بریکنگ نیوز
Home / کالم / ایم کیو ایم لندن

ایم کیو ایم لندن


ہم نے بارہا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ایم کیو ایم جس کا بانی اور سرپرست الطاف حسین ہے اُس کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔الطاف حسین نے اس پارٹی کی بنیاد ہی تعصب پر رکھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کراچی میں نہ صرف مہاجروں بلکہ سارے ہی محروم طبقے کی نمائندہ جماعت ،جماعت اسلامی تھی۔اور اس کی طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ تھی۔جمعیت نے اس ملک کو بڑے بڑے لیڈر دیئے ہیں۔ایسے لیڈر کہ جن کی حب الوطنی پر شک نہیں ہو سکتا۔ موسس جماعت مولانا مودودی ؒ نے اس جماعت کو انتہائی اسلامی نظریات پر اٹھایا اور چلایا۔ جمعیت کے بچوں کو روز اول سے ہی قران و حدیث اور اسلامی اصولوں کا پابند بنایا جاتا تھا ۔ ہر ہفتے جمعیت کے اجتماعات میں درس قران لازمی تھا جس سے ان بچوں میں اسلامی شعار کو ترویج دینے کا بڑا حصہ تھا۔ جمعیت کے لڑکے ہر وقت پر امن رہتے اور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخل ہونے والے لڑکوں کی ہر طرح کی امداد کرتے۔کراچی میں ایوب خان کے صدارتی الیکشن کے بعد خاصی گڑ بڑ ہوئی اس لئے کہ جماعت اسلامی نے کھل کر محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی۔ اس وقت کی کراچی میں گڑ بڑ نے جمعیت کے لڑکوں میں اشتعال پیدا کیا مگر مولانا کی تربیت کی وجہ سے طلباء ہنگاموں سے بچتے تھے۔ جس کی وجہ سے کراچی کے مہاجر طلباء میں ایک اشتعال پیدا ہوا اور کراچی یونیورسٹی میں مہاجر سٹوڈنٹ موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی اور اس میں ہنگامہ آرائی کو بنیادی حیثیت دی گئی۔

اس تنظیم نے کراچی یونی ورسٹی میں ہنگامہ آرائی سے اپنا مقام بنایا اور مہاجروں کے علاوہ سارے طلباء کو اپنے زیر کر لیا۔ جمعیت چونکہ ایک پر امن تنظیم تھی اس لئے اس نے کراچی یونیورسٹی میں مار بھی بہت کھائی اور پسپائی بھی اختیار کر لی‘ مہاجر سٹوڈنٹ موومنٹ نے ساری کراچی یونیورسٹی اور دیگر کالجوں میں اپنی دھاک بٹھا دی‘ ادھر ملکی حکومت کو جماعت اسلامی کے زور کو کم کرنا مقصود تھا اس لئے فوجی حکومت نے اس جماعت کی سر پر ستی کی‘اس جماعت کے رابطے ہندوستان سے بھی تھے۔ اسلئے کہ ایک تو مہاجروں کے خاندان ہندوستان میں بھی تھے اوریہ لوگ اکثر اوقات ان سے ملنے ہندوستان جایا کرتے تھے۔ اور ہندوستان کو ان کی دہشت گردی کی وجہ سے آسان شکار مل گئے اور اُس نے پاکستان میں اور خصوصاً کراچی میں دہشت گردی کو فروغ دینے کیلئے اس کے کارکنوں کو استعمال کرنے کی ٹھانی اور بڑی آسانی سے یہ کام کر لیا۔ تازہ ترین خطابات میں الطاف حسین نے کھل کر اپنے کارکنوں کو پاکستان کیخلاف کام کرنے کا عندیہ دیا جس کے خلاف رینجرز نے سخت ایکشن لیا اور خصوصاًایم کیو ایم کے ٹارگٹ کلرز اور دہشت گرد ونگ کیخلاف بھر پور ایکشن لیا جس سے پاکستانی مہاجروں نے الطاف حسین کو خیر آباد کہہ دیا اور الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف با ت کی وجہ سے اُس کو اپنی جماعت کا سربراہ ماننے سے انکار کر دیا‘ جس سے یہ جماعت دو حصوں میں بٹ گئی۔

لندن کی جماعت الطاف حسین کو ہی اپنا سربراہ مانتی ہے او راُس کے کہے کو حرف آخر تسلیم کرتی ہے اس لئے یہ پاکستانی جماعت کہلانے کا حق بھی نہیں رکھتی اور اس ملک میں رہنے کا جواز بھی کھو چکی ہے اور انکو پاکستان میں سیاست کی بالکل اجازت نہیں ہونی چاہئے ۔اس لئے کہ یہ اب پاکستانی نہیں ہیں۔پاکستان کو مردہ باد کہنے والا کس طرح پاکستان کا شہری ہو سکتا ہے ؟ ہم تو کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم لندن کو لندن میں ہی سیاست کرنی چاہئے اسلئے کہ سارے برطانیہ کے شہری ہیں۔ ان کا لیڈر الطاف حسین ہے اور الطاف حسین پاکستان کو نہیں مانتا اسلئے ان میں کسی کو پاکستان میں سیاست کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور جو بھی پاکستان میں الطاف حسین کو اپنا لیڈر مانتا ہے اُس کو بھی پاکستان بدر کرنا چاہئے۔