بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا غریب دوست اقدام ،پرویز خٹک

صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا غریب دوست اقدام ،پرویز خٹک


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ صحت کی گورننس کی بہتری کے لئے جو اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں انکا مقصد غریب آدمی کی فلاح تھا جو ان بنیادی سہولیات سے محروم تھا۔ صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا غریب دوست اقدام ہے۔صحت انصاف کارڈ کی کوریج اٹھارہ لاکھ خاندانوں سے بڑھا کر چوبیس لاکھ خاندانوں تک کی جا رہی ہے۔ اس سال مزید دس لاکھ کارڈ دیں گے جو مجموعی آبادی کا 70فیصد بنتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ ضلعی حکومتوں کے لئے دس فیصد وسائل صحت پر خرچ کرنا لازمی ہے۔ صوبائی حکومت اس میں مزید وسائل ڈالے گی۔بنیادی مراکزصحت کی سولرائزیشن پر 36کروڑ روپے خرچ کر رہے ہیں۔وہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں محکمہ صحت کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے خصوصی شرکت کی جبکہ صوبائی وزیر برائے صحت شہرام خان تراکئی کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو محکمہ صحت میں صوبائی حکومت کی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ صحت کے بجٹ کو 18ارب سے بڑھا کر 65ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

فور ٹائر فارمولہ کے تحت میڈیکل افسران کی تعداد دو گنا سے بھی بڑھا دی گئی ہے۔ ہسپتالوں میں بیڈز کی تعداد میں 27فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ 18,188بیڈز فعال ہیں جبکہ 5070بیڈز پراسس میں ہیں۔ویکسینیٹرکی تعداد بڑھا کر فی یونین کونسل دو سے زائد کر دی گئی ہے جو بین الاقوامی معیار سے بھی زیادہ ہے۔ڈینٹل سرجنز کی 850 آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔175سپیشلسٹ بھرتی کئے گئے ہیں۔او پی ڈی کوریج کو 14.623سے بڑھا کر 24.715کر دیا گیا ہے۔آبادی پر فی ڈاکڑ شرح کو دوگنا کر چکے ہیں۔per capita expenditureکو 6.92امریکی ڈالر سے بڑھا کر 22.88ڈالر کر دیا گیا ہے۔

کینسر کا علاج دو گنا کرکے تقریباً دو ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ برن سنٹر ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت وفاقی حکومت نے بنانا تھا مگر اس نے کوئی دلچسپی نہ لی اب اسکے اخراجات 300ملین روپے سے بڑھ کر پانچ ارب تک چلے گئے ہیں ۔ صوبائی حکومت یو ایس ایڈ کی مدد سے برن سنٹر قائم کر رہی ہے جو پی ایس ڈی پی میں کلیئر ہو چکا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ اصلاحات کا مرکز و محور غریب عوام ہیں جن کو صحت کی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں تھیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انکی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق غریب پر سرمایہ لگا رہی ہے۔صحت انصاف کارڈ اس سلسلے میں ایک مثالی اقدام ہے جس پر اب تک 70کروڑ روپے خرچہ آ چکا ہے ہم نے پہلے 18لاکھ خاندانوں کو کارڈ دیئے جو مجموعی آبادی کا 51فیصد بنتا ہے۔

اس سال صحت انصاف کی کوریج کو 24لاکھ خاندانوں تک بڑھا رہے ہیں جو مجمو عی آبادی کا 70فیصد ہو جائے گا۔ عمران خان نے صحت انصاف کارڈ کو زبردست اقدام قرار دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت نے مثال قائم کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسانیت کی فلاح کا کام ہے اور ہمارا ایجنڈا بھی انسانی ترقی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ غریب کو ٹارگٹ کریں۔ادارے تب مفید ثابت ہوتے ہیں جب ان میں مطلوبہ سہولیات میسر ہوں اور عوام ان سے استفادہ کر سکیں۔صحت انصاف کارڈ کے کامیاب اجراء میں درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہیلتھ فنانسنگ بڑا مسئلہ تھا مگر ہم نے اس پر قابو پا لیا۔جب جرمن حکومت کی مدد سے چار اضلاع میں صحت انصاف کارڈ شروع کر رہے تھے تو وہ اس منصوبے کو ناقابل عمل اور نا ممکن کہہ رہے تھے مگر ہم نے اسے ممکن اور قابل عمل کرکے دکھایا۔

وزیر اعلیٰ نے ضلعی سطح پر بھی صحت کے شعبے میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت کی کہ تمام ضلعی حکومتوں کے لئے لازم ہے کہ وہ دس فیصد فنڈ صحت پر خرچ کریں۔انہوں نے وزیر صحت اور سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ ایم ٹی آئی بورڈز کی مانیٹرنگ کریں۔کنفلکٹ آف انٹرسٹ کا خاص خیال رکھیں اور اسکا سمجھوتہ نہ کریں۔ عمران خان نے بھی بورڈز میں قابل لوگوں کو آگے لانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بورڈز کا از سر نو جائزہ لیں جو لوگ مطلوبہ استعداد نہ رکھتے ہوں انکو تبدیل کریں ایماندار لوگ آگے لائیں تاکہ غلط کاموں کو روکا جا سکے۔ انہوں نے اس سلسلے میں حیات میڈیکل کمپلکس کی طرز کو اپنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ اصلاحات کے ایجنڈا میں درپیش رکاوٹیں دور کریں ۔ سٹیٹس کو کی قوتیں تبدیلی کی مزاحمت کرتی ہیں ۔ اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ۔