بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس

وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس


وزیراعظم نواز شریف نے مستعفی نہ ہونے کا دوٹوک اعلان کیا ہے جس کی توثیق وفاقی کابینہ کے ارکان نے بھی کردی ہے خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم کے فیصلے کا ارکان نے ڈیسک بجاکر خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں مسلم لیگ(ن) نے استعفے کا مطالبہ کرنیوالوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لئے اس سے ایک روز پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت منعقد ہونیو الے مشاورتی اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ اجلاس میں اس حوالے سے قانونی جنگ لڑنے کیلئے4 بڑے قانون دانوں کی خدمات حاصل کرنے کاعندیہ دیاگیا۔ نواز شریف نے اس اجلاس میں بھی کہا کہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائیگی اسی روز وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے بھی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کر دیا۔ اسی روز عدالت میں نواز شریف کی نااہلی کیلئے درخواست بھی دی گئی۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مستعفی نہ ہونے کے دو ٹوک اعلان کیساتھ بعض دیگر اہم فیصلوں کی منظوری بھی دی گئی۔

جہاں تک پانامہ پیپرز کا سوال ہے تو اس کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ سے ابھی آنا باقی ہے۔ وطن عزیز میں اس وقت معاشی استحکام کیلئے انتہائی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے اقتصادی ترقی کے حوالے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ بلاشبہ اہم سنگ میل ہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ہر صورت کامیاب بنایاجائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2030ء تک اقتصادی شراکت داری کا کامیاب حصول میرا خواب ہے جنرل قمر جاوید باجوہ سی پیک کیلئے خطے میں امن کو ناگزیر قرار دیتے ہیں عین اسی روز جب آرمی چیف خصوصی سیمینار میں سی پیک کی کامیابی کیلئے کوششوں کے عزم کا اعادہ کررہے تھے خیبر پختونخوا حکومت نے اقتصادی راہداری منصوبے کی سیکورٹی کیلئے 1000 اہلکار بھرتی کرنے کا اعلان کیا۔ ترقی و منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ کراچی پشاور ایم ایل وَن منصوبہ2018ء کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ پانامہ پیپرز پر سیاسی تناؤ اپنی جگہ وطن عزیز کی معیشت کے استحکام اور اس سے جڑے سی پیک سمیت دوسرے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے مربوط کوششیں ناگزیر ہیں جن کیلئے سینئر سیاسی قیادت کو اہم کردار اداکرنا ہے۔

برن سنٹر پر ہائی کورٹ کے ریمارکس

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں برن سنٹر نہ ہونے کے باعث جھلسے ہوئے لوگ مرجاتے ہیں مگر حکومت اس سنگین مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی، خیبر پختونخوا کی علاج گاہوں میں صوبے کیساتھ قبائلی علاقہ جات اور افغان مہاجرین کو بھی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ صوبے میں برن سنٹر کے قیام کیلئے اراضی 2009ء ہی سے مختص ہے تاہم سنٹر اب تک آپریشنل نہیں ہوسکا موجودہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے تاہم برن سنٹر جیسے اہم منصوبے میں تاخیر حکومتی ترجیح اور عملی اقدامات کے درمیان فاصلہ ظاہر کررہی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ وزیراعلیٰ خود برن سنٹرکے قیام کیلئے ڈیڈ لائن دیں اور اس میں تمام مطلوبہ سہولیات یقینی بنائی جائیں۔