بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی استحکام اور مستحکم معیشت

سیاسی استحکام اور مستحکم معیشت


پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف اور ان بچوں کے خلاف نیب کے ریفرنس کی سفارش کی ہے عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف‘ حسن نواز اور حسین نواز کی دولت معلوم ذرائع سے زیادہ ہے دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں جے آئی ٹی رپورٹ پر بریفنگ دی گئی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں رفقاء نے وزیراعظم کو مستعفی نہ ہونے سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے اور محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ وفاقی وزراء احسن اقبال‘ خواجہ آصف‘ شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی بیرسٹر ظفر اللہ کی مشترکہ پریس کانفرنس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ردی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دیں وہ شریف خاندان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری بھی وزیراعظم کے استعفے کا ہی مطالبہ کررہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو لڑائی جھگڑے کی شکل نہ دی جائے ابھی صرف سفارشات آئی ہیں سپریم کورٹ کا فیصلہ اہم ہوگا۔

دریں اثناء سیاسی گرما گرمی اور تند و تیز بیانات کے ساتھ ساتھ سٹاک مارکیٹ میں مندی نوٹ ہورہی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈیکس 45 ہزار کی نفسیاتی حد سے گر گیا ہے سٹاک مارکیٹ ڈالر کی قیمت کے حوالے سے پہلے ہی مندی کا سامنا کررہی ہے توانائی بحران کا شکار کھربوں روپے کے قرضوں تلے دبی معیشت اس صورت مستحکم ہوسکتی ہے جب وطن عزیز میں امن کے ساتھ سیاسی استحکام ہو۔ یہ استحکام سیاسی قیادت کے صبر و تحمل‘ بصیرت اور تدبر سے جڑا ہے سیاسی سرگرمیاں اگر حد اعتدال میں رہتی ہیں اختلافی معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں لے جائے جاتے اور اقتصادی سرگرمیوں کے لئے موافق ماحول دیا جاتا ہے تو یقیناًسرمایہ کاری بھی آئے گی اور سٹاک ایکسچینج بھی استحکام پکڑے گا اسی سے ملکی معیشت اور عوام کے مسائل کا حل جڑا ہے۔

مضر صحت گوشت کی فروخت

پشاور کی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ لائیوسٹاک کے ایک مشترکہ کریک ڈاؤن میں بچھڑوں کا گوشت فروخت کرنے پر 6 دکانیں سیل کردی گئیں جبکہ کاروائی کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے بعد از خرابی بسیار سہی شہریوں کی صحت سے جڑے اس اہم مسئلے پر انتظامیہ کا احساس و ادراک قابل اطمینان ہے تاہم صرف اس پر اکتفا نہیں ہونا چاہئے۔ بچھڑوں کے ساتھ دوسرے مویشیوں کا مارکیٹ میں لایا جانے والا گوشت ذبح خانے سے دکانوں تک ہر مرحلے پر چیکنگ کا متقاضی ہے۔ اس مقصد کے لئے ذبح خانے میں موجود چیک کے نظام کو صرف ایک ربڑ سٹیمپ تک محدود رکھنے کا تصور ختم کرنا ناگزیر ہے۔ گوشت کے ساتھ قیمے‘ مرغیوں اور مچھلیوں کو چیک کرنا بھی ناگزیر ہے۔
اس سارے کام کے لئے انتظامیہ اور لائیوسٹاک کے وسائل اور افرادی قوت قطعاً ناکافی ہے اس میں پولٹری اور فشریز کے ذمہ دار دفاتر اور انتظامیہ کے دیگر محکموں کے وسائل بھی استعمال کرنا ہوں گے اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے دکانداروں کی تنظیموں اور عوامی نمائندوں سے تعاون لیا جاسکتا ہے بصورت دیگر ایک دو چھاپے صرف کاغذی کاروائی ہی تصور ہوتے رہیں گے۔