بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ویراں ہے پورا شہر

ویراں ہے پورا شہر


اس شہر کے ساتھ اس کا تعلق اسے بار بار وہاں جانے پر مجبور کرتا ہے وہ چاہے تو اسے بھلا بھی سکتا ہے مگر وہ کبھی ایسا نہیں کریگا۔ وہ ایسا کر بھی نہیں سکتا۔ اس کے والدین برسوں پہلے اس شہر کو چھوڑ کر امریکہ جا بسے تھے۔ وہ شکاگو میں پیدا ہوا وہاں اس نے سرجیکل اونکالوجی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ بچپن میں کئی مرتبہ اپنے والدین کے ساتھ ان کے آبائی شہر الیپو گیا تھا۔ گذشتہ پانچ سال کی خانہ جنگی میں الیپو جتنا تباہ ہوا ہے اتنا عراق کا کوئی شہر پندرہ سال کی جنگ میں نہیں ہوا۔ یہ آبادی کے لحاظ سے شام کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ صدیوں تک قاہرہ اور قسطنطنیہ کے بعد یہ سلطنت عثمانیہ کا تیسرا بڑا شہر رہا ہے اس کی تاریخی عظمت کی ایک وجہ اس کا محل وقوع ہے عراق کے حکمران ہمیشہ اس کی وسیع شاہراہوں کو بحیرہ روم تک پہنچنے کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں‘ زمانہ امن میں الیپو کے بازار اور عرب تاجروں اور سیاحوں سے بھرے ہوتے تھے۔ آج یہ تباہ شدہ عمارتوں کا کھنڈر ہے۔ عالمی اور علاقائی طاقتوں نے اسے تباہ ہی نہیں کیا تقسیم بھی کردیا ہے آسمان سے برسنے والے لاکھوں ٹن بارود اس کے سینے پر جابجا بکھرا پڑا ہے اس شہر بے چراغ کی تصویر دیکھ کر منیر نیازی کے شعر یاد آجاتے ہیں۔

صر صر کی زد میں آئے ہوئے بام و در کو دیکھ
کیسی ہوائیں کیسا نگر سرد کر گئیں
کریادان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں
گلیاں جو خاک وخون کی دہشت سے بھر گئیں

اک دنیا جانتی ہے کہ شام کی خانہ جنگی کا فاتح وہی ہوگا جس کے قبضے میں دمشق اور الیپو ہوگا۔ ڈاکٹر سمیر عطار ہر سال دو مرتبہ شکاگو سے الیپو جاتا ہے اس نے لکھا ہے کہ میں اگر الیپو نہ جاؤں گا تو صدر اوباما اور دوسرے لیڈروں سے شام میں امن قائم کرنے کی درخواست کیسے کرونگا۔ وہ شامی امریکن میڈیکل سوسائٹی کا ممبر ہے اور ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر الیپو کی تباہی اور اس کے لوگوں کی کسمپرسی کے واقعات سے لوگوں کو آگاہ کرتا ہے‘چند ماہ پہلے اس نے Why i have to go back to Alieppo کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ۔ یہ نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوا‘اجڑے اجڑے بام و در اور کشا کش مرگ و زندگی کی داستان سنانے والی اس تحریر کے بعض حصوں کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔ ڈاکٹر سمیر عطار لکھتے ہیں ۔

’’میں الیپو کے جس ہسپتال میں کام کرتا ہوں وہ ایک تہہ خانے میں واقع ہے۔ اس کی چھتیں اتنی مرتبہ بمباری میں تباہ ہوچکی ہیں کہ اب وہاں چند شکستہ دیواریں باقی رہ گئیں ہیں اس عمارت کے باقی ماندہ حصوں کو ریت کے تھیلوں اور مٹی سے بھرے ہوئے لاتعداد ڈرموں سے بھر دیا گیا ہے اس تہہ خانے میں واقع ہسپتال میں مریضوں کا علاج کرتے ہوئے مجھے شکاگو کے سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ان کے وسائل‘ مشینری اور لاتعداد ڈاکٹر یاد آتے ہیں الیپو میں بھی کچھ عرصہ پہلے دنیا کے بہترین ڈاکٹر اور نرسیں کام کرتے تھے اب ان میں سے بیشتر جاچکے ہیں۔ جورہ گئے ہیں وہ خوفزدہ اور تھکے ہوئے ہیں ‘ مجھے ان کی ڈھارس بندھانے کیلئے یہاں آنا پڑتا ہے میں شکاگو میں ایک وقت میں صرف ایک مریض دیکھتا ہوں یہاں مجھے ایک وقت میں کم از کم بیس مریض دیکھنے پڑتے ہیں ‘ یہاں لوگ دو فضائی حملوں اور قتل و غارت کے دو واقعات کے درمیانی وقفوں میں زندہ رہتے ہیں آسمان پر اڑنے والے جنگی طیارے زمین پر بنے ہسپتالوں‘ مکانوں‘ سکولوں اور بازاروں کو خاطر میں نہیں لاتے‘ آس پاس کی ٹوٹی عمارتوں میں چھپے ہوئے جنگجو راکٹ لانچروں کے ذریعے گولہ باری کرکے جہازوں کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں‘ گھنٹہ بھر کی اس جنگ و جدل کے بعد زخمیوں کی چیخ و پکار اور ایمبولینسوں کے شورسے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جس ہسپتال کے فرش پر پہلے سے اتنے مریض پڑے ہوں کہ قدم رکھنے کی جگہ نہ ہو وہاں نئے زخمیوں کو کہاں رکھا جائے۔ جہاں ہر وارڈ کے فرش پر جابجا خون اور انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہوں وہاں یکسوئی سے علاج کیسے کیا جاسکتا ہے ‘ اس ہسپتال میں ہر روز مریض تڑپ تڑپ کر دم توڑتے رہتے ہیں۔

پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ میں گاڑی میں بیٹھ کر گولیوں کی گونج اور جنگی جہازوں کے شور میں کئی چیک پوسٹوں پر تلاشی دینے کے بعد شام کی سرحد پار کرکے ترکی میں داخل ہوجاتا ہوں‘ منظر تیزی سے بدل جاتا ہے ‘ میں ایک لمحے میزائلوں کے شور میں ایک زیر زمین ہسپتال میں مریضوں کو موت کی سرحدوں سے واپس لانے کی کوشش کررہا ہوتا ہوں اور دوسرے لمحے استنبول ائیرپورٹ کی کافی شاپ میں اپنی فلائٹ کا انتظار کررہا ہوتا ہوں۔
Nothing Makes sense and you feel like a ghost
کچھ سمجھ نہیں آتا۔ اپنے آپ پر بھوت ہونے کا گماں ہوتا ہے سچ یہ ہے کہ جو ایک دفعہ الیپو جاتا ہے وہ ہمیشہ وہیں رہتا ہے ‘ وہاں سے واپس نہیں آسکتا۔

واپس شکاگو میں چند روز مبہوت رہنے کے بعد میں رفتہ رفتہ معمول کی زندگی شروع کردیتا ہوں ہسپتال میں ہر مریض کو اس کے ہر سوال کا تسلی بخش جواب دینا پڑتا ہے ‘ گیارہ سال کی خوش مزاج لڑکی سارہ میری پرانی مریضہ ہے وہ جب آٹھ سال کی تھی تو اسے ایک ٹانگ میں Sarcomaکی بیماری لگ گئی تھی وہ ایک سال تک کیمو تھراپی اور اس کے بعد ریڈی ایشن برداشت کرتی رہی اس کا گھٹنا آدھے سے بھی کم رہ گیا ہے اس کے باوجود وہ ٹریک پر دوڑنا چاہتی ہے اور Soccer بھی کھیلنا چاہتی ہے اس نے Colorado میں معذور لوگوں کو Prosthtics کی مدد سے Skiing کرتے ہوئے دیکھا تھا وہ بھی برف پر دوڑنا چاہتی ہے اس کا یہ خواب بہت جلد پورا ہوجائے گا۔ اسے دیکھ کر مجھے الیپو کا بارہ سالہ احمد یاد آجاتا ہے ‘ جس بم دھماکے میں اس کے والدین ہلاک ہوئے تھے اسی میں اس کی دونوں ٹانگیں بھی ضائع ہوئی تھیں‘ وہ حوصلے اور صبر و استقامت کا پیکر تھا اس نے ٹیلیویژن پر معذور لوگوں کو Robotic Prostheses کے ذریعے چلتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ اس کی یہ خواہش پوری کرونگا۔ میں جب واپس الیپو گیا تو وہ ہسپتال سے جاچکا تھا وہ اب نہ جانے کہاں ہوگا۔

شکاگو میں چند ماہ گزارنے کے بعد مجھے واپس الیپو جانا پڑتا ہے ہر مرتبہ مجھے یہ شہر پہلے سے زیادہ شکستہ اور تباہ حال نظر آتا ہے چند ماہ پہلے جہاں عمارتیں تھیں اب وہاں ملبے کے ڈھیر ہیں ہر طرف ٹوٹی دیواریں اور چھتوں سے لٹکتے ہوئے سریے کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے میں کسی بڑے ویسٹ لینڈ میں آگیا ہوں۔ ہسپتال کی طرف جاتے ہوئے کچھ ایسے منظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو زندگی کے رواں دواں ہونے کا احساس دلاتے ہیں ملبے کے ڈھیروں پر تباہی سے بے نیاز کھیلتے ہوئے بچے ٹوٹے ہوئے گھروں کے صحنوں میں لگی رسیوں پر گیلے کپڑے ڈالتی ہوئی عورتیں ‘بازاروں میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگ‘ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ تم یہ شہر چھوڑ کر چلے کیوں نہیں جاتے اکثر یہ کہتے ہیں کہ کسی مہاجر کیمپ میں کسمپرسی کی زندگی سے یہ زندگی بہت بہتر ہے۔ ایک شخص نے کہا تھا کہ سمندر میں ڈوب مرنے سے اپنے گھر میں مرنا بہتر ہے ہسپتال کے دورازے کے باہر سڑک پر چارپائیوں کی ایک طویل قطار لگی ہوتی ہے۔

گریہ کناں لوگ شناسا پھر سے ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں نیچے تہہ خانے کے وارڈ میں روتی ہوئی ایک عورت ڈاکٹر سے التجا کرتی ہے کہ اس کے بیٹے کا لپٹا ہوا سر سی دیا جائے وہ مجھ سے مصافحہ کرتا ہے میں زخمی بچے کو سٹریچر پر ڈال کر آپریشن تھیڑ کی طرف چل دیتا ہوں اس بچے کو دیکھ کے میرا دل کانپ اٹھتا ہے اس ہسپتال کے ڈاکٹر اور نرسیں دن رات اس چیخ و پکار میں کام کرتے رہتے ہیں ‘ یہ سب بلاشبہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ بہادر اور حوصلہ مند ہیں وہ اپنی جانوں پر کھیل کر دوسروں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کررہے ہیں‘ میں انہیں کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہوں۔ میری رگوں میں بھی تو شامی خون دوڑ رہا ہے‘‘ ڈاکٹر سمیر عطار کا بیان یہاں ختم ہوتا ہے اس سے آگے شاعر کے تخیل کی دنیا ہے۔
ویراں ہے پورا شہر کوئی دیکھتا نہیں
آواز دے رہا ہوں کوئی بولتا نہیں