بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خارجہ امور پر بریفنگ

خارجہ امور پر بریفنگ

وزیراعظم نوازشریف کو گزشتہ روز دفتر خارجہ میں دی جانے والی بریفنگ اور فارن آفس ہی میں منعقدہ اجلاس کے فیصلے خطے کی صورتحال کے تناظر میں وطن عزیز کی خارجہ پالیسی کے عکاس ہیں خبررساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم کو افغانستان‘ ایران اور بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات سے آگاہ کیاگیا اس موقع پر بھارتی وزیراعظم کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات اور ڈرون طیاروں سمیت اسلحہ کی فروخت کے معاملے کا جائزہ بھی لیاگیا جہاں تک افغانستان سے متعلق فیصلوں کا تعلق ہے تو حکومت پاکستان نے یہ اصولی فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ کوئی افغان باشندہ بائیومیٹرک سسٹم کے علاوہ پاکستان میں داخل نہیں ہوسکے گا اس حوالے سے افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ اور سرحد پر باڑ لگانے پر بھی وزیراعظم کو بریف کیاگیا ہے دوسری جانب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل منیجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا عمل شروع کردیاگیا ہے ‘پہلے مرحلے میں یہ باڑ زیادہ حساس علاقوں میں لگائی جارہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں پوری سرحد پر لگائی جائے گی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد جلد کابل کا دورہ کریگا۔

اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے بات چیت کی جائیگی پاکستان خطے کی صورتحال کے تناظر میں ایک آزاد اور خود مختار ریاست کی حیثیت سے ہر معاملے میں اپنا موقف رکھتاہے جو اس کا حق ہے وزیراعظم نوازشریف واضح کرتے ہیں کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن اور خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے تاہم پرامن ہمسائیگی کیساتھ اپنے دفاع اور سلامتی کے حوالے سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں پاکستان کا موقف شفاف ہے دوسری جانب بھارت اور افغانستان سے بے بنیاد الزامات بھی آتے ہیں اور ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ بھی ہوتی ہے جس پر گزشتہ روز بھی بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کیاگیا یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی طاقتیں پورے منظر نامے کا غیر جانبداری سے ادراک کریں۔

اعلانات اور نتائج کے درمیان فاصلے

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گزشتہ روزکسی پروٹوکول کے بغیر گلیات کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ‘ وزیراعلیٰ خود گاڑی ڈرائیو کرکے بازاروں میں بھی گئے اورشہریوں سے بات چیت کی‘ حکومت مرکز میں ہو یا کسی بھی صوبے میں اس کے ذمہ داروں کیلئے اپنے اعلانات اور اقدامات کے نتائج مانیٹر کرنا ضروری ہوتا ہے ہمارے ہاں حکومت کی جانب سے متعدد اصلاحات صرف اعلانات اور سرکاری فائلوں میں لگے رنگ برنگے خطوط میں ہی دکھائی دیتی ہیں ان کے ثمرات برسرزمین کہیں نہیں ہوتے اس کی بنیادی وجہ ذمہ دار حکام کا ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سب اچھا کی رپورٹیں لکھنا ہے اور اعلیٰ قیادت اس پر اطمینان کا اظہار کر دیتی ہے حکومت صحت کے شعبے میں جتنی اصلاحات کرے سرکاری شفاخانوں میں لوگ اسی طرح سروسز نہ ملنے کا گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں یہی حال شہری سہولیات کی فراہمی اور دوسری خدمات میں بھی ہے وزیراعلیٰ نے جس طرح خود گلیات کا دورہ کیا اسی طرح دیگر ذمہ داروں کو بھی باہر نکلنے کا کہا جائے تاکہ اعلانات اور ان پر عملدرآمد کے درمیان گیپ کی نشاندہی ہو سکے اور حقائق سامنے آ سکیں۔