بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / محفوظ اور تیز تر سفری سہولیات کا منصوبہ

محفوظ اور تیز تر سفری سہولیات کا منصوبہ


خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی دارالحکومت میں لوگوں کی سفری سہولیات کو تیز تر ٗ آسان اور محفوظ بنانے کیلئے میٹرو بس کی طرز پر ریپڈ بس ٹرانزٹ (بی آر ٹی ) منصوبے کو180دنوں کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کے بھرپور عزم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبہ ان کا جنون ہے اور یہ منصوبہ 8نہیں بلکہ 6ماہ میں مکمل کیا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے اپنے اس عزم کی تکمیل کیلئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے ) کو منصوبے کی ذمہ داری سونپی ہے ٗ پی ڈی اے پورے منصوبے کی نگرانی کریگا ۔خوش قسمتی سے پی ڈی اے کو طویل عرصے بعد ایک ایسے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی )میسر آ ئے ہیں جو نہ صرف اپنے کام سے جنون کی حد تک عشق رکھتا ہے بلکہ وہ انتہائی قابل ٗمحنتی ٗ ایماندار ٗ مخلص اور اپنے پیشے پر عبور رکھنے والے آفیسر ہیں ۔ حیات آباد میں اپنے منفرد ڈیزائن کے لحاظ سے اپنی نوعیت کا پہلا پیچیدہ فلائی اوور ’’باب پشاور ‘‘ کی انتہائی قلیل مدت میں تکمیل کا سہرا بھی یقیناً ڈی جی پی ڈی اے کے سر جاتا ہے ۔ ریپڈ بس ٹرانزٹ بھی ایک ایسا مشکل اور پیچیدہ پراجیکٹ ہے جس کی بروقت تکمیل یقیناً ایک جنون کا تقاضا کرتی ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی اے سلیم حسن ووٹو اس سے قبل مختلف کنٹونمنٹ بورڈز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔ انہی صلاحیتوں کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ان کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ پی ڈی اے نے ریپڈ بس ٹرانزٹ کا ڈیزائن فائنل کر لیاہے ٗ جس کے لئے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ٗ پراجیکٹ پر کام کا آغاز یکم اگست سے متوقع ہے جسے وزیراعلیٰ کے احکامات کے مطابق 6ماہ میں مکمل کیا جائیگا۔

ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے ) سلیم حسن ووٹو نے ’’آج ‘‘ سے خصوصی گفتگو کے دوران بتایا کہ ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبہ 26کلو میٹر طویل ہوگا ٗ جس کا سٹارٹنگ پوائٹ چمکنی ہے جبکہ منصوبے کا اختتامی پوائنٹ حیات آباد میں باب پشاور فلائی اوور ہوگا ۔ چمکنی میں آر بی ٹی کا بس اڈہ قائم کیا جائیگا ۔ یہ بس ڈپو 115کنال قطع اراضی پر مشتمل ہوگا جس میں 90کنال تک کا ایریا بسوں کے مطابق ڈیزائن کیا جائیگا ۔اس بس ڈپو میں بس پارکنگ ٗ آٹو میٹک بس واشر ٗ معائنہ کی سہولیات ٗ ورکشاپس ٗ انتظامیہ کے لئے دفاتر ٗ سٹاف کیلئے ویئر ہاؤس ٗ عملے کے لئے آرام کی سہولیات دستیاب ہونگی ۔اسی بس ڈپو میں 10سے 15کنال تک کمرشل سنٹر ٗپارکنگ اور پیدل چلنے کی سہولت بھی میسر ہونگی‘ اس کے ساتھ دو منزلہ کمرشل سنٹر بھی تعمیر ہوگا ۔10کنال رقبے پر آر بی ٹی کا 6منزلوں پر مشتمل ہیڈ آفس قائم ہوگا ٗ ہر فلور پر مختلف دفاتر ہوں گے جس میں ٹرانزٹ پشاور آفس ٗ کے پی یو ایم اے آفس ٗ کانفرنس ہال ٗ اپارٹمنٹس اور بیسمنٹ میں دو پارکنگ فلور ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ حیات آباد میں دوسرا بس ڈپو قائم ہوگا جو 20کنال پر مشتمل ہوگا جہاں پر بسوں کی پارکنگ کے علاوہ کمرشل ایریا اور پیدل چلنے والوں کے لئے سہولیات دستیاب ہوں گی ۔