بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / قیدیوں کو دی جانے والی پھانسی کا طریقہ کار چیلنج

قیدیوں کو دی جانے والی پھانسی کا طریقہ کار چیلنج

پشاور۔ملک بھرکی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کو دی جانے والی پھانسی کے طریقہ کارکو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے سزائے موت کے قیدی کی جانب سے دائرکی گئی آئینی درخواست میں پھانسی کوغیراسلامی اوردردناک طریقہ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کے قیدیوں کو جدیدسائنسی طریقوں سے آسان موت دینے کی استدعا کی گئی ہے خورشید خان ایڈوکیٹ کی وساطت سے سزائے موت کے قید ی جان بہادر ولد گل بہادر سکنہ حال کال کوٹھڑی ہری پورجیل نے رٹ پٹیشن دائرکی ہے جس میں سیشن جج تخت بھائی ٗ سیکرٹری داخلہ خیبرپختونخوا ٗ سپرنٹنڈنٹ جیل ہری پور ٗسیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل اورسیکرٹری قانون خیبرپختونخوا کوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذار کو سیشن جج تخت بھائی نے 7اپریل2000ء کو زیردفعہ302کے تحت سزائے موت سنائی ٗ ہائی کورٹ نے 12مارچ2002ء کو پھانسی کے خلاف دائراپیل خارج کی اورعدالت عظمی نے بھی سزائے موت کوبرقراررکھاجبکہ نظرثانی اوررحم اپیل بھی مسترد ہوگئی۔

رٹ میں کہاگیاہے کہ ملک بھرکی جیلوں میں نافذسزائے موت کاطریقہ کاربوسیدہ اوربے رحمانہ ہے دنیابھرمیں سزائے موت کے لئے نواقسام کے طریقہ کارہیں جن میں سے پہلااسے لٹکاکرپھانسی دینا ٗ فائرکرکے ہلاک کرنا ٗ سرپرگولی مارنا ٗ زہریلاانجکشن دے کرابدی نیندسلانا ٗ تلوارسے سرقلم کرنا ٗ پتھراؤ کرکے سزائے موت دینا ٗ گیس چیمبر اورالیکٹرک چیئر کے ذریعے موت دینا جبکہ اونچائی سے گرا کرموت دیناشامل ہیں رٹ میں مزید کہاگیاہے کہ انگریزحکمرانوں نے برصغیرکے مسلمانوں کی ہراچھی روایت کو نقصان پہنچایااوراسے ختم کردیا۔

جس میں نظام تعلیم ٗ ثقافت ٗ زبان ٗ خانقاہی نظام ٗ عدالتی نظام وغیرہ شامل ہیں اسی طرح انہوں نے 1898ایکٹ کے تحت سزائے موت کے لئے پھانسی کاطریقہ کاراختیار کیااورآزادی ملنے کے بعد ہم نے 1898ایکٹ کے تحت 368/374ضابطہ فوجداری کاہی طریقہ اپنایالہٰذاان گذارشات کو مدنظررکھتے ہوئے عدالت عالیہ حکم صادر کرے کہ 368/374ضابطہ فوجداری کے تحت سزائے موت بذریعہ پھانسی ختم کی جائے اوراس ظالمانہ ٗ دردناک ٗ غیرانسانی ٗ غیراسلامی سزاکی جگہ آج کے سائنسی دورمیں ایساطریقہ کاراختیار کیاجائے جس میں بغیرکسی اذیت کے آسانی سے اوربغیردرد کے سزائے موت دی جائے یہ انسانی بنیادی خواہش ہے کہ موت آسان ہو پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گا۔