بریکنگ نیوز
Home / کالم / چین کے ساتھ جنگی معاہدوں کی ضرورت ہے

چین کے ساتھ جنگی معاہدوں کی ضرورت ہے

آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے امریکا کو ہم آزما چکے ایک مرتبہ نہیں کئی کئی مرتبہ امریکہ نے ہماری اشرافیہ میں ‘ ہماری بیورو کریسی میں ‘ ہمارے سیاست دانوں ہمارے عسکری اداروں میں غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں کلیدی آسامیوں پر کام کرنیوالے افراد اور طبقوں میں اپنے اتنے ہم خیال پیدا کر لئے ہیں کہ امریکہ اب اس ملک کے رگ و پے میں بری طرح سرایت کر چکا ہے کئی لوگوں کو اس نے خریدا ہے کئی لوگوں کو اس نے امریکہ کے درشن کروا کر ان کی آنکھیں اس طرح خیرہ کی ہیں کہ جس طرح کسی زمانے میں عراق میں حسن بن صباح نے جھوٹی جنت بنائی تھی جس کے درشن کروا کر وہ نوجوانوں کو گمراہ کیا کرتاتھا وہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو روس اور بھارت کی مشترکہ سازش کے ذریعے ٹکڑے ہونے سے بچا سکتا تھا اگر وہ صدق دل سے اس میں کود پڑتا جسطرح کہ 1961ء میں سوویت یونین نے براہ راست مداخلت کی دھمکی دے کر امریکہ کو کیوبا پر حملہ کرنے سے روک دیا تھا اسے پاکستان کی وہ خدمت بھول گئی جو اس نے سوویت یونین کے خلاف امریکہ کی سرد جنگ میں ثانی الذکر کی کی تھی امریکہ ہماری اس خدمت کو بھی فراموش کر گیا جو ہم نے اس کے چین کیساتھ تعلقات استوار کرنے کے سلسلے میں کی آج جب ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی کیساتھ یک جان دو قالب ہو کر پاکستان کیخلاف ایجنڈے پر کام کر رہا ہے تو امریکہ کو جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی افغانستان کے سلسلے میں کی گئی خدمات کا بھی خیال نہ آیا اسے زرداری صاحب اور میاں نواز شریف کی مہربانیاں بھی یاد نہیں رہیں۔

لیکن ہم ان شخصیات سے کیا گلہ کریں کہ جن کا ذکر ہم نے اوپر کی سطور میں کیا ہے ہمارے اکثر حکمرانوں نے امریکہ کے ارباب اقتدار سے اپنے ذاتی تعلقات کو ہمیشہ ملکی مفادات سے زیادہ اہمیت دی ہے آج البتہ ہم جس نازک موڑ پرکھڑے ہیں اس میں ہماری بقاء‘ سا لمیت اور بچاؤ کا صرف ایک ہی قابل اعتبار راستہ ہے اوروہ یہ ہے کہ ہم فوراً سے پیشتر چین کیساتھ ایک عسکری معاہدہ کر ڈالیں جس کی بنیاد یہ ہو کہ اگر پاکستان پر کسی نے حملہ کیا تو وہ چین پر حملہ تصور ہو گا اور اس طرح چین پر کسی بھی حملے کی صورت میں پاکستان حملہ آور کیخلاف چین کے شانہ بشانہ لڑے گا صرف اس قسم کے فوجی معاہدے سے اس مذموم پاکستان کش پالیسی پر بریک لگائی جا سکتی ہے کہ جس پر ٹرمپ اور مودی گامزن ہو چکے ہیں یہ کام آسان نہیں پہلے تواس ملک کے ایوان اقتدار میں نہ جانے کتنی ایسی قوتیں ہیں ایسے مضبوط عناصر ہیں کہ جو پاؤں کے انگوٹھے سے لیکر سر کے بالوں تک امریکہ نواز ہیں۔

وہ قسم قسم حجت نکالیں گے طرح طرح کی رکاوٹیں پیدا کریں گے کہ چین اور پاکستان میں کبھی بھی عسکری معاہدہ نہ ہو اور پاکستان پہلے کی طرح ہمیشہ امریکہ کا دامن تھامے رکھے ہمیں اس ملک کی د و بڑی سیاسی جماعتوں سے بھی توقع نہیں کہ وہ امریکہ سے دوری اختیار کریں گی کیونکہ ان کے اپنے مالی مفادات کا بیشتر تعلق امریکہ سے ہے اگرتو بھٹو یا سہروردی جیسا وژن رکھنے والا کوئی لیڈر اس وقت اس ملک کا حاکم ہوتا تو شاید ہم کا امریکہ کو گڈبائی کہہ چکے ہوتے بھٹو نے تو سردار داؤد کو بھی اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ افغانستان‘ پاکستان کیساتھ ایک کنفیڈریشن میں شامل ہو جائے لیکن سردار داؤد سے عمر نے وفا نہ کی ضروری نہیں کہ ہم ہر وقت امریکہ کی اندھی تقلید کرتے رہیں ہندو شدت پسند جس شدت سے پاکستان کش پالیسی پر امریکہ کی معاونت کیساتھ چل پڑے ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنی قومی ترجیحات درست کر لیں اور اس چین کو نہ بھولیں کہ جو برے وقتوں میں ہمارا ساتھی رہا ہے کیونکہ امریکہ نے اپنا مطلب نکل جانے کے بعد کبھی بھی ہمارا خیال نہیں کیا ۔