بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / جے آئی ٹی رپورٹ‘ سیاسی گرماگرمی

جے آئی ٹی رپورٹ‘ سیاسی گرماگرمی

پانامہ پیپرز کیس میں تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ آج عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی جارہی ہے رپورٹ کی تیاری کے آخری مرحلے میں سیاسی بیانات میں بھی انتہائی گرما گرمی نوٹ کی جارہی ہے وفاقی حکومت نے تحقیقات میں قطری شہزادے کو شامل نہ کئے جانے پر رپورٹ قبول نہ کرنیکا اعلان کیا ہے حکومت نے تحقیقاتی ٹیم کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ ایڈٹ کئے بغیر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک گواہی لینے سے متعلق کئی مثالیں موجود ہیں حکومت کے ذمہ داروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کا کنٹرول حساس اداروں کے پاس کیسے چلاگیا یہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں انصاف ہوتانظر نہیں آرہا وفاقی وزراء خواجہ آصف‘ سعد رفیق‘ احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی کو پہلے روز سے ہی متنازعہ بھی قرار دیاگیا ہے وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر تمام قانونی آپشن استعمال کئے جائیں گے‘ جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی متنازعہ ہو چکی ہے اسکی رپورٹ بھی متنازعہ ہوگی‘ دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا اپنے ٹوئیٹر بیان میں کہنا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔

جبکہ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل شفقت محمود کا کہنا ہے کہ قطری شہزادے کے خطوط کی حیثیت ختم ہوگئی ہے اور شہزادے کے تازہ موقف نے شریفوں کو امتحان میں ڈال دیا ہے‘ دریں اثناء تحریک انصاف عمران خان کی نااہلی کے کیس میں یہ کہہ رہی ہے کہ ہمیں تعصب کا نشانہ بنایاجارہا ہے اور یہ کہ الیکشن کمیشن کو ماضی کے کھاتے کھولنے کا اختیار ہی نہیں‘ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ الیکشن کمیشن نے دوسری جماعتوں کو چھوڑ کر ہمارے پرانے اکاؤنٹس کھولنے شروع کردیئے ہیں‘ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہو یا کوئی دوسرا کیس‘ وطن عزیز کو درپیش چیلنجز‘ معاشی صورتحال اور عوام کی مشکلات کا تقاضا ہے کہ سیاسی قیادت پورے منظرنامے میں فہم وفراست اور تدبر کو یقینی بنائے ‘ا س وقت ضرورت تحمل کی ہے تاکہ تمام معاملات آئین اور قانون کے دائروں میں رہتے ہوئے نمٹائے جاسکیں‘ اس سب کیساتھ ضرورت عوام کی مشکلات دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ہے تاکہ عام شہری ریلیف پاسکے جوبنیادی سہولیات تک سے محروم ہے۔

بدانتظامی کا بوجھ عوام پر کیوں؟

حکومت کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 300ملین ڈالر قرضے کے حصول کیلئے گردشی قرضوں کا بوجھ بجلی صارفین پر ڈالے جانے کا عندیہ دیا جارہا ہے، خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایشیائی ترقیاتی بینک کو یقین دہانی بھی کراچکے ہیں کہ بینک کو کہاگیا ہے کہ پاور کمپنیوں کی ناکامی پر سرچارج عائد کیاجائیگا‘ وطن عزیز کی معیشت پر کھربوں روپے کے بیرونی قرضوں کا بوجھ ہویا پھر گردشی قرضے‘ یہ سب جس دور میں بھی ہو گڈ گورننس کے فقدان اور بدانتظامی کا نتیجہ ہی ہوتے ہیں‘ چاہئے تو یہ کہ ذمہ دار حکام سے پوچھ گچھ ہو الٹا ہر بدانتظامی کا بوجھ عام شہری پر ڈال دیاجاتا ہے یہ شہری پہلے ہی نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہے بلکہ اندھیروں میں رہنے کے باوجود بھاری بل بھی دیتا ہے اور مہنگائی کی چکی میں بھی پس رہا ہے‘ ایسے میں حکومت کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنے انتظامی امور میں سقم کو تلاش کرے۔