بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / احتساب کی باتیں کرنیوالے گریبان میں جھانکیں ٗ کیپٹن (ر) صفدر

احتساب کی باتیں کرنیوالے گریبان میں جھانکیں ٗ کیپٹن (ر) صفدر

اسلام آباد۔ وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدراور انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور ان کا خاندان جے آئی ٹی میں حاضر ہے ، الیکشن کمیشن عمران خان سے جواب مانگ رہا ہے اور وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں،جو لوگ احتساب کی باتیں کرتے ہیں، ان میں اپنے گریبان میں جھانکنے کی بھی جرات ہونی چاہئے،نواز شریف کی بیٹی آج اس ملک اور قائداعظم کی ریاست کو بچانے کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انجینئر امیر مقام اور وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے خود اور اپنے اہلخانہ کو احتساب کے لئے پیش کیا ہے۔

یہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں تاریخ بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ میڈیا میں احتساب کی باتیں کرتے ہیں۔ ان میں اپنے گریبان میں جھانکنے کی بھی جرات ہونی چاہئے۔ یہ شخص کے پی میں حکومت کر رہا ہے۔ ہم اس کے متاثرین ہیں۔ اس کو شرم آنی چاہئے کہ وہ بات احتساب کی کرتا ہے۔ اداروں کی بالادستی کی بات کرتا ہے۔ خود آپ کیا کیا کر رہے ہیں۔ خود کے پی کی عوام کے لئے کیا کر رہے ہیں۔ وہ نتھیا گلی میں رہ رہے ہیں اور ہم نے پہلی دفعہ دھوپ میں بھی افطاریاں دیکھی ہیں۔ وہی حال چترال میں ہے، وہ بات احتساب کی کرتے ہیں۔ پہلے عمران خان خود سے آغاز کریں۔ ان کے احتساب کمیشن کا کیا بنا۔ اس احتساب کمیشن کو تالا لگا دیا اور اس کے ڈی جی کو فارغ کر دیا۔

ڈی جی احتساب کمیشن جنرل حامد نے جو چارج شیٹ پیش کی اور عمران خان اور وزیراعلیٰ کے پی کے سارے کارنامے بتا دیئے۔ اگر آپ میں جرات ہوتی تو آپ اس کا جواب دیتے۔ عمران خان کے پاس کوئی جواب ہی نہیں۔ وہ کس منہ سے احتساب کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیڈو کے سربراہ شکیل درانی نے اتنی بڑی چارج شیٹ لگا دی۔ عمران حان آپ نے اس چارج شیٹ کا ایک جواب دیا کہ پیڈو میں روزانہ 10 کروڑ روپے کی خورد برد ہو رہی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ نے پیڈو کے ہیڈ اکبر کو فارغ کر دیا۔ عمران خان نے اس کا حل نکالا کہ قانون میں تبدیلی کریں۔ ڈی جی احتساب کے لئے قانون میں تبدیلی کی اور قانون بنا دیا کہ جس کا احتساب کرنا ہو وہ خود اس کی منظوری دے کتنی شرم کی بات ہے۔ کے پی اسمبلی میں قانون پاس کروایا کہ اگر کسی چور کو پکڑنا ہے اور وزیر اعلیٰ کو پکڑنا ہو تو وہ منظوری دے کہ آ کر مجھے پکڑ لو۔ آج وزیراعظم اور ان کا خاندان جے آئی ٹی میں حاضر ہے مگر الیکشن کمیشن عمران خان سے جواب مانگ رہا ہے اور وہ اس کا مذاق اڑا رہے ہیں اور اس کی عزت نہیں کرتے۔ کے پی کے ہسپتالوں کی حالت دیکھیں میں ہسپتال گیا۔ وہاں ایکسرے مشین بھی خراب، دوسری لیبارٹریز بھی خراب تھیں لوگ باہر سے علاج کراتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں بڑی تبدیلی لائی ہے۔ عمران خان دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے بتائیں۔ چار سال میں کے پی میں کتنے میگاواٹ بجلی بنائی۔ کس نے آپ کے ہاتھ روکے ہیں۔ نوازشریف نے جو روایت ڈالی۔ اس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ اب عمران خان میں اگر جرات ہے وہ الیکشن کمیشن سے نہ بھاگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ادارے کے سربراہ نے پاکستان کے تمام اخباروں میں اشتہار دیئے کہ وزیر اور حکومت چور ہیں اور اتنی گڑبڑ ہوئی ہے۔ عمران خان بتائیں آج وہ وزیر بھی بیٹھا ہوا ہے اور ایم ڈی بھی بیٹھا ہوا ہے تو کون ٹھیک ہے۔

