بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / مجروح عزت نفس اور ہم

مجروح عزت نفس اور ہم

ہم دونوں میاں بیوی کو یاد نہیں ہماری پروفیشنل زندگی کی کوئی عید، پشاور میں رہتے ہوئے، آپریشن تھیٹر میں نہ گزری ہو۔ اس دفعہ عید کے دوسرے دن ہمیں بھاگنے کا موقع ملا۔ اسلام آباد سے اُڑان بھری اور پتھروں، آبشاروں اور برفیلے پہاڑوں کی سرزمین پرسکردو پر قدم رکھا۔ وہیں سے ایک بہت ہی خوش اخلاق ڈرائیور علی نے ہمیں اپنی جیپ میں ڈالا اور لے چلے ہمیں گھومنے۔ چنانچہ عید کے تین چار دن ہم نے مستنصر حسین تارڑ کی ’نکلے تری تلاش میں‘ کا تعاقب جاری رکھا۔ پہلے ہی دن ہم سکردو سے باہر ایک خوبصورت آبشار کے پاس رکے۔ ہم سے پہلے بھی کافی لوگ عید کی خوشیاں منارہے تھے۔ میں اور میری بیگم نے ان خوبصورت لمحوں کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنا شروع کیا۔ اچانک میری نظر علی پر پڑی جو دو بڑے بڑے پتھروں کے درمیان پھنس کر کچھ تلاش کررہا تھا۔ یا حیرت!۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ چند دن قبل علی کا موبائل فون یہیں گر گیا تھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اسے نہ مل سکا۔ میں نے اُسے فون پر کال کرنے کو کہا لیکن وہ پہلے ہی یہ عمل کرچکا تھا اور غالباً بیٹری کی وجہ سے فون خاموش تھا۔ میرا دل رکھنے کیلئے اس نے دوبارہ ملایا تو میں نے اسکے چہرے پر حیرت کے آثار دیکھ کر سمجھ لیا کہ کسی نے فون اٹھا لیا ہے۔ فون جسے ملا تھا ، کافی ہوشیار نکلا۔ بیٹری چونکہ بیٹھ چکی تھی ۔

اس لئے اس نے علی کا سِم اپنے فون میں ڈال لیا تھا تاکہ رابطے میں آسانی رہے۔ علی کو اطمینان ہوا کہ چند گزآگے ایک دکان میں وہ شخص موجود تھا۔ ہم آگے بڑھے اور علی ہمیں گاڑی میں چھوڑ کر فون لینے لپکا۔ واپسی پر علی بڑ بڑا رہا تھا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تو بتایا کہ پہلے تو علی نے اُس بھلے آدمی کو پیش کش کی بیشک فون وہ رکھ لے اور علی کو صرف سِم واپس کردے لیکن یہ پیش کش ٹھکرادی گئی اور فون علی کو پکڑا دیا۔ علی نے پانچ ایک سو روپیہ دینے کی کوشش کی تو اس بھلے انسان نے بُرا منایا کہ پرائے مال پر وہ کس خوشی میں پیسے لے۔ میری نظریں جھک گئیں۔ گاڑی کافی آگے جاچکی تھی ورنہ میری خواہش اُبھری کہ میں اُتر کر اس عظیم انسان کے ہاتھ چوم لوں۔ باتوں باتوں میں علی سے معلوم ہوا کہ یہاں کے لوگ نہایت دیانتدار اور امن پسند ہیں۔ پچھلے تیس چالیس سالوں میں کہیں ایک دو قتل ہوئے تھے۔ چوری چکاری کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ اب تلک کسی کو یہ شکایت تک نہیں ہوئی تھی کہ قیمتی سامان ٹیکسی، دکان یا ہوٹل میں بھول گیا ہواور پورا سامان اُسے واپس نہ ملا ہو۔ لوگ عام طور پر سڑک کے کنارے گاڑی لاک کئے بغیر چھوڑ جایا کرتے ہیں۔ اسی طرح سے میں نے کسی کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔ عزت نفس کا یہ انداز اسی سرزمین خداداد پر دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ آج سے تیس چالیس برس قبل یہ ہم سب کا طرّہ امتیاز تھا اور خصوصاً پختون خوا میں بعینہ یہی معمول تھا۔ تاہم ان چاردہائیوں میں اس خطے پر کئی قدرتی اور انسانی آفات نے نہ صرف وسیع آبادیوں کو بے گھر کیا بلکہ بے شمار لوگ قتل و غارت گری کا شکار ہوئے یا عمر بھر کیلئے معذور ہوگئے۔ بقولِ شاعر

