بریکنگ نیوز
Home / کالم / جس کی لاٹھی اس کی بھیس

جس کی لاٹھی اس کی بھیس

سی سی ٹی وی کیمرہ ایک ایسی لا جواب ایجاد ہے کہ وہ ہرراز کو آشکار کر دیتا ہے مجرموں کی نشاندہی اور انہیں پکڑنے میں یہ کیمرہ بڑے کام آتا ہے یہ اسی کیمرے کا کمال تھا جو چند روز پہلے بلوچستان کے ایک ایم پی اے مجید اچکزئی کو گرفتار کرنے میں کام آیا جس نے اپنی تیز رفتار گاڑی سڑک پر ڈیوٹی دینے والے ایک ٹریفک سارجنٹ پر چڑھا دی اور اسے ہلاک کر دیا بادی النظر میں تو اس کیمرے کی فوٹیج سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی نشے میں دھت تھا اور اسے نظر ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کسی انسان پر اپنی گاڑی چڑھا رہا ہے یا کسی چیونٹی کو کچل رہا ہے اس کیمرے نے ناظرین کو یہ بھی بتایا کہ جب اسے گرفتار کیا گیا تو نہ اس کے چہرے پر کوئی ندامت تھی اور نہ پچھتاوے کی کوئی کیفیت الٹا موصوف نے ان ٹیلی ویژن کیمرے والوں کو یہ کہہ کر ڈانٹ پلا دی کہ ’’ بے شرم کہیں کے ‘‘ کیا پولیس نے تمہیں پہلے سے بھلا رکھا ہے ‘‘اگر اس قسم کی حرکت یا جرم اس ملک کے کسی عام آدمی نے کیا ہوتا اور وہ رنگے ہاتھوں پکڑا جاتا تو پولیس اسے ہتھکڑی پہنا کر عدالت میں پیش کرتی لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ موصوف کو پولیس نے ہتھکڑی نہیں پہنائی‘ موصوف اسمبلی کے رکن ہیں جن کے فرائض منصبی میں قوانین وضع کرنا۔

قانون سازی کرنااور ان پرعملدرآمد کو یقینی بنانا شامل ہے جب قانون بنانے والے یا باالفاظ دیگر قانون کے کسٹوڈین اس قسم کی اوچھی حرکات پر اتر آئیں تو پھر اس ملک کا کیا بنے گا کہ جسکی اسمبلی کے اس قسم کے لوگ رکن ہوں ؟ وہ ملک اور قومیں تباہ ہو جایا کرتی ہیں کہ جو قوانین کے اطلاق میں امتیاز و تمیز برتتی ہیں جومالدار اور بارسوخ مجرموں کو سزا نہیں دیتیں اور جن کا بس صرف غریب مجرموں پر ہی چلتا ہے ہم بدگمان ہیں او ر اس طرح اس ملک کا ہر ذی شعور شخص بھی بدگمان ہے کہ مجید اچکزئی کیخلاف کچھ بھی نہیں ہو گا وہ سیاسی دباؤ سے ہلاک ہونے والے پولیس کے اہلکار کے خاندان کو معاف کرنے یا دیت لینے پر مجبور کر دیں گے بلوچستان کا معاشرہ ویسے بھی قبائلی معاشرہ ہے کہ جہاں سرداروں کی بادشاہی ہے۔

ان کی مرضی کے خلاف پتا بھی نہیں ہلتا ہلاک ہونیوالے پولیس اہلکار کا تعلق ایک غریب اور محنت کش گھرانے سے ہے اس کے بال بچے ابھی اس قابل نہیں کہ وہ سر اٹھا سکیں ہاں یہ اور بات کہ فی الحال وہ خاموش ہو جائیں اور وقت کا انتظار کریں اور بعد میں خود مجید اچکزئی سے اپنا بدلہ لے لیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر وہ اسمبلی کے رکن بنے ہیں وہ انہیں فوری معطل کر دیتی لیکن لگتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ جو شخص سیاسی طور پر اتنا مضبوط ہو کہ پولیس اسے ہتھکڑی پہنانے سے بھی ہچکچائے اس کا بلڈ ٹیسٹ کیسے لیا جا سکتا ہے جسطرح کہ اس ملک میں ’’بدمعاشیہ‘‘ ہمیشہ قانون کی گرفت سے اپنے آپ کوبچاتی رہی ہے مجید اچکزئی صاحب بھی سرخرو ہو کر پولیس اورعدالت کے نرغے سے نکل آئیں گے اور ٹیلی ویژن کیمرے کے سامنے اپنی دو انگلیوں سے وکٹری سائن بنائیں گے کہ جیسے وہ ونسٹن چرچل ہوں اور انہوں نے دوسری جنگ عظیم جیت لی ہو۔