بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ادراک: ترقی حسب آبادی!

ادراک: ترقی حسب آبادی!

گیارہ جولائی (عالمی یوم آبادی) کی مناسبت سے جہاں اِس بات پر ’’روایتی غور و خوض‘‘ ہوا کہ تیزی سے پھیلنے والے دنیا کے دس بڑے شہروں میں رہنے والوں کو مستقبل قریب میں کن مسائل و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا‘ وہیں اِس نادر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ترقی کے اُس عمل کا بھی جائزہ ’برمحل‘ تھا مختلف شعبوں کے ماہرین اپنے اپنے نکتۂ نظر سے حکومتی پالیسیوں اور برسرزمین حقائق کا جائزہ پیش کرتے ہیں لیکن جس ایک بات پر اور بات چیت کے دوران کسی نہ کسی مرحلے پر اتفاق رائے دیکھنے کو ملتاہے وہ یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کو مستقبل سے زیادہ حال کی فکر رہتی ہے اور اُن کی لغت میں مستقبل کا لفظ کسی حوالے سے درج ملتا بھی ہے تو وہ صرف عام انتخابات کی ذیل میں ضمنی طور پر آتا ہے! آبادی و ترقی سے متعلق اعدادوشمار پر بھروسہ کرنے والے خیبرپختونخوا کے ’محکمۂ بہبود آبادی‘ کے ذمہ داروں کو ٹٹولا گیا تو ترقی کا جو خاکہ (نقشہ) ہاتھ آیا‘ اُس سے انکار تو ممکن نہیں اور نہ ہی اچھی (سیاسی وغیرسیاسی) نیت پر ہی شک کیا جا سکتا ہے لیکن بہرکیف (چارولاچار) اِس نتیجۂ خیال سے فیصلہ ساز بھی اتفاق کرتے ہیں کہ ’’خیبرپختونخوا میں ترقی کے موجود خاکے میں رنگ بھرنے کی بہرحال ضرورت ہے!‘‘اِنسانی آبادی پہلی بار اٹھارہ سو عیسوی میں ایک ارب تک پہنچی جبکہ اُنیس سو بیس کی دہائی میں یہ دو ارب ہوگئی۔ اس کے صرف پچاس برس بعد اُنیس سو ستر کی دہائی میں آبادی دو گنا یعنی چار ارب اور تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ دوہزار سترہ میں عالمی آبادی آٹھ ارب کی حد کو عبور کر جائے گی یا چھو لے گی۔ آبادی میں اِس اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل اجاگر کرنے کیلئے ’’عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ مقامی مسائل کے بارے غور کرنے کی توفیق (سبیل) مل سکے اگر سال دوہزار پچاس میں عالمی آبادی ’’دس ارب‘‘ ہو جائے گی تو کیا اِس کے اثرات سے پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کا مرکزی شہر ’پشاور‘ متاثر ہوئے بغیر رہ سکے گا؟۔

مقام حیرت ہے کہ یہ سوال ’بہبود آبادی‘ کے نام پر قائم محکمے کے فیصلہ سازوں کے سامنے پہلے ہی سے موجود ہے جن کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں اِس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ذہن نشین رہے کہ خیبرپختونخوا کی آبادی میں ہرسال 4 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے آبادی کے بڑھتے ہوئے حجم کے لئے پینے کا صاف پانی‘ صحت و علاج معالجہ‘ تعلیم‘ روزگار اور بہتر سماجی ماحول کی فراہمی جیسے اہداف کا حصول ہر گزرتے سال پہلے سے زیادہ مشکل ہو رہے ہیں منصوبہ بندی کسی بھی ترقیاتی عمل کے لئے ریڑھ کی ہڈی جیسی حیثیت رکھتی ہے لیکن اِس کلیدی ذمہ داری کا احساس نہیں کیا جاتا اور جہاں اعدادوشمار موجود بھی ہیں اور انہیں سیاسی فیصلہ سازوں کے سامنے پیش بھی کیا جائے تو وہ اِنہیں خاطرخواہ اہمیت نہیں دی جاتی اور ترقیاتی حکمت عملیاں وضع کرتے ہوئے ’بہبود آبادی‘ کے نکتۂ نظر کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔کاش ہم سمجھ سکتے کہ آبادی میں اضافے کو نظرانداز کرکے ہم مستقبل میں کتنی بڑی مصیبت کا سامنا کرنے جا رہے ہیں!‘‘ حقیقت یہ ہے کہ جس دن ہمارے سیاسی حکمرانوں کو معاملے کی سمجھ آ گئی وہی تبدیلی کے آغاز کی گھڑی ہوگی ۔