بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / 10لاکھ سالانہ گھریلو گیس کے کنکشن لگانے کی سفارش

10لاکھ سالانہ گھریلو گیس کے کنکشن لگانے کی سفارش

اسلام آباد۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل نے وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل کو 10لاکھ سالانہ گھریلیو گیس کے کنکشن لگانے کی سفارش کردی تاکہ زیادہ سے زیادہ گھریلیو صارفین کو گیس کی سہولت فراہم کی جا سکے، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان نے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایل این جی مہنگی ہے،متبادل فیول میں ایل این جی سب سے سستی ہے، پنجاب میں 18ویں ترمیم کے بعد 40فیصد گیس کے کوٹہ میں کمی آئی ہے، ایل این جی کی درآمد کے بعد وافر مقدار میں گیس دستیاب ہے، اپنی مدت کے دوران 2ملین سے زائد کے گھریلو گیس کے کنکشن لگالیں گے، ایئر مکس ایل پی جی پلانٹس پر کام جاری ہے۔

بلوچستان میں 28پلانٹس ہیں جن اضلاع میں مقامی انتظامیہ تعاون کر رہی ہے کام جاری ہے،کمیٹی کوپاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے حکام نے آگاہ کیا کہ گزشتہ 9ماہ کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور پی ایس او کے منافع میں 24فیصد اضافہ ہوا ہے، پی ایس او کے ڈیفارلٹرز میں اضافہ ہوا ہے،اداروں کے ذمہ پی ایس او کی ڈیفالٹ رقم 131 ارب سے بڑھ کر 171 ارب ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے پی ایس او مالی دباؤ کا شکار ہے، پی ایس او کا قرضہ 92ارب سے بڑھ کر 127 ارب ہو گیا ہے جو قابل تشویش ہے، پاور سیکٹر کے اداروں نے پی ایس او کو 176 ارب ادا کرنا ہے، ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے پی ایس او مشکلات کا شکار ہے جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک، ہنگو میں گیس چوری کے حوالے سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔

ایک مافیا نے نیٹ ورک بنایا ہے اور گیس چوری کر کے بجلی بنا کر بیچ رہے ہیں جب کارروائی کرتے ہیں تو انڈس ہائی وے کو بلاک کر دیتے ہیں، خیبرپختونخوا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر اس کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل کا اجلاس کمیٹی چیئرمین شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے حکام نے آگاہ کیا کہ گزشتہ 9ماہ کی کارکردگی شاندار رہی ہے اور پی ایس او کے منافع میں 24فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی ایس او فیول مارکیٹ میں 55.2فیصد شیئر کے ساتھ آگے ہے۔ پی ایس او نے کریڈٹ کسٹمرز سے کیش کسٹمرز میں سسٹم کو منتقل کیا ہے،کیش کسٹمرز میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایل این جی کے استعمال میں 107 فیصد اضافہ ہوا ہے، ماہانہ 6 جہاز امپورٹ کئے جا رہے ہیں۔

ڈیس او کے ڈیفارلٹرز میں اضافہ ہوا ہے اور یہ 131 ارب سے بڑھ کر 171 ارب ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے پی ایس او مالی دباؤ کا شکار ہے، پی ایس او کا قرضہ 92ارب سے بڑھ کر 127 ارب ہو گیا ہے جو قابل تشویش ہے، پاور سیکٹر کے اداروں نے پی ایس او کو 176 ارب ادا کرنا ہے، جس میں حیبکوکے 42 ارب ،کیپکو 16.9 ارب اور واپڈا کے ذمہ 116 ارب واجب الادا ہیں۔ پی ایس او نے اگر فیول کی سپلائی بند کی تو ملک اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ پی آئی اے نے پی ایس او کے 13 ارب ادا کرنے ہیں، ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے پی ایس او مشکلات کا شکار ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر زاہد میر نے آگاہ کیا کہ کمیٹی کی سفارشات کے تحت او جی ڈی سی ایل نے کارپوریٹ سیٹوں کی تعداد 250 سے بڑھا کر 300 کر دی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے تحت میڈیکل کی سہولت کو غلط استعمال کرنے کے حوالے سے کارروائی کی گئی اور 18 ملازمین کو سزا دی گئی ہے۔ ایک ملین کی ریکوری کی گئی ہے۔ ٹنڈو آدم خان میں ڈیزل کی چوری کے حوالے سے انکوائری کی گئی ہے، معاملہ پر نیب کارکردگی کر رہا ہے، 328 ملین کی کرپشن کی گئی ہے اور نیب نے 31 ملین کی ریکوری کی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک، ہنگو میں گیس چوری کے حوالے سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، ایک مافیا نے نیٹ ورک بنایا ہے اور گیس چوری کر کے بجلی بنا کر بیچ رہے ہیں، جب کارروائی کرتے ہیں تو انڈس ہائی وے کو بلاک کر دیتے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مل کر اس کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس وقت کمپنی کے ذمہ 14 لاکھ گیس کنکشن التواء کا شکار ہیں اور امید ہے 4 سے 5لاکھ اور درخواستیں رواں سال موصول ہوں گی،10 لاکھ کنکشن رواں سال لگانے کی اجازت دی جائے۔ کمیٹی نے 10 لاکھ کنکشن لگانے کی سفارش کی۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ ایل این جی مہنگی ہے،متبادل فیول میں ایل این جی سب سے سستی ہے، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر2000 میں ملتا ہے جبکہ اتنی مقدار میں ایل این جی 750 روپے میں مل جاتی ہے۔

پنجاب میں 18ویں ترمیم کے بعد 40فیصد گیس کے کوٹہ میں کمی آئی ہے، ایل این جی کی درآمد کے بعد وافر مقدار میں گیس دستیاب ہے، اپنی مدت کے دوران 2ملین سے زائد کے گھریلو گیس کے کنکشن لگالیں گے۔ کمیٹی نے نئی آبادی کیلئے گیس کنکشن کا کوٹہ 200سے بڑھا کر 300 کرنے کی سفارش کی۔ کمیٹی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایئر مکس ایل پی جی پلانٹ میں جہاں سے تعاون اورزمین مل رہی ہے کام جاری ہے۔ بلوچستان میں 28پلانٹس ہیں جن اضلاع میں مقامی انتظامیہ تعاون کر رہی ہے کام جاری ہے۔