خاک میں عزت و پِنار و اَنا ملتی ہے
مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

ان تیس چالیس برسوں میں چشمِ فلک نے دیکھا کہ دشمنوں کی دہشت گردی سے زیادہ غیرملکی این جی اوز اور ملکی اداروں کی امداد نے قوم کو بھکاری بنا دیا۔ اب کسی کو ہاتھ پھیلانے سے عار نہیں۔ وجہ غربت نہیں، کہ ہم نے بڑی بڑی گاڑیوں کے مالکان کو لمبی قطاروں میں چند ہزار روپے اور راشن کیلئے کھڑے ہوتے دیکھا‘ اچھے بھلے برسرروزگار لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، زکوٰۃ اور بیت المال سے خوشی خوشی امداد وصول کرتے دیکھا‘ پچھلے زلزلے پر دنیا بھر سے امداد امڈ آئی۔ ترکی کی خاتون اول نے زلزلہ زدگان کی امداد کیلئے اپنے گلے کا ہیروں کا ہار دیا اور وہ ہار بعد میں ہمارے وزیر اعظم کے گھر سے برآمد ہوتا ہے۔ یہی سیاستدان کل بھی عوام میں مقبول تھے اور آج بھی الیکشن ہوئے تو جیت جائیں گے۔ جب ہمارے سربراہانِ مملکت شاہانہ انداز میں کشکول ہاتھ میں لئے دنیا بھر بھیک مانگتے پھریں تو کہاں کی عزتِ نفس اور کہاں کی غیرت۔یہی وجہ ہے چھوٹے چھوٹے ممالک کے درمیانے درجے کے افسران ہمارے حکمرانوں کو فون پر حکم دیتے ہیں جو کہ ذرا چون و چرا کئے بغیر تعمیل ہوجاتے ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ اور مہذب ممالک اس مقام تک عزت نفس کی حفاظت کیساتھ پہنچے ہیں۔ اپنی عزت نفس کی حفاظت کیلئے دو بڑی جنگوں کے علاوہ بے شمار چھوٹی چھوٹی لڑائیوں سے گزرے ہیں۔ لیکن یہ نہ سمجھئے کہ ان کے حکمران اور لیڈر زبردستی عوام کو عزت نفس کا سبق دیتے رہے ہیں۔ یہ تعلیم گھر اور سکول سے شروع ہوتی ہے اور پورے معاشرے میں پھیل جاتی ہے۔ تعلیم یہ ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے۔ پرائی شے پر حق نہیں اور اپنی کمائی کے علاوہ کسی کی مدد لینا باعثِ شرم ہے۔ بارک اوبامہ کی حکومت کے دوران اُنکی پندرہ سالہ بیٹی ساشا چھٹیوں میں ایک ریسٹورنٹ میں کام کرکے اپنے لئے جیب خرچ جمع کرتی رہی۔

عزتِ نفس کا سبق سیکھنے کیلئے ہمیں اپنے گھر سے شروع کرنا ہوگا۔ بچوں کو جھوٹ سے بچنے کی ترغیب دیں اور جو بچہ سچ بول کر اپنی غلطی مان لے، اُسے معاف کردینا چاہئے ورنہ سزا کا خوف ہی بچوں کو جھوٹ کے عادی بنادیتا ہے۔ والدین کو رول ماڈل بن کر سچ اپنانا چاہئے۔ بچوں کی سرشت میں یہ بات ڈالنا چاہئے کہ پرائی شے پر حق نہیں۔ اپنے حق کے علاوہ کوئی بھی شے حرام ہے۔ خواہ وہ نقل سے زیادہ نمبر لینے کی بات ہو یا سفارش اور رشوت سے نوکری کا حصول ہو۔ یہ تربیت بار بار دہرانے کے علاوہ عملی طور پر انکے سامنے مظاہرہ کرنے سے منتقل ہوگی۔ گھر کے بعد اساتذہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ محض زیادہ نمبر ہی کسی طالب علم کی حوصلہ افزائی کیلئے کافی نہ ہو۔ یہ ایک لمبا سفر ہے۔ ہم آج اپنے بچوں کی یہ تربیت شروع کریں گے تو بیس تیس سال بعد ہی کہیں اسکے اثرات دکھائی دینا شروع ہوں گے۔ یہی خوددار نسل سیاستدانوں کے غلام نہیں بنے گی بلکہ ووٹ دینے کیلئے امیدوار کے اخلاقیات کو مدّ نظر رکھے گی۔