بریکنگ نیوز
Home / دلچسپ و عجیب / مون سون میں زیادہ گرمی کیوں لگتی ہے؟

مون سون میں زیادہ گرمی کیوں لگتی ہے؟

مون سون کا موسم بارشوں کے ساتھ ہر چہرے پر خوشی بکھیر دیتا ہے مگر کیا کبھی اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ اس موسم میں عام گرم دنوں کے مقابلے میں زیادہ گرمی کیوں لگتی ہے؟

تو اس کا جواب فضاءمیں موجود نمی میں چھپا ہوا ہے۔

جی ہاں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب فضاءمیں نمی زیادہ ہو تو حبس یا گرمی زیادہ کیوں لگتی ہے؟

اس کا جواب آپ کے جسم کا ارگرد موجود ہوا سے تعلق ہے۔

ہوا میں نمی بنیادی طور پر فضاءمیں موجود پانی کے بخارات کی تعداد کا پیمانہ ہوتا ہے۔

جتنا زیادہ ہوا میں نمی ہوگی، اتنا ہی کم آپ کا جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے میں کامیاب ہوسکے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب موسم بہت گرم ہو تو لوگوں کو پسینہ آتا ہے، جس کے بعد جسمانی حرارت اس پسینے کو بخارات بنا کر اڑا دیتی ہے جس سے لوگ خود کو زیادہ بہتر یا ٹھنڈا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

مگر نمی اس عمل کو کام ہی نہیں کرنے دیتی۔

جب فضاءمیں نمی زیادہ ہوتی ہے پسینے کی شکل میں پانی جسم سے زیادہ تیزی سے بخارات بن کر اڑ نہیں پاتا، بلکہ یہ جلد کے قریب حرارت کو قید کرنے کا باعث بنتا ہے۔

اس کے نتیجے میں آپ کو زیادہ گرمی مھسوس ہوتی ہے اور ایسا ہونے پر ہیٹ اسٹروک کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر درجہ حرارت 31 ڈگری ہو اور ہوا میں نمی 85 فیصد تک ہو تو یہ درجہ حرارت انسانی جسم کو 43 سینٹی گریڈ کا محسوس ہوتا ہے۔

اس موسم میں پولی ایسٹر سے بنے ملبوسات کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے جبکہ کاٹن نمی کو قید کرکے جسم کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیتا۔