تیسرا بس ڈپو ڈبگری گارڈن میں قائم کرنے کی تجویز ہے جس کے لئے 20کنال اراضی کا انتخاب کیا جائے گا ۔ اس بس اڈے میں گراؤنڈ فلور پر بس پارکنگ ہوگی ۔پہلے فلور پر کار پارکنگ ٗ دوسرے فلور پر کمرشل ایریا ہوگا جبکہ اسی مقام پر ٹرانزٹ پشاور کنٹرول روم ٗ ٹریفک کنٹرول اینڈ ٹریفک مینجمنٹ سنٹر تعمیر ہوگا ۔سلیم حسن ووٹو نے منصوبے کے بارے میں مزید بتایا کہ صدر قیوم سٹیڈیم کے قریب 10کنال اراضی پر کثیر المنزلہ پارکنگ پلازہ تعمیر کیا جائے گا جو 9منزلوں پر مشتمل ہوگا ٗدوسرا پارکنگ پلازہ صدر میں بنایا جائے گا جس کا کل رقبہ 6کنال ہوگا یہ پارکنگ پلازہ تین فلورز پر مشتمل ہوگا ۔تیسرا پارکنگ پلازہ یونیورسٹی روڈ پر تعمیر کیا جائے گا‘ اس کے لئے بھی 6کنال کی اراضی حاصل کی جائے گی اس پارکنگ پلازہ کے تین فلور ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ منصوبے میں بعض علاقوں کو صرف پیدل چلنے والے افراد کیلئے مختص کیا گیا ہے ان میں خیبر بازار ٗ صدر اور یونیورسٹی روڈ کے بعض حصے شامل ہیں ۔ڈی جی پی ڈی اے کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر 31بس سٹیشنز قائم کئے جائیں گے‘ ہر اسٹیشن کا ایریا 640مربع فٹ ہوگا ‘اسی طرح 102فیڈر روٹس بس سٹاپ بھی منصوبے کا حصہ ہیں جس میں مسافروں کے لئے انفارمیشن سسٹم کے ساتھ فیڈر روٹس بس ٹرمینل بھی تعمیر ہوگا ۔ہراسٹیشن کا ایک دوسرے سے فاصلہ 400 میٹر ہوگا ۔ریپڈ بس ٹرانزٹ کے روٹ کے بارے میں سلیم حسن ووٹو نے بتایا کہ منصوبوں تین فیزوں (پیکجز) میں مکمل ہوگا چمکنی سے ملک سعد فلائی اوور تک منصوبے کا پہلا فیز ہوگا ٗ ملک سعد فلائی اوور سے امن چوک تک دوسرا اور امن چوک سے باب پشاور فلائی اوور تک تیسرا فیز تعمیر ہوگا ۔چمکنی سے ملک سعد فلائی اوور تک موجودہ جی ٹی روڈ کا ٹریک استعمال کیا جائے گا ٗ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف گرین بیلٹ کو تین تین میٹر تک لایا جائے گا جبکہ گرین بیلٹ کا باقی حصہ جی ٹی روڈ میں شامل کر لیا جائے گا ۔ چمکنی سے ملک سعد فلائی اوور تک جی ٹی روڈ کے درمیان (سنٹر ) میں ریپڈ بس ٹرانزٹ ٹریک تعمیر ہوگا چمکنی سے ملک سعد فلائی اوور تک بس ٹریک پر چلے گی جس کیلئے کوئی فلائی اوور بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی ٗ آر بی ٹی ٹریک کے دائیں اور بائیں جانب جی ٹی روڈ پر عام ٹریفک رواں دواں رہے گی ۔ منصوبے کا دوسرا فیز ملک سعد فلائی اوور سے شروع ہوگا دوسرے فیز کے نقطہ آغاز سے فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا جو سوئیکارنو چوک سے ہوتا ہوا شعبہ چوک کو کراس کرتے ہوئے شعبہ بازار اور کینٹ ریلوے اسٹیشن کی پشت تک جائے گا ٗ یہاں سے کینٹ ریلوے اسٹیشن کے اندر سے راستہ حاصل کیا جائے گا جو پشاور پریس کلب کے سامنے سے نکلے گا اور پھر ایف سی چوک سے ہوتے ہوئے صدر سنہری مسجد روڈ سے ہو کر امن چوک تک جائے گا‘ منصوبے کا تیسرا فیز امن چوک سے شروع ہوگا‘ یہاں سے بھی یونیورسٹی روڈ کے سنٹر میں آر بی ٹی کیلئے ٹریک بنایا جائے گا جو باب پشاور فلائی اوور تک جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ آر بی ٹی منصوبے میں 380بسیں چلیں گی جس کا کرایہ انتہائی کم ہوگا