بریکنگ نیوز
Home / کالم / جوش نہیں‘ ہوش کی ضرورت

جوش نہیں‘ ہوش کی ضرورت

فاٹا کے قبائل کو آپ دو گروپوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک وہ ہیں کہ جن کی جم پل فاٹا کے اندر ہوئی‘ جو اب بھی وہاں ہی رہائش پذیر ہیں اور جس کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ان کے دل و دماغ میں رچی بسی ہوئی ہے دوسرے وہ ہیں کہ جو بندوبستی علاقوں یعنی ریونیو ڈسٹرکٹس میں رہتے ہیں جہاں ان کی آنکھ کھلی تھی کیونکہ ان کے آباؤ اجداد عرصہ دراز سے وہاں جا کر آباد ہو گئے تھے ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے کہ جنہوں نے اپنی جائے پیدائش تک نہیں دیکھی فاٹا کے اندر جو لوگ بستے ہیں ان میں اکثر معمولات زندگی نبٹانے بندوبستی علاقوں میں آتے جاتے رہتے ہیں مہمند ‘ باجوڑ‘ خیبر ایجنسیوں کے باسی پشاور آتے جاتے رہتے ہیں ‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور فاٹا میں مسعود اور احمد زئی وزیروں کا آنا جانا رہتا ہے اس طرح بنوں اور کوہاٹ وغیرہ میں اتمان زئی وزیر اور کرم ایجنسی کے بسنے والے لوگوں کا آنا جانا رہتا ہے فاٹا کے اندر بسنے والے قبائل کے ذہن میں جب یہ خیال آتا ہے کہ ان کے ہاں وہ نظام حکومت نافذ کیا جانیوالا ہے کہ جو بندوبستی علاقے میں نافذ ہے تو ان میں اکثر لوگوں میں ایک انجانے خوف اور وسوسے کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے وہ اسلئے کہ انہوں نے بندوبستی علاقوں میں پولیس ‘ عدالتوں کے ریڈرز‘ پٹواریوں ‘ ہسپتال کے سٹاف غرضیکہ ہر سرکاری محکمے کے اہلکاروں کے ہاتھوں عام لوگوں کا جو حشر نشر ہوتے دیکھا ہے اسے دیکھ کر وہ پنے کانوں پر ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرتے ہیں انہوں نے دیکھا ہوا ہے کہ اور اب بھی دیکھ رہے ہیں کہ پولیس تھانوں میں بڑی بڑی کاروں میں آنے والوں کیساتھ تھانیدار صاحب کا رویہ کچھ اور ہوتا ہے جبکہ میلے کچلے کپڑوں میں ملبوس عام شہریوں کیساتھ کہ جنہوں نے پرانی گھسی پٹی چپلیاں پہن رکھی ہوتی ہیں۔

ان کو وہ کرسی پر بیٹھنے کا بھی نہیں کہتے وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ فوجداری اور دیوانی مقدمات میں ملوث ہونیوالے یا ملوث کئے جانیوالے ملزموں کے فیصلے سالہاسال تک چلتے رہتے ہیں ہر تاریخ پر شہریوں کے وکلاء بھاری فیس اپنے موکلوں سے وصول کرتے رہتے ہیں عدالتوں میں پیشی کے دن چکر لگا لگا کر ان کی چپلیاں گھس جاتی ہیں لیکن کے ان کے فیصلے نہیں ہو پاتے تو پھر وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے انکے علاقے کو بندوبستی علاقے میں ضم کرنے کی جو بات کی جا رہی ہے وہ ان کیلئے ایک مہنگا سودا نہ ثابت ہو اگر تو ہم نے بندوبستی علاقے میں گڈ گورنس کا مظاہرہ کیا ہوتا تو شاید آج فاٹا کے بعض عوام کے اس نظام پر چند تحفظات نہ ہوتے کہ جس میں فاٹا کو ضم کرنے کی بات کی جا رہی ہے فاٹا میں رواجی نظام کے حامی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ان کے ہاں جو جرگہ سسٹم رائج ہے اس میں ان کے فیصلے بھلے وہ دیوانی نوعیت کے ہوں یا فوجداری ان کا جلد فیصلہ ہو جاتا ہے ان کو وکلاء کی موٹی موٹی فیس ادا کرنا نہیں پڑتی بندوبستی علاقوں میں تو دیوانی مقدمات فریقین کو دیوانہ بناتے ہیں فاٹا کا نظام اجتماعی قبائلی علاقائی ذمہ داری کے کلیے پر قائم ہے۔

جو ایف سی آر کے نفاذ سے بہت پہلے سے ہی چلا آ رہا ہے ایف سی آر نے تو صرف اسے Codify کیا ہے یعنی تحریر میں لایا ہے کیا امریکہ کی کئی ریاستوں میں ایک دوسرے سے مختلف قسم کے قوانین رائج نہیں غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں اس مسئلے پر ایک سے زیادہ آراء پائی جاتی ہیں بعض حلقوں نے اسکے حل کیلئے ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی پیش کی ہے اگر اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے تو جن سوالات پر فاٹا کے عوام کی رائے لینا مقصود ہو گی ان کو وضع کرنے میں نہایت احتیاط برتنی ہو گی تاکہ کوئی پہلوتشنہ نہ رہ جائے فاٹا میں اصلاحات کی یقیناًضرورت ہے لیکن قبائلی علاقے میں جو تبدیلی بھی کی جائے اس میں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہو گی جس چیز کا از حد خیال رکھنا ہو گا وہ اپنے اجتماعی قبائلی ذمہ داری کے کانسپٹ کی ؟ اسے اگر یکسر ختم کیا جائے گا تو فاٹا کے منفرد قسم کے جغرافیائی محل وقوع میں واقع علاقے کو کس نظام کے تحت موثر طریقے سے امن عامہ کے لحاظ سے کنٹرول کیا جائے گا کیا اس کیلئے حکومت کے پاس کوئی موثر نعم البدل نظام موجود ہے اگر ہے تو اسے بحث و مباحث کیلئے متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے سامنے پیش کیا جائے ۔