بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارتی اشتعال انگیزی اور مداخلت

بھارتی اشتعال انگیزی اور مداخلت

بھارتی فوج نے ایک بار پھر کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس کے نتیجے میں تین شہری شہید جبکہ پانچ زخمی ہوئے خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کاروائی نے دشمن کی بندوقوں کو خاموش کردیا پاکستان نے فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی ایشیاء اور سارک کیلئے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے قائمقام ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کرکے مراسلہ بھی دیاگیا ہے فارن آفس کا کہنا ہے کہ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنارہا ہے دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں حریت کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی پر مکمل کرفیو نافذ رہا اس کے باوجود سینکڑوں نوجوانوں کے کرفیو توڑتے ہوئے باہر آنے پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا اس موقع پر عوام کو ایک دوسرے کیساتھ رابطے سے روکتے ہوئے انٹرنیٹ اور فون سروسز معطل کردی گئیں برہان وانی کی برسی سے پہلے ہی مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیاگیا بھارت انسانی حقوق کی کھلم کھلا دھجیاں بکھیرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں نہتے شہریوں پر شدید مظالم کا مرتکب ہورہا ہے اس کے ساتھ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی اور دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے مختلف ڈرامے بھی رچا رہا ہے ۔

اس سارے منظرنامے میں کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی’را‘ کی مداخلت اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا معاملہ عالمی سطح پراٹھانے کا فیصلہ کیا ہے دوسری جانب پاکستان نے افغانستان اور امریکہ کی جانب سے اعلیٰ سطح پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کابل سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اپنی رٹ قائم کرے نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں واشنگٹن اورکابل کی جانب سے لگائے جانیوالے الزامات کا جائزہ بھی لیاگیا بھارت اور افغانستان سے متعلق پاکستانی موقف بالکل شفاف ہے‘قابل اطمینان ہے کہ’’را‘‘ کی مداخلت اوربھارتی جاسوس کلبھوشن کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم اس پر عملدرآمد کیلئے باہمی مشاورت کیساتھ ایک موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے سامنے اصل حقائق واضح ہو سکیں۔

سٹیک ہولڈرز میں باہمی رابطے کی ضرورت

پشاور کے 25 دیہات میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں اس مقصد کیلئے ٹاؤن ٹو میں ندی نالوی کی صفائی شروع کر دی گئی ہے‘ ٹاؤن ناظم محکمہ آبپاشی کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کر رہے ہیں‘ سیلاب یا کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامات اسی صورت فول پروف قرار دیئے جاسکتے ہیں جب ان میں تمام سٹیک ہولڈر محکمے شریک ہوں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اگر تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطہ یقینی ہو جائے تو نہ صرف سیلاب اور ہنگامی صورتحال بلکہ مجموعی طور پر تعمیر و ترقی اور خدمات کی فراہمی کا سارا کام زیادہ سے زیادہ فوائد کا حامل قرار پائے گا ہمارے ہاں اداروں کے درمیان رابطوں کا فقدان آئے روز سڑکوں پر تعمیر و تخریب کی صورت نظر آتا ہے سرکاری منصوبوں میں تاخیر بھی رابطوں کے اسی فقدان کا نتیجہ ہے کیا ہی بہتر ہو کہ حکومت اصلاح احوال کیلئے کوآرڈی نیشن کے کام کو باقاعدہ اور منظم بنائے تاکہ خود حکومتی اقدامات عملی نتائج کے حامل قرار پا سکیں۔