قوم کو جواب دیں ان کا کہنا تھا کہ 2018 قریب ہے۔ شیخ چلی عمران صاحب پی ایم ہاؤس کوئی اس طرح نہیں پہنچ سکتا ہم عوامی طاقت سے آپ کو کے پی سے بھی فارغ کر کے باہر پھینکیں گے اور وہاں بھی نوازشریف کی آواز اور جھنڈا ہو گا۔ انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ میں نوازشریف کے ساتھ دلیری سے کھڑا ہوں۔ میری جان اور مال اس کے لئے حاضر ہے اور ڈٹ کر حاضر ہے جس کے ساتھ ہوں۔ ڈٹ کر ہوتا ہوں۔ اس موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کا کہنا تھا کہ اندر جو سوال ہو رہے ہیں چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں۔ میرا خیال ہے پورا پاکستان ہی اپنے لیڈر کی زیرکفالت ہوتا ہے۔ آج ہمارے لیڈر کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئے ایک ملک میں پہنچا ہے۔ اس گھر کی بیٹی جس کے دادا کا بھی احتساب ہوا جس کے والد کا بھی احتساب ہو رہا ہے۔ یہ آج سے نہیں غلام اسحاق سے لے کر 12 اکتوبر 1999ء اور آج تک جاری ہے۔ اس کی بیٹی آج اس ملک اور قائداعظم کی ریاست کو بچانے کے لئے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی ہے۔ یہ مشکل وقت ضرور ہے مگر نوازشریف کے ہاتھ صاف ہیں۔ نوازشریف کو 12 اکتوبر کی یلغار پاکستان کی خدمت سے اگر نہیں روک سکی تو سن لو کوفے والو۔ تمہاری چالیں، انشاء اللہ تعالیٰ الٹی چک جائیں گی۔ نوازشریف نے تہیہ کر لیا ہے۔ اگر پاکستان کو ایٹمی ملک بنا سکتا ہوں تو اس کی مشکلیں بھی عبور کروں گا۔ مجھے تو یہ دکھ ہو رہا ہے اور عمران خان صاحب روز محشر عرش معلیٰ پر ایک آواز آئے گی کہ بابا میں تو مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی۔ آپ نے مجھے تسلیم نہ کیا میری تربیت لاس اینجلس میں ہوتی رہی مجھے بتاؤ کہ میں خدا کو کیا جواب دوں کہ میرے باپ نے مجھے کیوں تسلیم نہیں کیا۔ میں جس معاشرے میں پروان چڑھنا چاہ رہی تھی آپ نے اس سے مجھے محروم کر دیا یہ زیادتیاں۔
۔
ملک اور ریاست پاکستان کے لئے برداشت کرتے ہیں۔ کرتے رہیں گے۔ ہمیں پتہ ہے آگے بھی مشکلیں آئیں گی۔ اس لئے کہ ہم راہ حق پر ہیں۔ (ن) لیگ پاکستان کو آگے لے کر جانا چاہتی ہے۔ عمران خان صاحب ضلع میانوالی کی ایک بیٹی اپنے ضلع کی تلاش میں ہے۔ اس کو سایہ مہیا کر دو اور راستہ فراہم کر دو ۔ کل وہ کسی عدالت سے آپ کی زکواۃ کی دولت سے بنی ہوئی بنی گالہ کی جائیداد میں اپنا حق مانگے گی تو عدالت اس وقت اسے تسلیم کرے گی قانون اس وقت اسے تسلیم کرے گا لوگوں کی بیٹیوں کی عزتیں اچھالنی اور لوگوں کی بیٹیوں کو ڈی چوک میں لا کر ناچ گانے کروانا بڑا آسان کام ہے۔ جب اپنے گھر پر باری آئے گی تو میں عمران خان سے غیرت مند باپ کے طور پر سوال کرتا ہوں نوازشریف کو تو اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں سرخرو کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا چھوٹا سا گھر اپنی کمائی سے چل رہا ہے۔ ہم وقت اور عدالت میں ثابت کریں گے کہ کون کس پر انحصار کر رہا ہے۔