بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / مودی کے چائے اسٹال کو سیاحتی مقام بنانے کا منصوبہ

مودی کے چائے اسٹال کو سیاحتی مقام بنانے کا منصوبہ


نئی دہلی۔بھارتی حکومت نے وزیر اعظم نریندر مودی کے چائے اسٹال کو عالمی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا، اس چائے خانے پر انہوں نے بچپن میں چائے فروخت کرنے کا کام کیا تھا۔بھارت کی مشرقی ریاست گجرات کے چھوٹے سے شہر ویدنگر کے نواحی علاقے میں واقع ایک ریلوے اسٹیشن پر موجود چائے خانے پر نریندر مودی نے اپنے والد کے ساتھ چائے فروخت کی تھی۔نریندر مودی نے اپنی انتخابی مہم میں بھی کئی بار اس چائے خانے کا ذکر کیا، انہوں نے خود کو چائے والے کا بیٹا کہ کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی یونین حکومت نے نریندر مودی کے چائے اسٹال کو عالمی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی خطیر رقم جاری کردی۔خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بھارت کے وزیر ثقافت مہیش شرما کا کہنا تھا کہ چائے اسٹال کی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اسے عالمی سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔مہیش شرما کا کہنا تھا کہ اس چائے اسٹال کو عالمی سیاحتی مقام میں تبدیل کرکے اس کا نقشہ عالمی سیاحتی مقامات سے جوڑا جائے گا، تاکہ لوگ یہاں آکر اس تاریخی جگہ کو دیکھ سکیں۔

ڈسٹرکٹ کلیکٹر(ڈی سی(الوک پانڈے نے بتایا کہ یونین حکومت نے ودینگر کو سیاحتی ضلع بنانے کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کردی۔ان کے مطابق ضلع ودینگر میں 7 سے 8 مقامات ایسے ہیں، جنہیں سیاحتی مقامات میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ نریندر مودی کے چائے اسٹال سمیت ودینگر میں موجود سرمشتا جھیل، کلاک ٹاور، بدھ مت پیروکاری کے کھنڈرات اور ریلوے اسٹیشن کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔

الوک پانڈے نے تصدیق کی کہ ریلوے اسٹیشن پر موجود وزیر اعظم نریندر مودی کے چائے اسٹال کو سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا کام شروع کردیا گیا، جسے رواں برس ستمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔خیال رہے کہ ودینگر شہر کی آبادی محض 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔یہ شہر نریندر مودی کا آبائی شہر ہے، انہوں نے یہاں کسی زمانے میں اپنے والد کے ساتھ ریلوے اسٹیشن پر بنے چائے کے اسٹال پر چائے فروخت کی تھی۔

نریندرمودی کے والد دیمودرداس مولچند مودی کے 6 بچے تھے، وہ 1989 میں چل بسے تھے۔نریندر مودی نے ودینگر میں ہی شروعاتی تعلیم حاصل کی، اور وہیں پلے بڑھے، بعد ازاں وہ ریاست گجرات کے وزیر اعلی بھی بنے۔گجرات میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں بھی ان کا نام لیا جاتا رہا ہے۔