈالر کی سرمایہ کاری نہیں کی صرف نام استعمال کرنے کے حقوق کے عوض ملین ڈالرز رائلٹی وصول کی جا رہی ہے۔کلکتہ اورگڑ گاؤں میں مزید تین تعمیراتی منصوبے زیر تکمیل ہیں ٹرمپ‘ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد بھارت کو سرمایہ کاری کیلئے محفوظ ترین جگہ قرار دے چکے ہیں۔ پونے اور ممبئی کے ٹرمپ ٹاور امریکی صدر کے بھارت کی جانب جھکاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہیںیہ بھی ٹرمپ ہی تھے جس نے کہا تھاکہ پاکستان کی مبینہ دہشتگردی کا مداوا اور علاج بھارت کریگا۔ٹرمپ اور مودی کی شکل میں پاکستان اور دین اسلام کے خلاف ہنود و یہود کا گٹھ جوڑ اب کھل کر سامنے آگیا ہے امریکہ اور بھارت کی قیادتوں کی جانب سے پاکستان پر ایک بار پھر زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین دیگر ممالک میں دہشت گردی کی کاروائیوں کیلئے استعمال نہ ہونے دینے کو یقینی بنائے اس سلسلہ میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے ٹرمپ‘ مودی ملاقات کے بعد ایک بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ بھارت نے امریکہ کی جانب سے کشمیری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں ٹرمپ اور مودی نے اس بارے میں بھی اپنی ذہنی ہم آہنگی کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں مبینہ طور پر سرگرم جیش محمد اور لشکر طیبہ سمیت شدت پسند تنظیموں کے لاحق خطرات کیخلاف باہمی تعاون میں اضافہ کرینگے وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے ذریعے ٹرمپ اور مودی نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ دوہزار آٹھ کے ممبئی حملوں اور دوہزار سولہ کے پٹھان کوٹ حملے کے ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لاکر سزا دے۔ بھارت ان حملوں کا لشکر طیبہ اور جیش محمد کو ہی ذمہ دار ٹھہراتا رہا ہے اور پاکستان پر ریاستی دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام بھی لگاتا رہا ہے جسے پاکستان کئی بار سختی سے مسترد کرچکا ہے جبکہ اب ٹرمپ‘ مودی ملاقات کے موقع پر ان الزامات کا اعادہ کیا گیا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے مودی سے ملاقات کے بعد یہ بیان دے کر ہنود و یہود گٹھ جوڑ کو مزید اجاگر کیا کہ امریکہ اور بھارت کے تعلقات پہلے کبھی اتنے مضبوط نہیں رہے جتنے آج ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں ہوئی ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے مودی کو ’’سچا دوست‘‘ کہہ کر مخاطب کیا اورمسلمانوں کیخلاف زہر اگلتے ہوئے کہا کہ ’’ہم (امریکہ) بھارت کے ساتھ مل کر دنیا سے اسلامی انتہاء پسندوں کا خاتمہ کریں گے۔‘‘ ذرائع کے مطابق نریندر مودی اس حوالے سے ایک آفس ملازم کی طرح ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے۔

‘ ٹرمپ سے ملاقات سے قبل نریندر مودی نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل میں اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ بھارت اور امریکہ مشترکہ طور پر پیداوار اور جدت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ٹرمپ درحقیقت اپنے اس بیس نکاتی منشور پر ہی عمل پیرا ہیں جس کی بنیاد پر انہوں نے صدارتی انتخاب لڑا اور دہشت گردی کا سارا ملبہ دین اسلام اور مسلمانوں پر ڈال کر وہ ہنود و یہود کے ترجمان بن کر اپنے ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرتے رہے بطور صدر امریکہ حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں ہی اسلامی انتہاء پسندی کا لفظ استعمال کرکے ہر قسم کی دہشت گردی کا تعلق دین اسلام کیساتھ جوڑنے کی کوشش کی ۔ اس صورتحال میں اگر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ٹرمپ ثالث کا کردار ادا کرتے ہیں جس کی وہ وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران خواہش کا اظہار بھی کرچکے ہیں تو لازمی طور پر وہ بھارت کے حق میں ڈنڈی ہی ماریں گے پاکستان کے لئے امریکی بیان سے محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ کے نزدیک معصوم کشمیریوں کے خون کی کوئی وقعت نہیں۔ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ کے اعلانیہ اظہار کے بعد کیا اب پاکستان اپنی قومی خارجہ پالیسی کی سمت تبدیل کرنا نہیں چاہئے۔(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: جواد عظیمی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)