بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ِخیبرپختونخواکے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں پر نظرثانی کافیصلہ

ِخیبرپختونخواکے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں پر نظرثانی کافیصلہ

پشاور۔خیبرپختونخواحکومت نے پشاورہائی کورٹ کو صوبے کے 8 بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے این ایل سی کو دینے کے فیصلے پرنظرثانی کی یقین دہانی کرادی ہے اس بات کی یقین دہانی ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا عبداللطیف یوسفزئی نے پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عبدالشکورپرمشتمل دورکنی بنچ کو کرائی فاضل بنچ نے خیبرپختونخواکنٹریکٹرزایسوسی ایشن کی جانب سے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی فاضل بنچ نے سماعت آج جمعرات کے روز تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ گذشتہ ایک سال کاریکارڈ پیش کیاجائے کہ نجی شعبے کو کتنے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے فراہم کئے گئے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالتی استفسارپر یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ پشاورکے باہرکے اضلاع میں جومنصوبے پی ڈی اے کے ذریعے دئیے جارہے ہیں ان پربھی صوبائی حکومت نظرثانی کرے گی۔

اس موقع پران کے وکیل بیرسٹروقاراحمد نے عدالت کو بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے8 بڑی ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکے قواعد کے برعکس براہ راست این ایل سی کو دینے کافیصلہ کیاہے جو کہ کیپراایکٹ کے منافی ہے جبکہ کیپراکے رولزبھی کیپرا کے قانون سے متصادم ہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اگراس طرح بغیرکسی مقابلے کے بڑے بڑے پراجیکٹ دئیے گئے تو اس سے نجی شعبے بری طرح متاثرہوں گے انہوں نے یہ اعتراض بھی کیاکہ صوبائی حکومت یہ منصوبے پشاورڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے کروارہی ہے جبکہ بعض منصوبے ضلع سے باہرمردان میں ہیں جہاں پی ڈی اے کاکوئی عمل دخل نہیں ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ منصوبوں کی سمریوں پر کیپراٗ سیکرٹری خزانہ اورمحکمہ منصوبہ بندی نے بھی اعتراض کیاتھا انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق ان تمام منصوبوں کی منظوری کابینہ کو دینی چاہئے تھی۔

جبکہ ان کیسزمیں تمام فیصلے وزیراعلی نے کئے جبکہ اس پٹیشن کے دائرہونے کے بعد وزیراعلی کے کئے گئے فیصلوں کو کابینہ میں پیش کیاگیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ وقاراحمد ٗ پی ڈی اے کی جانب سے طارق آفریدی پیش ہوئے جبکہ کیپراکی نمائندگی عامرجاوید نے کی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقار احمد نے عدالت کو بتایا کہ کیپراایکٹ اورکیپرارولزدونوں میں یہ بات واضح طورپرلکھی گئی ہے کہ سرکارکو یہ اختیارحاصل ہے کہ وہ کسی دوسرے سرکاری ادارے کو بغیربولی کے کوئی ٹھیکہ دے سکتی ہے انہوں نے بتایا کہ این ا یل سی ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ادارہ ہے جس کو پہلے بھی جومنصوبہ حوالے کیاگیاوہ اس نے وقت مقررہ سے قبل مکمل کیاانہوں نے مزید بتایا کہ بجائے اس کے کہ یہ اہم منصوبہ نجی شعبہ کے حوالے کیاجائے جو کئی کئی سال کاعرصہ لگادیتے ہیں۔

حکومت نے یہ بہترسمجھاکہ اسے این ایل سی کے ذریعہ پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسارکیاکہ پی ڈی اے کس قانون کے تحت دیگراضلاع کے ترقیاتی منصوبوں پرکام کررہا ہے جبکہ اس نے پشاورمیں اپناکام پورا نہیں کیاہے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ کیونکہ پی ڈی اے میں ماہرین موجود ہیں اس بناء پی ڈی اے کی خدمات حاصل کی گئی ہیں چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ ماہرین تو دیگرمحکموں میں بھی موجود ہیں تو آپ کے کہنے کامقصدیہ ہے کہ باقی محکمے کیاکررہے ہیں ۔