بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی گرما گرمی ‘احتیاط کی ضرورت

سیاسی گرما گرمی ‘احتیاط کی ضرورت


پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جے آئی ٹی کے کام میں تیزی آتی جارہی ہے وزیراعظم نوازشریف کے چھوٹے صاحبزادے حسن نواز گزشتہ روز تیسری مرتبہ پیش ہوئے جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی ٹیم کے سوالوں کے جواب دیئے اس سے ایک روز پہلے وزیراعظم کے عزیز طارق شفیع بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے جن سے گلف سٹیل ملز کے ان کے نام سے قیام اور فروخت کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں حسن نواز کا کہنا تھا کہ بچوں کو بلاکر نوازشریف پر دباؤ ڈالا جارہا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے سمن جاری کرنے کا جمعہ بازار لگا رکھا ہے ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی انہیں 100 با ربلائے گی تو وہ 100بار جائیں گے۔

لیکن ان پر کوئی الزام ہے تو بتایا جائے حسن نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے وقت پارٹی کارکن بھی اکیڈمی کے باہر موجود تھے وزیر خزانہ اسحاق ڈار وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان وزیر مملکت انوشہ رحمن اور وزیر قانون زاہد حامد کے ہمراہ جوڈیشل اکیڈمی آئے اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف تماشا ختم ہونا چاہیے جے آئی ٹی میں یکے بعد دیگرے اہم افراد کی پیشی کے ساتھ سیاسی گرما گرمی میں بھی اضافہ نوٹ ہورہا ہے اور انتہائی تندوتیز بیانات سامنے آرہے ہیں وفاقی وزیر برائے ر یلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہمیں بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا جمہوری ملکوں میں سیاسی بیانات کوئی عیب نہیں ہوتے اسمبلیوں کے اندر اور باہر اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن ہی گردانا جاتا ہے پانامہ پیپرز کی تحقیقات اور اس کی روشنی میں ہونے والا فیصلہ جو بھی ہو یہ کیس اپنی جگہ اہمیت کا حامل ضرور ہے اس پر کسی بھی جانب سے کوئی بھی بیان انتہائی تحمل اور بردباری کا متقاضی ہے جس کے لئے سینئر سیاسی قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وطن عزیز کی معیشت اور اس کے تناظر میں غریب اور متوسط شہریوں کی مشکلات کا حل سیاسی استحکام سے جڑا ہے اسی استحکام سے جمہوریت کی جڑیں مزید مضبوط ہوں گی اور عام شہری کو درپیش مشکلات حل ہوپائیں گی۔

ادھورے منصوبے؟

پشاور میں فصیل شہر کی تعمیرنو کے منصوبے پر کام مکمل نہ ہوسکا‘ بات صرف سٹی وال کی نہیں صوبائی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی کے حوالے سے حکومت کے متعدد اعلانات عملی صورت اختیار کرنے کے منتظر ہیں پشاور کی صفائی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات صرف اس صورت ثمرآور قرار دئیے جاسکتے ہیں جب شہر کا کچرا ٹھکانے لگانے کا مؤثر انتظام ہو جنرل ضیاء الحق کے دور میں تشکیل پانے والے بلدیاتی اداروں کے وقت سے پشاور میں ری سائیکلنگ پلانٹ کا منصوبہ بنایا گیا اس پراجیکٹ کا صحیح معنوں میں آپریشنل ہونا سوالیہ نشان ہی رہا ہسپتالوں سے سالڈ ویسٹ کو ٹھکانے لگانا کتنا ضروری ہے اس کا احساس اور ادراک نہ ہونا افسوسناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے اس کا انتظام صرف بڑے ہسپتالوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے حکومت کے ذمہ دار اداروں کو اس بات کا احساس کرنا ہوگا کہ ایک دو بڑی سڑکوں پر جھاڑولگا کر اور پودوں کو پانی دینے سے شہرکی عظمت رفتہ بحال نہیں ہوسکتی نہ ہی یہ وہ وژن ہے جو حکومت نے برسراقتدار آتے وقت دیاتھا۔