بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مولانا فضل الرحمان کی کرپشن خاتمہ کے لئے شرط

مولانا فضل الرحمان کی کرپشن خاتمہ کے لئے شرط


پشاور۔امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج میڈیا کا سب سے بڑا موضوع پانامہ اور جے آئی ٹی بنا ہوا ہے یہ وہی درخواست ہے جو عدالت میں پیش کی گئی تھی اور عدالت نے کہا تھا کہ کہ فضول قسم کی درخواستیں کیوں عدالتوں میں لاتے ہو یہ فضول قسم کی درخواست آج کیا بلا بن گئی ہے۔عدالت کا احترام سر آنکھوں پر لیکن جتنا ہو رہا ہے یہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے یا نواز شریف کو اتارنے کے لیے ہے یہ کرپشن کا خاتمہ ہے اور نواز شریف کوسزا دینا ہے یا پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سی پیک منصوبہ کو سبوتاژ کرنا ہے نواز شریف کی دولت تمہیں آج نظر آئی ہے پہلے وہ دولت مند نہیں تھا پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں کتنا فاصلہ تھا کتنی دوریاں تھیں آج جب سی پیک منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کا مسئلہ جو بین الاقوامی ایجنڈہ کا حصہ ہے دھیرے دھیرے آج آپ کو ایک اسٹیج پر نظر آ رہے ہیں یہ ہے پاکستان کی امریکن لابی جو پاکستان میں کن کن مقاصد کے لیے کام کررہی ہے اگر ملک سے کرپشن ختم کرنی ہے تو حکومت جے یو آئی کے حوالے کردی جائے کرپشن ختم ہوجائے گی۔ان خیالات کااظہار مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جے یو آئی (ف) میں شمولیت کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے دنیا میں ایک نئے تصور کا آغاز چونکہ پاکستان سے ہوا ہے لہذا یہاں پر بھی عدم استحکام کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے عملاً تو پانامہ کیس ہے اور پانامہ کیس کی مجھے تو کوئی سمجھ نہیں آئی میں اس کیس پر زیادہ تبصرہ نہیں کرتا خاموش رہتا ہوں اور وہ کہتے بھی ہیں فضل الرحمن کیوں خاموش ہے لیکن سیدھی بات یہ ہے کہ پانامہ کیس کے حوالے سے جو عمارت کھڑی کی گئی اور آج میڈیا کا سب سے بڑا موضوع پانامہ لیکس اور جے آئی ٹی بناہوا ہے یہ وہی درخواست ہے جو عدالت میں پیش کی گئی تھی اور عدالت نے کہا تھا کہ یہ فضول قسم کی درخواستیں کیوں عدالتوں میں لاتے ہو یہ فضول قسم کی درخواست آج کیا بلا بن گئی پھر تھوڑا سمجھ لینا چاہیے کیوں یہ صورتحال بنی میں نے بیان دیا تھا کہ میں ڈرتے ڈرتے ایک بات کہہ رہا ہوں آج کل تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے کوئی ایک پہلو نکال لیا جائے کہ آپ نے تو توہین کر دی ہے بابا توہین سے ہماری توجہ ہے احترام سرآنکھوں پر لیکن جتنا ہو رہا ہے یہ کرپشن کے خاتمہ کے لیے ہے یا نواز شریف کو اتارنے کے لیے ہے سلسلہ کیا ہے آج میں کہناچاہتا ہوں یہ کرپشن کاخاتمہ ہے اور نواز شریف کو سزا دینا ہے یا پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سی پیک منصوبہ کو سبوتاژ کرنا ہے یہ سارے وہ خیالات ہیں جو زندہ رہیں گے چاہے دنیا میں کچھ بھی ہو جائے ہم پر بے شک تنقید کرتے رہو مگر اس کے پیچھے جو ایجنڈہ اور مقاصد ہیں وہاں تک بھی پہنچنا چاہیے نوازشریف کی دولت تمہیں آج نظر آئی ہے پہلے دولت مندنہیں تھا مشرف کے زمانہ میں اسے اقتدار سے اتارا گیا اس پر دہشت گردی اور کرپشن کے کیسز چلائے گئے کسی زمانے میں ہمارے میڈیا پر سوئس اکاؤنٹس ایک ایسا مسئلہ بن جاتا ہے جیسے پاکستان کا کوئی دوسرا مسئلہ ہو ہی نہیں سرے محل کا مسئلہ اٹھایا گیا یہ پاکستان کا واحد مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔

