بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / وزیراعظم نواز شریف کا مستعفی ہونے سے انکار

وزیراعظم نواز شریف کا مستعفی ہونے سے انکار

اسلام آباد۔وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے پانامہ کیس کی تحقیقات کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے،جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے ذاتی کاروبار کے بارے میں مفروضوں، الزامات اور بہتانوں کا مجموعہ ہے،ہمارے خاندان نے سیاست سے کچھ نہیں کمایا،کھویابہت کچھ ہے،1937سے کاروبارکررہے ہیں،ہمارے خاندان کاسیاست میں آنے سے پہلے کاروبارہے،میرے پانچ ادوارحکومت کی کرپشن کاثبوت سامنے لایاجائے،گذشتہ چار سال میں ہم تعمیر و ترقی کا اتنا کام کیا جتنا دو دہائیوں میں نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پھر سے اندھیروں کو اپنی بستیوں اور کارخانوں کا رخ نہیں کرنے دینگے،جمہوریت فروش اور سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں؟ اللہ کے فضل و کرم سے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں، وقت آنے پر سب راز کھل جائیں گے۔جمعرات کو وزیر اعظم نوازشریف کی زیر صدارت وزیراعظم ہاؤس میں کابینہ کا اجلاس ہوا،جس میں ملک کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیاگیا۔اس کے علاوہ پاناما اسکینڈل پرمشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پرباضابطہ حکومتی پالیسی طے کی گئی اور آئینی وقانونی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کابینہ نے اوگرامیں ممبرگیس کی تعیناتی کیلئے شرائط و ضوابط کی منظوری سمیت سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کمپنی کے ایم ڈی کے تقرر کی منظوری بھی دے دی۔

اجلاس میں نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کا نام تجویزکرنے کے لیے حاصل بزنجو، مریم اورنگزیب ، عرفان صدیقی اور بیرسٹر ظفر اللہ پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دے دی ۔اجلاس سے خطاب کے دوران نوازشریف نے کہا کہ جوزبان رپورٹ میں استعمال ہوئی ہے اس سے بدنیتی نظر آتی ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے مجھے منتخب کیا ہے، سازشی ٹولے کے کہنے پراستعفیٰ نہیں دوں گا۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ ہمارے ذاتی کاروبار سے متعلق الزامات کامجموعہ ہے،ہمارے خاندان نے سیاست سے کچھ نہیں کمایا،کھویابہت کچھ ہے، 1937سے آبائی کاروبارکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر سے اندھیروں کو اپنی بستیوں اور کارخانوں کا رخ نہیں کرنے دینگے،وزیراعظم نے کہا کہ کیا جمہوریت فروش اور سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ دے دوں؟ اللہ کے فضل و کرم سے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں، وقت آنے پر سب راز کھل جائیں گے۔

وہ وقت زیادہ دور نہیں تعمیر و ترقی کے سفر کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں ان تماشوں کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1985ء سے لے کر آج تک 32 برسوں میں ایک پیسے کی خوردبرد کی ہو تو بتاؤ، تم تو یہ الزام تک بھی نہیں لا سکتے۔