اور سفر محفوظ اور آسان ہونے کے ساتھ تیز تر ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ منصوبے ابھی فائنل سٹیج سے تھوڑا دور ہے اس لئے ڈیزائن میں ضرورت کے مطابق تبدیلی لائی جا رہی ہے ٗ صرف فیز ٹو کے ڈیزائن میں معمولی تبدیلی لائی گئی ہے ‘منصوبے کے فیز ٹو ڈیزائن میں پہلے قلعہ بالا حصار کے عقب میں ہسپتال روڈ ٗ طورہ قل بائے روڈ اور خیبر بازار بھی شامل تھا تاہم کنسلٹنٹ نے ان علاقو ں میں بی آر ٹی منصوبے کو ناقابل عمل قرار دیا ہے اسی لئے ڈیزائن میں تبدیلی کی گئی ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید تبدیلی بھی کی جا سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے کیلئے ہوم ورک مکمل کر لیا ہے ٗ نگرانی کے لئے آفیسرز اور عملے کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں اور منصوبے کیلئے دن رات محنت کی جا رہی ہے ۔ سلیم حسن ووٹو نے کہا کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ان پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے ان کے شکر گزار ہیں اور میری پوری کوشش ہوگی کہ بی آر ٹی منصوبہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے ۔ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے لئے 6چینی کمپنیوں سمیت 19کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ چینی کمپنی ہی مکمل کرے گی ۔صوبائی دارالحکومت میں اس وقت لوگوں کو سفری مسائل کا سامنا ہے ۔ مسافر بسوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ٗ بسیں کھٹارا ہو چکی ہیں ‘ سب سے اہم خواتین کے لئے ان بسوں میں الگ سے بیٹھنے کی جگہ مختص نہیں ہے ۔ ہر مسافر بس میں مردوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جس کے باعث خواتین گھنٹوں بس سٹاپس پر خالی بسوں کا انتظار کرتی ہیں ۔صوبائی حکومت کے ایک اندازے کے مطابق ریپڈ بس ٹرانزٹ میں روزانہ 60ہزار افراد سفر کریں گے ۔آر بی ٹی کی دوسری خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس میں سائیکل ٹریک بھی ہوگا اس اقدام سے یقیناً پشاور میں سائیکل چلانے کے رجحان کو فروغ ملے گا ۔ہر چند کہ یہ منصوبہ طویل تاخیر کے بعد شروع کیا جا رہا ہے تاہم دیر آید درست آید کے مصداق منصوبے کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کی تکمیل کو مقررہ مدت کے اندر یقینی بنایا جائے اگر منصوبے میں بلا ضرورت تاخیر ہوئی تو یہ منصوبہ بجائے سہولت کے زحمت بن جائے گا کیونکہ طویل عرصے تک سڑکوں کی اکھاڑ پچھاڑ سے روٹین کی ٹریفک ضرور ڈسٹرب ہوگی جس سے وقتی طور پر لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ادھر ٹریفک پولیس نے بھی ریپڈ بس ٹرانزٹ منصوبے کے دوران ٹریفک نظام کو رواں دواں رکھنے کیلئے متبادل روٹس تجویز کر دیئے ہیں ۔ ٹریفک پولیس نے آر بی ٹی منصوبے سے قبل ان متبادل روٹس کیلئے خصوصی آگاہی مہم بھی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس اقدام سے یقیناً عوام کو منصوبے کی تعمیر کے دوران مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا تاہم اگر متبادل روٹس پر ٹریفک پولیس اہلکار تعینات نہیں ہوں گے تو ان روٹس پر بھی ہمہ وقت ٹریفک جام رہے گا لہٰذا ٹریفک پولیس کو منصوبے کے آغاز اور تکمیل تک متبادل روٹس پر ٹریفک اہلکاروں کی اضافی نفری بھی تعینات کرنا ہوگی ۔