آج اس حوالے سے آپ تبصرہ کریں تو اسے کرپشن کہانی تصور کیا جائے گا ہم کرپشن والے لوگ ہوتے تو جمعیت علمائے اسلام کے کسی ایک کارکن پر کسی ایک پولیس چوکی پر تو کرپشن کا کیس ہونا چاہیے تھا میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ کرپشن ختم کرنا چاہتے ہوتو مختصر فارمولا بتاتا ہوں حکومت جمعیت علمائے اسلام کو دے دو کرپشن ختم ہو جائے گی لیکن بنیادی سوال یہی ہے کہ جو چیز نظر آ رہی ہے وہ کس چیز کو متاثر کر رہی ہے اس کو نظر میں رکھنا پڑے گا ہمیں پاکستان کو عدم استحکام کی طرف نہیں لے جانا چاہیے میں یہ بات اس لیے کہتا ہوں کہ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں کتنا فاصلہ تھا کتنی دوریاں تھیں آج جب سی پیک منصوبہ کو سبوتاژ کرنے کا مسئلہ جو بین الاقوامی ایجنڈہ کا حصہ ہے دھیرے دھیرے آج آپ کو ایک سٹیج پر نظر آ رہے ہیں یہ ہے پاکستان کی امریکن لابی جو پاکستان میں کن کن مقاصد کے لیے کام کر رہی ہے ان چیزوں کے پیچھے سیاسی مقاصد اور ایجنڈے ہیں تھوڑا ان کی طرف بھی ذہن جانا چاہیے اس سے متاثر کیا ہورہا ہے اورکیا نہیں ہو رہا اقتدار تو آتا رہتا ہے یہ تو نہیں کہ کوئی شخص ناگزیر ہے نواز شریف کل حکمران تھا پھر نہیں تھا آج حکمران ہے پھر نہیں ہوگا یہ کوئی مسئلہ نہیں ان کا کہنا تھا کہ جمہوری ماحول میں فتوحات بھی عارضی ہوتی ہیں شکست بھی عارضی ہوتی ہے حکومت بھی عارضی ہوتی ہے ایک سفر ہے کرنا پرٹا ہے لیکن بنیادی مقاصد پاکستان کا مفاد ہے پاکستان کا سیاسی استحکام ہے پاکستان کی مذہبی شناخت ہے ان چیزوں کو تحفظ دینے کے لیے قوم کو سمجھانا پڑتا ہے اور قوم سے بات کرنا پڑتی ہے یہ ساری چیزیں ہیں جو آج کے اس ماحول میں ہمارے سامنے سوالیہ نشان ہیں جو ہم سے مسئلہ کا حل طلب کرتی ہیں باقی اگر کوئی ایجنڈہ ہے تو ہم طاقتور قوتوں کے آگے پہلے بھی رکاوٹ نہیں بن پا سکے اور شاید اگر یہ طے شدہ ایجنڈہ ہے تو شاید رکاوٹ نہ بھی بن سکیں لیکن عوام کو آگاہ کرنا پڑتا ہے ان کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک ملک میں شروع ہوئی اور ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔نواز شریف اس وقت لندن میں تھے اور کل جماعتی کانفرنس بلائی میں نے اس کانفرنس میں ایک بات کہی کہ اس بات کو تو واضح کر دیا جائے کہ یہ جو جنگ ہم لڑنے جارہے ہیں یہ عدلیہ کی آزادی کی جنگ ہے یا یہ ججوں کی بحالی کی جنگ ہے میرے اس ایک جملہ کی وجہ سے پتہ نہیں دنیا نے میرے خلاف کیا کیا باتیں کہیں ہمیں حقائق کو سمجھنے کی طرف جانا ہوگا۔اگر ہم غلط ہیں تو ہمیں سمجھائیں ہم تو دلیل کو سننے والے لوگ ہیں ان کا کہنا تھا کہ جو چیز ملک کے اندر ہے دیکھا جائے کہ ملک اس کا متحمل ہے کہ نہیں ہر چیز پر پاکستان مقدم ہے ہر چیز پر پاکستان کا استحکام اور اس کا سیاسی استحکام مقدم ہے ہم نے اس کی معیشت کو بہتر بنانا ہے اور اس کی بہتر معیشت کے کوئی امکانات اور امیدیں نظر آئی ہیں تو وہ کون سی قوتیں ہیں۔

جو اس کو سبوتاژ کرنے کی طرف جا رہی ہیں یہ ساری چیزیں دیکھنی پڑتی ہیں اس اعتبار سے ہم زیادہ تبصرے نہیں کرتے نہ ان معاملات میں زیادہ فریق بنتے ہیں لیکن اپنی ایک رائے ضرور رکھتے ہیں عدالت کے معاملات ہیں عدالت آئین اور قانون کو بہتر جانتی ہے مگر دنیا کا ایجنڈہ شاید عدالت کا مسئلہ نہیں ہوتا ان کے سامنے جو سامنے رکھی جاتی ہے۔وہ اسی فائل پر بات کرتے ہیں لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں ہم ہمہ جہت صورتحال کو دیکھنا ہوتا ہے اس میں کسی کی توہین یا احترام کا مسئلہ نہیں احترام اپنی جگہ پر برقرار ہے لیکن ایک تجزیہ اور ایک رائے جو لوگوں سے ہم سنتے ہیں اس پر ہم تجزیہ کرتے ہیں اور اپنی رائے عوام کے سامنے رکھتے ہیں ہمیں پتہ ہے کوئی ہماری تائید کرے گا اور کوئی تنقید کرے گا۔کوئی کہے گا کہ ہم نواز شریف کو ان حالات میں بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ تو خود مجھ سے شاکی ہیں کہ ان حالات میں خاموش کیوں ہیں یہ چیزیں ہمارے مد نظر ہونی چاہیں پھر الیکشن آنے والے ہیں پھر ہم نے ان قوتوں کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور عوام کی طاقت کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے حکمت عملی بنانی ہے پشاور کے نوجوان جو پارٹی میں شامل ہوئے ہیں وہ جدوجہد کریں آئندہ حکومت جے یو آئی (ف) بنائے گی اور پھر یہ بات ثابت ہو جائے گی کرپشن کون کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