بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / یونیورسٹیوں میں کوٹے کی نشستیں ختم کرنے کا فیصلہ معطل

یونیورسٹیوں میں کوٹے کی نشستیں ختم کرنے کا فیصلہ معطل


پشاور۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے پشاورہائی کورٹ کی جانب سے مختلف سرکاری کالجوں اوریونیورسٹیوں میں مخصوص نشستوں کوختم کرنے کے فیصلے کومعطل کردیاہے۔

عدالت عظمی کے فاضل بنچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز پشاوریونیورسٹی اوراسلامیہ کالج یونیورسٹی کی جانب سے دائرپٹیشن کی سماعت کے دوران جاری کئے پشاوریونیورسٹی کی جانب سے وسیم الدین خٹک ایڈوکیٹ اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی جانب سے قاضی جواد نے پٹیشن پیروی کی۔

اس موقع پر عدالت عظمی کو بتایاگیاکہ پشاورہائی کورٹ نے18مئی2017ء کو خیبرپختونخواکے جامعات میں یونیورسٹی ملازمین کو نشستوں میں کوٹے کو کالعدم قرار دیاتھا علاوہ ازیں اس میں حافظ قرآن ٗ کھیل سے متعلق کوٹہ کی نشستوں کو بھی ختم کردیاتھا اورعدالت عالیہ نے صرف پسماندہ علاقوں اورمعذوروں کاکوٹہ بحال رکھاتھا جبکہ درخواست گذار یونیورسٹی ملازمین ہیں اوران جامعات میں ان کے بچوں کوتعلیم کاحصول ان کابنیادی حق بنتاہے اوریہ کوٹہ صرف انٹرمیڈیٹ کی سطح پر دیاجاتا ہے جبکہ ہائی کورٹ نے اس فیصلے میں اپنے اختیارات سے تجاوزکیاہے سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ریکارڈ پرموجود ہیں جن میں کوٹہ سسٹم بحال رکھاگیاہے۔

لہذاعدالت عالیہ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے عدالت عظمی کے فاضل بنچ نے ابتدائی دلائل کے بعد پشاورہائی کورٹ کافیصلہ معطل کرتے ہوئے داخلوں میں یونیورسٹی ملازمین کے بچوں کاکوٹہ بحال قرار دیااورہائی کورٹ کے درخواست گذار دانیال ولد عیسی خان ایڈوکیٹ کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے ۔