بریکنگ نیوز
Home / کالم / پروپیگنڈے کا توڑ ضروری

پروپیگنڈے کا توڑ ضروری


آج کی جنگیں روایتی انداز سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ غیر روایتی انداز اپنا کر دشمن کو مغلوب کیا جاتا ہے انگریزی زبان میں آپ اس قسم کی جنگ کو Psychological warfare کہہ لیں یا اردو میں نفسیاتی جنگ آپ کو یہ جان کر حیرت بالکل نہیں ہوتی چاہئے کہ ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں لگ بھگ50 کے قریب نجی ٹیلی ویژن چینلز کام کر رہے ہیں اور دو سو ریڈیو سٹیشنز جہاں تک افغان حکومت کا تعلق ہے اس کا صرف اپنا ایک ہی ٹیلی ویژن چینل ہے جو ’’ ملی ٹی وی‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور یہی حال ریڈیو کابل کا بھی ہے کہ جو سرکاری ترجمان ہے ان نشتریاتی اداروں سے پشتو‘ فارسی اور دری زبانوں میں پروگرام براڈ کاسٹ اور ٹیلی کاسٹ کئے جاتے ہیں اگران اداروں کو بنظر غائر دیکھا جائے تو افغانستان میں چلنے والے ٹیلی ویژن چینلز میں معدودے چند ایسے ٹیلی ویژن سٹیشن ہیں جو پیشہ ورانہ اندازمیں کام کر تے ہیں اور جن میں طلوع‘ شمشاد‘ آریانہ‘ خورشیدنامی چینلز شامل ہیں جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان میں تو نہ کوئی قابل ذکر انڈسٹری موجود ہے اور نہ ہی اس کی تیار کردہ مصنوعات وسیع پیمانے پر خریدی جاتی ہیں کہ جن کو کمرشلز ’’اشتہارات‘‘ چلا چلا کر افغانستان کا الیکٹرانک میڈیا اپنے عملے کی تنخواہوں کا خرچہ نکال سکے ؟ تو پھر افغانستان کے ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو سٹیشن کن وسائل سے پیسہ کماتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب دینے کیلئے کسی راکٹ سائنس کے پڑھنے کی قطعاًضرورت نہیں ہے وہ تمام غیر ممالک کہ جن کے افغانستان میں اپنے اپنے سیاسی تجارتی یا عسکری مفادات موجود ہیں وہ کابل میں اپنے سفارت کاروں کے ذریعے افغانستان کے نجی میڈیا ہاؤسز ‘ شعبے میں موجود ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو سٹیشنز کی مالی ضروریات ڈیمانڈ پوری کرتے ہیں اور پھران کے ذریعے جس قسم کا پراپیگنڈہ وہ کرنا چاہیں کرتے رہتے ہیں۔

وہ کونسے ممالک ہیں کہ جن کی افغانستان میں مندرجہ بالا امور میں دلچسپی ہو سکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان ممالک میں بھارت ‘ امریکہ ‘ روس اور ایران سرفہرست ہیں افغانستان میں ٹیلی ویژن کی آمد سے وہاں کے ریڈیو سٹیشنز کی اہمیت کم نہیں ہوتی اب بھی تقریباً دس کے قریب ریڈیو سٹیشنز کی نشریات افغانستان میں بڑے شوق سے سنی جا رہی ہیں اگر آپ افغانستان کے میڈیا ہاؤس کے نشتریاتی اداروں کی نشریات غور سے سنیں اور دیکھیں تو آپ کو یہ محسوس کرنے میں دیر نہیں لگے گی کہ غیر ملکی فنڈنگ سے اگر کسی ملک کے خلاف سب سے زیادہ پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے ایک منظم سازش کے ذریعے افغان رائے عامہ کو پاکستان کے خلاف کیا جا رہا ہے افغان میڈیا ہاؤس کی یہ روش کوئی نئی نہیں 1947 سے لیکر جب تک افغانستان میں ظاہر شاہ اور سردار داؤد خان کی بادشاہی تھی اس وقت بھی افغانستان کا الیکٹرانک میڈیا خصوصاً کابل ریڈیو اپنے پشتو اور فارسی زبان کی نشریات میں پاکستان کے خلاف زہر اگلتا تھا لیکن اس دور میں ریڈیو پاکستان پشاور اور ریڈیو پاکستان کے نیشنل ہک اپ کے پروگراموں میں پشتو اورفارسی زبانوں میں ان کا موثر جواب دیا جاتا تھا ایک عرصے سے ہماراریڈیو اور ٹیلی ویژن اب افغانستان کے الیکٹرانک میڈیا کے پراپیگنڈہ پروگراموں کا جواب اس شد و مد سے نہیں دے رہا کہ جس کی ضرورت ہے اور خاموشی کو ہماری کمزوری سمجھاجائیگا۔

ریڈیو پاکستان پر اور ٹیلی ویژن چینلز کے ذریعے خصوصاً پی ٹی وی کے ذریعے پشتو ‘ دری اور فارسی زبان میں افغانستان کے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کا ایک موثر توڑ کے ذریعے جواب دینا ضروری پڑ گیا ہے مقام افسوس ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار عرصہ دراز سے ریڈیو پاکستان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھے ہوئے ہیں نہ اس کے آرٹسٹوں کو اتنا مشاہرہ دیا جا رہا ہے جو ٹیلی ویژن کے عملے کو دیا جاتا ہے اور نہ اس کی تکنیکی ضروریات جدید ترین ریڈیو ٹرانسمیٹرز کی فراہمی کی طرف مناسب دھیان دیا جا رہا ہے بی بی سی کی اردو نشریات پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش وغیرہ میں کس قدر صاف سنی جاتی ہیں جب تک ریڈیو پاکستان کی نشریات کو اس طرح شفاف انداز میں افغانستان اور ایران میں سننے کا بندوبست نہیں کیا جائے گا مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے وزارت اطلاعات اس اہم شعبے کی طرف خصوصی توجہ دے افغانستان کے عام شہری کو پتہ ہونا چاہئے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے اور آج کے دور میں یہ کام ریڈیو سے زیادہ موثر انداز میں افغانستان کے دور دراز علاقوں میں کوئی دوسری قسم کا نشریاتی ادارہ نہیں کر سکتا۔