بریکنگ نیوز
Home / کالم / درس و تدریس: مافیا کی حکمرانی

درس و تدریس: مافیا کی حکمرانی

علم کامل نہ ہو تو اس سے مفید نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ پاکستان کے پروفیسر صاحبان کے پاس کتب بینی کے لئے وقت ہی نہیں کیونکہ وہ اپنا وقت‘ وہ چیزیں جنہیں وہ ’تحقیقی‘ مقالے پکارتے ہیں‘ چھپوانے میں اور اپنے طلباء کو پی ایچ ڈی ڈگریاں دلوانے میں صرف کر رہے ہیں امریکہ کی بہترین سائنس اور انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے گریجویٹ ڈپارٹمنٹس میں بھارتی اور چینی طلبہ تو بھرے ہوئے ہیں مگر پاکستانیوں کی قلت ہے کیونکہ زیادہ تر پاکستانی ان اداروں میں داخلے کے لئے مطلوب جی آر ای ٹیسٹ کے مقررہ معیار پر پورے ہی نہیں اُتر پاتے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ غیر معمولی حد تک ذہین طلباء کہیں بھی بیٹھ کر اپنے طور پر کچھ بھی پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر باقی کے ایسے طلباء اپنے گھر تک بھی محدود رہتے تو کوئی فرق نہ پڑتاانکے پروفیسرز کے پاس متاثرکن ڈگریاں تو ہیں مگر اپنے مضمون کا علم کچھ بہتر نہیں اور اسی لئے وہ بہتر ٹیچرز بھی نہیں بن پاتے کیونکہ ان ٹیچرز کو ان کے ٹیچرز نے بھی ایسے ہی پڑھایا تھا۔ اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ سیاسی اور ثقافتی وجوہات کی بناء پر ہندوستان سے موازنہ کریں تو جو علاقے اس وقت پاکستان کا حصہ ہیں وہ ماضی میں تعلیمی میدان میں پیچھے تھے 1947ء میں پاکستان میں صرف ایک یونیورسٹی اور چند کالجز تھے۔ ہجرت کی وجہ سے ان تعلیمی اداروں نے اپنے بہترین فیکلٹی ممبران کھو دیئے کیونکہ ان میں زیادہ تر ہندو تھے۔

پاکستان کسی قابل ذکر غیر معمولی تعلیمی روایت کا حامل نہیں رہا مگر اس کے باوجود کولونیل نظام سے آزادی پانے والی دیگر ریاستوں کی طرح پاکستان نے بھی آہستہ آہستہ جدید یونیورسٹی نظام کو اپنانا شروع کیا اگرچہ معیار عام طور پر پست تھا لیکن کہیں کہیں بہترین تعلیمی معیار بھی نظر آ جاتا تھا تعلیمی معیار میں سب سے بڑی گراوٹ سال دوہزار دو میں آئی جب تحقیق اور پی ایچ ڈی ڈگریوں کو فروغ دینے کی خاطر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ترقی‘ تنخواہوں اور دیگر مراعات کو یونیورسٹی ٹیچرز کے شائع ہونے والے ریسرچ پیپرز کی تعداد سے منسلک کر دیا۔ تدریسی کام نے ایک غیر متعلقہ حیثیت اختیار کر لی آپکی تنخواہ وہی رہے گی چاہے آپ اچھا پڑھائیں یا بُرا یا بھلے ہی آپ اپنے مضمون پر عبور رکھتے بھی ہیں یا نہیں دیکھئے کہ کس قدر فروغ حاصل ہوا: 1970-80ء میں پندرہ سے بیس سال کے تجربے کے ساتھ ایک فل پروفیسر بننے کیلئے آپ کو بارہ عدد ریسرچ پیپرز درکار ہوتے تھے۔ ان دنوں اس تعداد کو خوفناک حد تک کثیر سمجھا جاتا تھا میرے کئی ساتھی بغیر ترقی ملے ساٹھ کی عمر تک پہنچ کر ریٹائر ہو گئے۔ وہ بہت ہی بااخلاق‘ بااصول لوگ تھے جو کتابیں پڑھتے تھے لیکن ایک بار جب لوگوں کو پیسوں سے بھری پوٹلی کی بھنک لگی تو پرانا نظام اور اس کے تمام اخلاق ہی غائب ہو گئے۔

اب کسی کو کوئی حیرانی نہیں ہوتی جب اسی یونیورسٹی میں ایک طالب علم پی ایچ ڈی کورس کے دوران دس سے پندرہ یا اس سے زائد پیپرز شائع کروا دیتا ہے۔ ایچ ای سی کی نئی شرائط نے تعلیمی جرائم کو نفع بخش بنا دیا۔ جس طرح شکاگو میں منشیات فروش گینگز ہوتے ہیں‘ اسی طرح پاکستانی اعلیٰ تعلیم پر زیادہ تر قبضہ کوسا نوسٹرا جیسے خاندانوں کا ہے۔ ہر مافیا خاندان کا باس اگر مکمل پروفیسر نہیں بھی تو کم از کم ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ضرور ہے۔ ہر باس کے اپنے اپنے ذاتی علاقے مخصوص ہیں تا کہ دیگر باسز سے تنازعات پیدا نہ ہوں اور ہر باس اس سرپرستانہ کھیل کو بڑے ہی ماہرانہ انداز سے کھیلتا ہے۔ کبھی کبھار ان کے پاس ایک ماتحت باس (چھوٹا) بھی ہوتا ہے جو فیکٹری مزدوروں‘ یعنی پی ایچ ڈی اور ایم فل طلبہ کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ فیکٹریاں ایسی جعلی تحقیقیں تیار کرتی ہیں اور ان میں اصل تحقیق کی اس خوب انداز میں پردہ نشینی کر دی جاتی ہے کہ آپ اس نقل کو پکڑ ہی نہیں پاتے لہٰذا حقیقی اساتذہ‘ جو اپنا پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھتے ہیں اور جھوٹ یا فریب سے انکاری ہیں‘ اس کے تباہ کن اثرات بھگتے آ رہے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی جامعات مضحکہ خیز ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے اس سمت میں جائیں جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے یعنی پڑھانا۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: پرویز ہودبھائی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)